پولیس والے یا کرائے کے شہید
اپنے قاتل کی ذہانت سے پریشان ہوں میں
روز ایک موت نئی طرز سے ایجاد کرے
ڈیوٹی سے واپس آنے کے بعد کھلتے ہوئے چہرے کے ساتھ ہمارا حال پوچھنے ایک خوبرو جوان ہمارے بارک میں داخل ہوتا تھا اور اس کو دیکھ کر ہم بھی کھل اٹھتے تھے کیونکہ ٹریننگ کالج میں ہمارے جان پہچان کے چند دوستوں میں ایک اس مسکراتے ہوئے چہرے کے مالک عصمت علی بھی تھا، عصمت علی کا تعلق شانگلہ میں میرے ہی گاؤں سے تھا اور ٹریننگ کالج کے پہلے چند ہی دنوں میں اس سے بہت ہی گہرا تعلق بن گیا تھا۔ پہلے مہینے میں تقریباً ہر روز وہ ہم سے ملنے آتا تھا اور وہ پوچھتا تھا کہ کوئی مسئلہ تو نہیں؟
پھر وہ ہمیں حوصلہ دیتا تھا کہ ٹریننگ کالج میں تنگ نہیں ہونا، ان لمحوں کو انجوائے کرو یہ بہت ہی کم عرصہ ہے اور شروع کے دن تھوڑے مشکل ہوتے ہیں پھر بندہ ایڈجسٹ ہوجاتا ہیں، اس کے بعد اکثر میسج اور کال کے ذریعے وہ میرا حال پوچھتا تھا۔ اس کی پاسنگ آؤٹ سے پہلے ماہوار چھٹی کے دوران اس نے مجھے بازار میں دیکھ کر آواز دی اور وہی مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ گلے ملے، شاید یہ ہماری آخری ملاقات تھی، ہمارے بیچ خوب گپ شپ ہوئی ہم نے ساتھ میں کولڈ ڈرنک بھی پی لی۔ یہی ہماری آخری ملاقات تھی۔ 24 اپریل کو کبل سوات میں بم دھماکے کے بعد میں نے اس کا نمبر بارہا ملانے کی کوشش کی لیکن عصمت علی جام شہادت نوش کر گئے تھے۔ عصمت علی عید گزارنے کے بعد کل دوپہر ڈیوٹی سرانجام دینے کے لئے سوات گئے تھے اور سوات جاتے ہی ایک ایسی جگہ چلے گئے جہاں سے واپسی اب ناممکن ہیں۔
ہم پولیس والے بھی عجیب مخلوق ہیں، موت کو سامنے دیکھتے ہوئے بھی اسے گلے لگانے سے دریغ نہیں کرتے، نہ ہماری عید ہوتی ہیں اور نہ ہماری کوئی سوشل لائف، نہ ہم اپنے پیاروں کو وقت دے پاتے ہیں اور نہ ہم اپنی زندگی جیتے ہیں یہاں تک کہ ہمیں تنخواہوں کے لئے بھی ذلیل و خوار ہونا پڑتا ہے لیکن پھر بھی جان کی بازی لگا دیتے ہیں اور ملک و قوم کی خاطر ایک ایسے نامعلوم دشمن سے لڑنے نکل پڑتے جو شاید ہم سے زیادہ طاقتور قوتوں کے ہاتھوں پروان چڑھ چکا ہے۔ جو خاموشی سے آ کر بہت مہارت اور مضبوطی سے وار کر کے ہمیں بھیڑ بکریوں کی طرح مارتا ہے اور پھر جن کی طرح غائب ہوتا ہے۔ ہمیں مارنے کے بعد ہمارے جنازے اٹھائے جاتے ہیں، سلامی دی جاتی ہے، مذمتیں ہوتی ہیں، ہمارے جنازے کی پہلی صف میں سیاست دانوں کے فوٹو سیشن ہوتے ہیں اور پھر بڑی بے بسی سے ہمارے جنازے کو کندھا دے کر دشمن کو یہ پیغام دیا جاتا ہیں کہ ایک شہید کو ہم نے دفنا دیا اب آپ اگلا شہید دے سکتے ہیں۔
لیکن ہماری لاش پر ڈالی جانے والی مٹی کا ہر ایک ذرہ اس قوم سے یہ سوال کر رہا ہوتا ہیں کہ ہمیں کیوں مارا جا رہا ہے اور کون مار رہا ہے۔ ہمیں نہ تو اپنے دشمن کا پتہ بتایا جا رہا ہے اور نہ ہی ہمیں خود پتہ لگانے اور ٹھکانے لگانے دیا جا رہا ہے۔ ہمیں نہ تو جدید اسلحہ سے لیس کیا جا رہا ہے اور نہ ہمیں اس قسم کے بزدل دشمن سے لڑنے کی مہارت سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔ اگر اتنی بے بسی کی موت مرنا شہادت کہلایا جاتا ہیں تو پھر یہ شہادت ان لوگوں کو مبارک جنہوں نے اس جنگ کو ہم پہ مسلط کیا ہے۔ میں کیونکر ایک ایسے جنگ میں قربانی دوں جو نہ تو مجھے لڑنے دی جا رہی ہے اور نہ ہی مجھے اپنے دشمن کے بارے میں پتہ کرنے کا اختیار دیا جا رہا ہے۔
کبھی پولیو ڈیوٹی میں مارا جاتا ہے تو کبھی الیکشن ڈیوٹی میں، کبھی ٹارگٹ کر کے تو کبھی خودکش حملوں کے ذریعے، کبھی اغواء کر کے تو کبھی ذبح کر کے میری لاش بجلی کے کھمبے میں لٹکا کر یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ بھائی ہم تو تمہیں ایسے ہی ماریں گے تم نے جو بگاڑنا ہے بگاڑ لو۔ اور اگر پھر بھی ان کے وار سے میں بچ گیا تو اقتدار کے نشے میں مست لوگ ہمیں اپنی مہنگی گاڑیوں سے کچل دیتے ہیں اور اگر پھر بھی خوش قسمتی سے ہم ان تمام واردات سے بچ جاتے ہیں تو پھر ایک جان لیوا اور دل دہلا دینے والا حادثہ ہماری موت کا سامان کرچکا ہوتا ہے جو کہ ہمارے کمزور اور انگریز دور کے بوسیدہ نظام کا ثمر ہوتا ہے کیونکہ ابھی کبل دھماکے کے ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس دھماکے کی وجہ کوچ میں پڑے بارودی مواد کا پھٹنا بتایا جا رہا ہے جس میں عصمت علی شہید کی طرح 20 سے زائد جوان جو عید میں ڈیوٹی سرانجام دینے کے بعد کل شاید گھر آ رہے تھے یا شاید کل عید کے تیسرے دن ہی گئے تھے، جان کی بازی گئے۔
اس تمام تر صورتحال اور حالات و واقعات سے تو ہمیں اب یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ ہم کرائے کے شہید بنتے جا رہے ہیں، کیونکہ ہمارے ہاتھ پاؤں باندھ کر آنکھوں پر پٹی باندھ کر بے یار و مددگار معاوضہ دے کر دشمن کے آگے مرنے کے لئے پھینک دیا جاتا ہے جہاں ہمیں یا تو دشمن بے دردی سے مارتا ہے یا پھر ہم کسی انہونی حادثے کے شکار ہو جاتے ہیں۔
مضحکہ خیز بات تو یہ ہے کہ اپنی جان کی بازی لگانے اور آپ کے لئے کرائے کے شہید اور مقتول بننے کے لئے ہزاروں مواقع خود تلاش کرنے کے باوجود میں کرپٹ، میں بزدل، میں چور، میں بدتمیز، میں بد اخلاق اور میں ہی کام چور کہلایا جاؤ، آخر کیوں؟
عصمت سمیت اس دھماکے میں شہید ہونے والے تمام جوانوں نے اپنی فرض کی خاطر اپنی عید کے ساتھ ساتھ اپنی جان بھی قربان کردی، بس چند ہی دن کا ماتم ہو گا، نہ ہی اس معاملے کی تحقیقات ہوں گی اور نہ ہی حقائق جانچنے کی کوشش ہوگی، بس چند ہی دنوں بعد ہم سب یہ بھول جائیں گے اور پھر ہم ایک اور سانحے کا انتظار کریں گے۔
بس عصمت کا کھلتا ہوا چہرہ ہمیشہ کے لئے ہماری نظروں سے اوجھل ہو گیا، عصمت کے تین کمسن بچے یتیم ہو گئے اور اب اگلے عید وہ کس کو ابو کہہ کر پکاریں گے۔ میرے بھائی تمھاری جدائی کا صدمہ بہت گہرا ہے، اللہ ہمیں طاقت دے کہ ہم ثابت قدم رہے۔ آمین



امن صرف ایک صورت میں قائم ہوسکتا ہے!جب ہم سب مل کر ظالم کے خلاف ڈٹ جائیں! جوکہ پشتون معاشرے میں ناممکن نظر آرہا ہے 🥲