دوسرے سیاروں پر ”زندگی“ کی تلاش
کائنات کی وسعت کو دیکھتے ہوئے جو سوال ذہن میں آتے ہیں وہ یہ کہ کیا ہم اس وسیع ترین کائنات میں اکیلے ہیں؟ کیا کسی اور سیارے پر زندگی ہے؟ اگر زندگی صرف زمین پر ہے تو اتنی وسیع کائنات کس کام کی؟ لیکن خدا کا تو کہنا ہے کہ کچھ بھی بے فائدہ پیدا نہیں کیا؟ ان سوالات کے جوابات کی کھوج میں دنیا بھر کے سائنسدان سرگرداں ہیں۔ زمین کے علاوہ اب تک لگ بھگ 4900 سیارے دریافت ہو چکے ہیں۔ عمومی طور پر دوسرے سیاروں پر زندگی کی بات سن کر صرف خلائی مخلوق (ایلینز) کا ہی ذہن میں خاکہ ابھرتا ہے جن کا قد کاٹھ انسانوں جیسا ہو۔
ایلینز کے حوالے سے ایک دلچسپ بات جاننا ضروری ہے کہ کسی سیارے پر اگر زندگی دریافت ہو بھی جاتی ہے تو وہ ایلینز انسان سے بہت مختلف ہوں گے۔ اس کی وجہ کشش ثقل یعنی گریویٹی ہے۔ اس زمین پر بسنے والے ہر جاندار کے جسم کی ساخت، قد، اعضاء سب گریویٹی کے لحاظ سے ایڈجسٹڈ ہیں۔ جس سیارے پے گریویٹی زمین سے کم یا زیادہ ہو گی، وہاں کے باسیوں کے ہاتھ، پاؤں، وزن، قد اور تمام اعضاء اسی حساب سے ایڈجسٹڈ ہوں گے۔ گریویٹی ہی یہ طے کرے گی کہ کس طرح کی مخلوق وجود میں آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہالی وڈ کی فلموں اور بچوں کے کارٹونز میں ایلینز کی شکلیں اور ساخت بہت عجیب و غریب دکھائی جاتی ہے۔
لیکن دوسرے سیاروں پر زندگی کی کھوج کرتے وقت سائنسدان اصل میں لفظ ”زندگی“ سے کیا مراد لیتے ہیں۔ دوسرے سیاروں پر زندگی سے مراد صرف انسان جیسی مخلوق نہیں بلکہ کوئی چھوٹے سے چھوٹا پودا بھی ہو سکتا ہے۔ کسی انسان نما مخلوق، جانور، درخت یا کسی حشرات العرض کا مل جانا تو کسی معجزے سے کم نہیں ہو گا۔ لیکن سائنسدان زندگی کی تلاش میں بنیادی طور پر تین چیزیں دیکھتے ہیں
موجودہ سائنسی علم کے مطابق زندگی کی کوئی بھی صورت پانی کے بغیر ممکن نہیں۔ سائنس کے مطابق زمین پر زندگی کا آغاز پانی میں ہی ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدان دوسرے سیاروں پر پانی کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہاں پر اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ قرآن میں سورت انبیاء میں بھی یہ بات بیان کی گئی ہے۔
ترجمہ:
”۔ ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے پیدا کیا۔“
دوسری چیز جس کی تلاش ہے وہ ہے مستحکم ایٹماسفیر۔ ایٹماسفیر کو ہم عام زندگی میں ہوا کا نام دیتے ہیں لیکن اس میں مختلف اقسام کی گیس ہوتی ہے جو زندگی کو فروغ دیتی ہے۔ ہمارے پلینیٹ ارتھ کے ایٹماسفیر میں 78 فیصد نائٹروجن، 21 فیصد آکسیجن اور 1 فیصد باقی گیسز ہیں جیسے کاربن ڈائی آکسائیڈ، آرگان وغیرہ۔ ایک مناسب ایٹماسفیر سیارہ کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرتا ہے جو کہ زندگی کی پیدائش اور افزائش میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کسی سیارہ پر پانی کے مل جانا اور مناسب ایٹماسفیر ہونا زندگی کے امکانات بڑھا دیتا ہے۔
تیسری چیز جس کی سائنسدانوں کو تلاش ہے وہ ہیں مائیکروبز۔ اب یہ کس بلا کا نام ہے؟
مائیکروبز کوئی بلا تو نہیں لیکن ان کی اہمیت بلا کی ہے۔ اگر یہ نا ہوتے تو زمین پر نہ انسان ہوتے، نا جانور اور نا ہی کوئی درخت۔ یہ وہ آرگنزمز ہیں جو آپ صرف مائیکروسکوپ میں ہی دیکھ سکتے ہیں۔ ان کی اقسام میں بیکٹیریا، پروٹسٹس، فنگی اور وائرس شامل ہیں۔ یہ ہمارے سیارے ”ارتھ“ پر ہر ماحول میں پائے جاتے ہیں، سمندر کی گہرائیوں سے لے کر بلند ترین پہاڑوں تک، ریگستان سے لے کر گلیشیرز تک اور خشک بنجر زمین سے لے کر سرسبز جنگلات تک۔
مائیکروبز ہمارے لیے کتنے اہم ہیں، اس پر کبھی الگ کالم لکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ دوسرے سیاروں پر زندگی کی تلاش میں سائنسدانوں کو خاص طور پر انہی مائیکروبز سے دلچسپی ہے کیونکہ ہمارے سیارے پر ارتقاء انہی کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ اگر یہ مائیکروبز کسی اور سیارے پر دریافت ہو جاتے ہیں تو یہ شاید انسانی تاریخ کی سب سے اہم ڈسکوری ہو گی جو یہ طے کرے گی کہ زمین کے علاوہ بھی کائنات میں زندگی موجود ہے۔


