عرب دنیا میں امن کوششیں

شام میں خانہ جنگی تقریباً 2010 سے شروع ہوئی جب قبائل کے آپسی معاملات بگڑ گئے اور ایک خونریز دور کا آغاز ہوا۔ پھر دونوں فریقین کے پیچھے مدد کرنے والوں کے مفادات کا ٹکراؤ ہوا۔ اس دوران ہزارہا لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے۔ بہرحال اس جنگی کیفیت کا سب سے بڑا شکار اپنے ہم وطن ہوئے۔ اپوزیشن کے قبائل کو امریکی ہلہ شیری میسر تھی اور حکومت کو ایران اور روسی تائید حاصل تھی۔ لٹے پٹے مہاجرین در در ٹھوکریں کھاتے ہوئے ہمسایہ ممالک میں پناہ گزین ہو گئے مگر چین وہاں بھی نہ پایا۔
لبنان اور اردن قریبی ہمسائے ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، اب لبنان میں یہ تحریک چلی ہوئی ہے کہ شامی مہاجرین سے نجات کی کوئی سبیل نکالی جا سکے، کیونکہ ان مہاجرین کیمپوں میں اکثر لوگ نشہ آور ادویات اور کم ترین کوالٹی کا نشہ فروخت کرتے ہیں جو آمدن کا ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ ہتھیاروں اور ایمونیشن کا بھی سرعام خرید و فروخت ایک اہم معاملہ بن گیا ہے۔ بہت سے شامی یورپ تک بھی پناہ گزین بن کر پہنچے۔
ان ممالک میں جو مسائل درکار ہیں ان پہ پھر کسی وقت میں بات کریں گے۔ اب تو بات شام کی عرب لیگ میں دوبارہ شمولیت کے حوالے سے کرتے ہیں۔ عرب وزرائے خارجہ نے شام کی کانفرنس میں شرکت کی متفقہ طور پر اجازت دے دی جس کا آغاز اتوار 14 مئی سے ہو گا۔ یہ کانفرنس قاہرہ مصر میں ہو رہی ہے۔ اس کا نقطۂ عروج سربراہی اجلاس ہو گا جو 19 مئی 2023 کو ریاض میں ہو گا۔ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد العبل الغیث کے مطابق شام ہی لیگ میں واپسی مرحلہ وار ہوگی جو اس کی ملکی سلامتی اور ترقی کے حوالے سے ہوگی۔ تعلقات میں یہ بحالی مکمل طور پہ شام کے ساتھ کسی ملک کی مکمل و غیر مشروط واپسی کا اظہار نہیں البتہ یہ کام دھیرے دھیرے آگے بڑھے گا۔
شامی وزیراعظم حسین آرنیواس کے شام پچھلے بارہ برس سے تنہائی کا شکار رہا ہے اس میں ان غلط فہمیوں کا عمل دخل زیادہ تھا جس کا فائدہ دشمنوں نے اٹھایا اور مسلمان باہم دست و پنجہ رہے اور اب تک کسی بہتری کے آثار نہیں ہیں۔ شامی صدر بشار الاسد نے آخری مرتبہ 2010 میں عرب لیگ میں شرکت کی تھی۔ پھر ایسی ایک کانفرنس جو 2013 میں انقرہ میں منعقد ہوئی تھی اس میں شامی اپوزیشن نے شرکت کی تھی تو شامی حکومت نے اس کی شدید مذمت کی تھی۔
اب حالیہ دنوں میں ایرانی صدر ریسی نے شام کا دورہ کیا ہے جہاں شام کی مدد و تائید و نصرت کے وعدے وعید ہوئے۔ عرب ممالک کو اب یہ احساس ہو چکا ہے کہ تنہائی و باہمی لڑائی جھگڑوں سے کچھ حاصل تو ہوتا نہیں تو کیوں نہ ایک تجربہ امن کوششوں کا کر لیا جائے۔ ایسی ہی بیداری کا نتیجہ تو سعودیوں اور ایرانیوں کا باہمی امن معاہدہ اس خوشگوار صبح نو کی جانب توجہ مبذول کراتا ہے۔ اب برف پگھلنا شروع ہوگی ہے۔ عربوں میں ایک احساس جاگزیں ہوا ہے ان کی دنیائے عالم۔ میں بقائے باہمی میں اور اتحاد میں ہی ممکن ہے ورنہ داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں۔

