گوادر کا نیا انٹرنیشنل ائرپورٹ اور مقامی پڑھے لکھے نوجوانوں کا حق ملازمت


2007 سے شروع ہونے والے نیو گوادر انٹرنیشنل ائرپورٹ میں سوائے دو کے باقی سارے گھوسٹ ملازمین بھرتی کیے گئے ہیں۔ جو غیر مقامی ہیں۔

حال ہی میں 130 بھرتی ہونے والے ملازمین میں کوئی بھی گوادر سے تعلق نہیں رکھتا یہ زیادتی نہیں تو اور کیا ہے۔ نیو انٹرنیشنل ائرپورٹ گوادر کی تعمیر کے دوران علاقہ مکینوں سے ان کی ارضیات ایکوائر کی گئیں اور ایک تحریری معاہدے کے ذریعے بدلے میں علاقہ متاثرین کے لیے 50 ایکڑ اراضی پر مشتمل کالونی بنا کر دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا مگر یہ معاہدہ آج تک وفا نہ ہوسکا۔

ان خیالات کا اظہار سول سوسائٹی گوادر کے زیر اہتمام پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس سے ڈپٹی کنوینر چئیر مین محمد جان، واجل شتی، اقبال حمل، کے ڈی بلوچ گرانڈانی متاثرین کے لالہ حسن و دیگر نے اپنے خطاب میں کہا۔

انھوں نے کہا کہ نیو گوادر انٹرنیشنل ائرپورٹ کی تعمیر کے دوران اس وقت کے ڈپٹی کمشنر گوادر ریٹائرڈ کیپٹن وسیم احمد، ایف ڈبلیو او کے درمیان باضابطہ طور گرانڈانی کے مکینوں اور معتبرین کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ کیا گیا تھا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ گرانڈانی کے نئے ائرپورٹ متاثرین کے لیے 50 ایکڑ اراضی پر مشتمل کالونی بنا کر دی جائے گی اور انھیں زندگی کے تمام سہولتیں فراہم کی جائے گی۔ ائرپورٹ کی درجہ چہارم کی ملازمتوں سمیت گریڈ 16 کی بھی ملازمین میرٹ پر دی جائینگی اور اس دوران کہا گیا کہ علاقے کے نوجوانوں کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔ مگر یہ تمام باتیں اور معاہدے بے مقصد ثابت ہوئے اور ان پر آج تک عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ 2007 سے شروع ہونے والے نیو انٹرنیشنل ائرپورٹ گوادر میں اب تک درجہ چہارم کی دو پوسٹوں کے علاوہ سارے گھوسٹ ملازمین بیرون صوبہ بھرتی کیے گئے ہیں۔ جن میں ڈپٹی ڈائریکٹر سے لے کر انجینئرز اور مختلف کیٹگریز اور درجہ چہارم کی پوسٹیں شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حال ہی میں بھرتی کیے گئے 130 ملازمین میں کوئی ایک بھی گوادر سے تعلق نہیں رکھتا۔

انھوں نے کہا کہ گوادر سی پیک کا مرکز ہے اور کہا جاتا ہے کہ گوادر سی پیک کے ماتھے کا جھومر ہے یہاں پر شروع ہونے والے وفاقی اور صوبائی اداروں میں ملازمتوں پر پہلا حق مقامی نوجوانوں کا ہونا چاہیے لیکن بدقسمتی سے مقامی تعلیم یافتہ نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لے کر حصول روزگار کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں انھوں نے کہا کہ مقامی نوجوانوں کے ساتھ زیادتیوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔

انھوں نے کہا کہ ہمارا دو ٹوک موقف ہے کہ ہم مختلف محکموں کے ملازمتوں پر سیاسی عمل دخل ہر گز قبول نہیں کریں گے انھوں نے کہا کہ سول سوسائٹی ان زیادتیوں پر خاموش نہیں بیٹھی گی عوامی حقوق کی پاسداری ہر موقع پر کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ سول سوسائٹی عنقریب گوادر کی سیاسی جماعتوں طلباء تنظیموں کا گول میز کانفرنس کا انعقاد کر کے گوادر کے تمام مسائل پر مشترکہ لائحہ عمل طے کرے گی۔

اس موقع پر نیو انٹرنیشنل ائرپورٹ کی تعمیر کے دوران متاثرین گرانڈانی کے ساتھ ڈپٹی کمشنر گوادر و دیگر اکابرین کے مابین ہونے والے تحریری معاہدے کی کاپیاں بھی صحافیوں کو فراہم کی گیں۔

Facebook Comments HS