مستقبل کی دنیا اور انسان


جس طرح دنیا سائنسی میدان اور ٹیکنالوجی میں ترقی کرتی جا رہی ہے۔ اس کے مضمرات انسان اور اس کرہ ارض پر کیا ہوں گے۔ آئیں اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے لئے پہلے ہمیں کرہ ارض کے تغیرات کا جائزہ لینا ہو گا۔ اگلے سو سالوں میں زمین کے اوسط درجہ حرارت میں اضافہ اور موسموں کے تغیرات کے علاوہ سطح سمندر میں بھی اضافہ قابل ذکر ہو گا۔ اس تغیراتی ماحول کے زیراثر انسانی و حیوانی اموات اور خوراک کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

حشرات کے خاتمے سے چرند و پرند سب پر اثر پڑے گا۔ جس کا آخر کار انسانی زندگی پر بھی اثر پڑے گا اور ایک صدی کے بعد انسانی اموات کا سلسلہ تیز تر ہوتا جائے گا۔ ایک تحقیقی اندازے کے مطابق 2050 ء تک سطح سمندر بلند ہونے سے کئی شہر اور جزیرے جو سمندر کے نزدیک ہوں گے کرہ ارض سے غائب ہو جائیں گے۔ مشینی روبوٹس کے آنے اور کام کرنے سے 50 فیصد نوکریوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ہر کام سمارٹ طور و طریقوں اور خود کارانہ نظام کے تحت انجام دیا جائے گا۔

روبوٹس اور ٹیکنالوجی دونوں تمام انڈسٹریز کی ہیئت کو تبدیل کر کے رکھ دیں گے۔ ڈرونز کی پرواز میں مزید جدت لائی جائے گی خواہ ان کا عام یا ملٹری سطح کا استعمال ہو اور خودکار کاریں انسانی زندگی سہل بنا دیں گی۔ انسانی معاشرہ ایک تبدیل شدہ معاشرہ ہو گا۔ کرہ ارض پر بولی جانے والی بہت سی زبانیں ناپید و متروک ہو جائیں گی۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے انسانی نشو نما پر بھی اثر پڑے گا۔ اور اس کی ہیئت تبدیل ہونی شروع ہو جائے گی۔ سائنسدانوں کے اندازے کے مطابق ایک ہزار سالوں میں نسل انسانی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ایک تحقیقی اندازے کے مطابق 2025 ء میں کرہ ارض کے درجہ حرارت میں 1.5 فیصد اضافہ انڈسٹریل ارتقا کے دور سے قبل کے درجہ حرارت سے زیادہ ہو گا اور یہ بڑھتا ہی چلا جائے گا تا آنکہ اس کا تدارک نہ کیا گیا۔

2050 ء کا ماحول آج کل کے ماحول سے یکسر مختلف ہو گا جس میں تعلیم، ذرائع آمدورفت اور انسانی رہن و سہن تبدیل ہو چکے ہوں گے۔ سائنسی ترقی کی بدولت بائیسویں صدی میں ذرائع آمدورفت برق رفتار اور موثر ہوں گے۔ انسانی ذرائع آمدورفت راکٹ کے ذریعے ہوں گے۔ خلاء میں انسانوں کو بہتر سہولیات میسر ہوں گی۔ اور یہ ان کی رہنے کی نئی جگہ ہو گی۔ موجودہ دور کے سپنے اگلی صدی میں حقیقت کا روپ دھارے لوگوں کے سامنے کھڑے ہوں گے۔

میڈیسن میں سائنسی ترقی کی بدولت انسانی صحت و عمر پر اثر پڑے گا اور کینسر جیسا موذی مرض قابل علاج ہو گا۔ مریض گھر بیٹھے ٹیکنالوجی کی بدولت اپنا علاج ڈاکٹر سے کروا سکیں گے۔ کمپیوٹر کی رفتار موجودہ دور کے کمپیوٹروں سے کئی گناہ زیادہ ہوگی۔ 3 ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کی بدولت کسی بھی چیز کو بآسانی اس کی ساخت کے مطابق بنایا اور ڈھالا جا سکے گا۔ انٹرایکٹو ہولوگرام ٹیلیویژن 2050 ء تک گھروں کی زینت بن چکا ہو گا۔ جو انسانوں کے سامنے موبائل فون کے ایک بٹن کے دبانے سے ظاہر ہو گا اور اس سے 3 ڈی اور ورچوئل فلمیں دیکھی جا سکیں گی۔

موجودہ دور میں بعض کاروں میں ڈرائیور سکرین کے سامنے سہولت کے لیے اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے تمام معلومات ڈسپلے ہوتی ہیں۔ اسی دور میں طالب علم تعلیم کے لئے بڑے بستے اٹھاتے نظر نہیں آئیں گے ان کی جگہ ٹیبلٹ اور لیپ ٹاپ لے لیں گے۔ ان میں طالب علموں کا تمام سلیبس موجود ہو گا۔ انہیں بڑی بڑی کتابیں اٹھانے سے چھٹکارا حاصل ہو گا۔ تختہ سیاہ کی جگہ ٹچ سکرین لیں گی جس پر اساتذہ آسانی کے ساتھ اشکال بنا سکیں گے۔ مستقبل کا انسان اپنے مدافعتی نظام، دماغی و جسمانی صلاحیتوں کو ٹیکنالوجی کی مدد سے بہتر بنانے کی جستجو کرے گا جس سے قدرتی عوامل کا استعمال مفقود ہوتا چلا جائے گا۔

اس انسانی ارتقا میں کچھ مثبت ترقیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ جن میں نئی انٹی بائیو ٹیکس و دوسری ویکسین کی ایجاد اور جمہوری معاشروں کا قیام ہے۔ جب کہ منفی طور دیکھا جائے تو نیو کلیاتی ہتھیار اور فاشزم کا دور بھی نظر آ رہا ہے۔ معاشرتی و ماحولیاتی تبدیلی سے 2050 ء تک ورلڈ بنک کے ایک اندازے کے مطابق اکثر انسانوں کے در بدر ہونے کا خدشہ ہے۔ نسل انسانی کا ارتقا جاری رہے گا بشرط انہوں نے اپنی نسل کو آگے بڑھانا جاری رکھا اور اس کی حفاظت کی۔ نسل انسانی ارتقا سے موجودہ ماحول تین طرح سے متاثر ہو رہا ہے۔

1۔ آبادی کی شرح میں اضافہ،

2۔ ماحولیاتی تبدیلیاں جن میں خصوصی طور زمین و سمندروں سے حاصل شدہ پیٹرولیم مصنوعات کے جلنے سے دھواں، اور 3۔ گلیشیروں کا پگھلنا ہے۔

اس سے زمینی کٹاؤ، ناقص کوالٹی کی ہوا اور خالص پینے کے پانی کا نایاب ہونے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ انسانی ارتقا ماحول پر اپنا اثر دکھا رہا ہے جیسے زمینی ساخت، پودوں کی اقسام و کاربن کے سائیکل میں تبدیلیاں محسوس ہوتیں نظر آ رہی ہیں۔ انسانی آبادی کے بڑھنے اور مکانات بننے سے زراعتی زمین کی کمی ہو گی جس کا اثر خوراک کی شدید قلت کی صورت میں پڑے گا۔ جنگلات بھی صفحہ ہستی سے مٹنے شروع ہو جائیں گے۔ سائنسدانوں کے مطابق اس ماحولیاتی تبدیلی سے انسانی نسل کے ارتقا سے انسان کی ساخت میں تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔

جن میں قابل ذکر انسانوں کے گھنے بال، بڑے سر اور مردوزن کے خدو خال میں نمایاں تبدیلیاں وقوع پذیر ہوں گی۔ ان سائنسدانوں کے اندازے کے مطابق ایک ہزار سال تک ہی نسل انسانی کی بقا ایسے حیاتی ماحول میں نظر آتی ہے۔ بلکہ اس سے قبل ہی یہ نسل متروک ہو جائے گی۔ سورج زمینی مدار کے انتہائی قریب ہو جانے سے درجہ حرارت ناقابل برداشت بڑھ جائے گا۔ انسانوں کی کمر اور گردن میں واضح تبدیلیاں متوقع ہوں گی اس کے علاوہ ان کے ہاتھوں اور آنکھ کے پپوٹوں کی ساخت میں تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی۔

اور ان کی ساخت موجودہ نسل انسانی کی ساخت سے مطابقت میں کافی تبدیلی لا چکی ہو گی۔ زراعت کے شعبے میں تبدیلی آئے گی زمین کی قلت کی وجہ سے عمودی زراعت کا رجحان بڑھے گا۔ اونچی عمارتوں کا زراعت میں استعمال لایا جانا و عمودی فارمز اور جینیاتی تبدیل شدہ فصلیں اور گوشت عام ہوں گے۔ موجودہ نوکریوں کی جگہ نوکریوں کے نئے شعبے متعارف ہو چکے ہوں گے۔ مثلاً خلاء کی سیرو سیاحت کی کمپنیاں، کمپیوٹرز و جینیاتی ماہرین کے شعبے اور عمودی زراعت کے ماہرین۔ اس کے علاوہ کئی دوسری نوکریوں کے نئے شعبے ہوں گے۔ جبکہ پرانے شعبے متروک ہو چکے ہوں گے۔ دنیا کا نظام مصنوعی ذہانت، متحرک کیمروں اور خودمختار ڈھانچوں پر قائم ہو گا۔

مستقبل میں چاند اور مریخ سائنسدانوں کی تحقیق کا محور ہوں گے۔ جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں ایک صدی بعد اس کا معاشرہ تبدیل شدہ ہو گا۔ موسمی و حرارتی لہریں عرصہ دراز کے لئے اور کثرت سے ہوں گی جس سے خوراک کی قلت اور خشک سالی بڑھے گی۔ حیات کی ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی تیز تر ہوگی اور انفیکشن سے لگنی والی بیماریوں کی بہتات ہو گی۔ ماحولیاتی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو گیں۔ اگلی صدی بارے صحیح پیش گوئی کوئی سائنسدان نہیں کر سکتا یہ سب قیاس آرائیاں و سائنسی اندازے ہیں۔

Facebook Comments HS