شاہ محمود قریشی اور فاضل ججوں کی آزادی کے پرچم
شاہ محمود قریشی ’انصاف کا جھنڈا‘ ہاتھ میں اٹھائے اڈیالہ جیل سے رہا ہوچکے ہیں اور انہوں نے اعلان کیا ہے کہ ’میں اس تحریک کا حصہ ہوں جو حقیقی طور پر آزاد اور خود مختار پاکستان دیکھنا چاہتی ہے‘ ۔ دیدہ وروں سے یہ پوشیدہ نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستانی سیاست میں گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے والے اور ایک ہمیشہ اقتدار اقتدار کھیلنے والے خانوادے سے تعلق رکھنے والے شاہ محمود قریشی کس ’آزادی و خود مختاری‘ کی بات کر رہے ہیں۔
شاہ صاحب اب لاہور میں عمران خان سے ملیں گے، کچھ دکھ درد بیان ہو گا اور کچھ بحران میں راستہ نکالنے کی سبیل کی جائے گی۔ شاہ صاحب نے فرمایا ہے کہ وہ ایک ماہ تک قید تنہائی میں رہے۔ لیکن اس تنہائی میں ضرور ایسی پیغام رسانی ہوئی ہوگی کہ شاہ صاحب بالآخر کسی ’حلف نامے‘ پر دستخط کیے بغیر رہا ہو گئے۔ اور نہ ہی انہیں اڈیالہ جیل سے سیدھا اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب جاکر پریس کانفرنس کرنا پڑی۔ کیوں کہ شاہ صاحب کی پریس کانفرنس ہو گئی تو تحریک آزادی کو سنبھالنے والا پھر کہاں سے دستیاب ہو گا۔ شاہ محمود قریشی بہت جہاں دیدہ ہیں لیکن اس ملک کے لوگ ایسے پر پیچ راستوں سے اتنی بار گزر چکے ہیں کہ ڈرائیور یا گائیڈ کے اعلان سے پہلے ہی جان لیتے ہیں کہ اگلا موڑ کس طرف لے کر جائے گا۔
شاہ صاحب نے انصاف کا جو پرچم قید تنہائی میں بیٹھ کر تراشا ہے، اس کے نقشے اور آب و تاب کے بارے میں اندازہ قائم کرنا مشکل نہیں ہونا چاہیے لیکن ملتان کے گدی نشین کا فرمان ہے کہ وہ اپنے زریں خیالات کے بارے میں تفصیلات عمران خان سے ’ہدایات‘ لینے کے بعد فراہم کریں گے۔ امید کرنی چاہیے کہ ہدایات کا یہ سلسلہ مختصر ہو اور قوم و ملک کو زیادہ مدت تک انتظار کی زحمت نہ اٹھانی پڑے لیکن شاہ محمود قریشی نے ’آزادی‘ کو جو علم بلند کرنے کا اعلان کیا ہے وہ اس ’حقیقی آزادی‘ سے مختلف لگتا ہے جس کی تلاش میں عمران خان کے دیوانے اپنی ریڈ لائن بچاتے بچاتے عسکری اداروں کی اس ریڈ لائن کو عبور کر گئے تھے جس کے اثرات کو ابھی تک محسوس کرنے اور سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ شاہ محمود قریشی کے ’مؤکل‘ زبردست ہیں یا زمان پارک میں مقیم غیبی طاقت کا دم خم تر و تازہ ہے۔ کیوں کہ جب شاہ محمود قریشی ایک ماہ کی جدائی کے بعد اپنے ’لیڈر‘ سے ملیں گے تو شاید گفتگو کا بنیادی نکتہ یہی ہو گا کہ کیا اب سیاست کا حق ’اصلی گدی نشین‘ کو دے دیا جائے تاکہ وہ اپنی کرامات سے سانپ بھی مار دے اور لاٹھی بھی سلامت رہے۔ یا پھر عمران خان اپنے حق قیادت پر کوئی مفاہمت کرنے پر آمادہ نہیں ہوں گے۔ اور شاہ محمود قریشی اپنے پرچم آزادی میں نئے رنگ بھرنے پر مجبور ہوں گے۔ ویسے شاہ محمود کے حوصلے کی داد ینی چاہیے کہ وہ ایک ایسے لیڈر کے ساتھ مفاہمت، مصالحت اور ’نیویں نیوں‘ ہو کر نکلنے کی بات کرنے والے ہیں جس نے سیاست کو بھی فاسٹ باؤلنگ سمجھ کر کھیلا ہے۔
عمران خان یہ نہیں دیکھتے کہ کس بال پر بیٹس مین چھکا لگا سکتا ہے اور کس سے گھبرا کر دفاعی پوزیشن میں آنے پر مجبور ہو گا۔ اگرچہ کرکٹ میں بھی گیم پلان بنایا جاتا ہے لیکن کپتان نے سیاسی کھیل میں کسی منصوبہ کی بجائے محض اپنی تیز گیند پھینکنے کی صلاحیت پر بھروسا کرنا ضروری سمجھا۔ اب ایک ہی بال پر چھکا کھانے اور لیگ بائی کے رنز دینے کے باوجود باقی ماندہ اوور مکمل کرنے پر بضد ہیں۔ شاہ محمود قریشی اسی غصیلے فاسٹ باؤلر کو دم لینے اور کھیل کو آگے بڑھانے کا مشورہ دیں گے۔ یہی مشن انہیں اڈیالہ سے سیدھا لاہور لے کر جا رہا ہے۔
اہل پاکستان مشاہدہ کرتے رہے ہیں کہ مذاکرات اور مصالحت کے بین بین ایک دوسرے کو زیر کرنے کی مہم کس تیزی سے جاری ہے۔ اس لئے دیکھنا ہو گا کہ شاہ محمود قریشی اور عمران خان کی ملاقات سے ایسا کون سا کرشمہ رونما ہوتا ہے کہ قومی سیاست کا درجہ حرارت کم ہو سکے اور سیاسی کھیل کو مارپیٹ، گالی گلوچ، الزام تراشی اور دھمکیوں کے علاوہ خوش فہمیوں سے نجات دلا کر حقیقت پسندی کی طرف لایا جا سکے۔
کرکٹ کی طرح سیاست میں بھی سب ٹیمیں دم خم کے ساتھ میدان میں اترتی ہیں اور جیت ہی کا ارادہ رکھتی ہیں۔ کوئی ٹیم ہمیشہ جیتنے کی دعویدار ہو یا مخالف ٹیم کی جیت کو دھاندلی قرار دینے کی کوشش کرے تو خود اس کے لئے امپائر انگلی اٹھانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ عمران خان اس وقت اسی قہر کی گھڑی سے گزر رہے ہیں۔ جس امپائر کی انگلی خان صاحب کے چہرے کے رنگ ڈھنگ دیکھ کر اٹھتی تھی، اب وہ عمران خان کو آؤٹ کرنے پر مصر ہے۔ اور وہ خود بلا ہاتھ میں پکڑے اصرار کر رہے ہیں کہ اگلی بال کرواؤ، میں نے تو چھکا لگانا ہے۔ شاہ محمود قریشی کو چھکے کا جوش کم کر کے کوئی بیچ کا راستہ تلاش کرنے کا مشکل بلکہ تقریباً ناممکن کام کرنا ہے۔ ورنہ اڈیالہ جیل دور ہے اور نہ ہی نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
اڈیالہ سے قومی سیاست کا اہم کھلاڑی رہا ہو کر ’آزاد و خود مختار‘ پاکستان کا پرچم تھامے لاہور کی طرف عازم سفر ہو رہا تھا تو چند میل دور اسلام آباد میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ اس بات پر اصرار کر رہا تھا کہ حکومت کیسے ججوں کی نیک نیتی پر شبہ کر سکتی ہے۔ اس سے تو عدلیہ کی آزادی کمپرومائز ہو جائے گی۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ کو سمجھانے کی کوشش کی کہ جب مفادات کا ٹکراؤ صاف دکھائی دے رہا ہو تو متعلقہ ججوں کو ایسے کسی کیس میں خود منصف نہیں بننا چاہیے۔ آڈیو لیکس کمیشن کیس میں دلائل دیتے ہوئے اٹارنی جنرل کا موقف تھا کہ ایک معاملہ میں تو چیف جسٹس صاحب کی خوش دامن بھی ملوث ہیں۔ اس لئے ججوں کی اپنی نیک نامی کے لئے مناسب ہو گا کہ وہ اس کیس کو سننے سے گریز کریں۔ تاہم چیف جسٹس اور جسٹس منیب اختر مصر رہے کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ یہ آڈیو کیسے بنیں اور انہیں کیسے آن لائن اپ لوڈ کیا گیا۔ اگر حکومت یہ تحقیقات کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی تو اسے کمیشن بنانے کا حق کیسے حاصل ہو گیا۔
چیف جسٹس کا یہ نکتہ قابل غور تھا کہ عدالتی کمیشن چیف جسٹس سے مشاورت کر کے قائم ہونا چاہیے لیکن بدقسمتی سے عدالت عظمی کے فاضل جج صاحبان اس نکتہ پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے ان ’چوروں‘ کو پکڑنا چاہتے تھے جنہوں نے قابل اعتراض مواد پر مشتمل آڈیو ریکارڈ کر کے عام لوگوں تک پہنچائیں۔
آڈیو لیکس کا یہ پہلو بھی بے حد اہم ہے کیوں کہ اس کا تعلق شہری آزادیوں اور بنیادی حقوق سے ہے۔ لیکن اس دلیل کے ساتھ ان آڈیو لیکس میں سامنے آنے والی معلومات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ممکن ہے کہ ٹیلی فون ٹیپ کرنے کا طریقہ غیر قانونی ہو۔ سپریم کورٹ میں دم خم ہو تو وہ ضرور اس معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر سکتی ہے لیکن جب اس معاملہ میں خود فاضل ججوں اور ان کے قریبی عزیزوں کے اسمائے گرامی سامنے آئیں تو گفتگو کے مواد کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس صورت میں جج حضرات غلط طور سے اصل موضوع کو نظر انداز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس اسکینڈل کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ابھی تک جن لوگوں کی بھی گفتگو سامنے آئی ہے اور جن لوگوں کے بارے میں یہ باتیں کی گئی ہیں، ان میں سے کسی نے بھی اس مواد کی تردید کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ آج کی سماعت کے دوران ہی چیف جسٹس اور بنچ میں شامل جج اگر اٹارنی جنرل کو زیر کرنے اور حکومت کو کٹہرے میں لانے کی بجائے محض یہ بتا دیتے کہ یہ مواد جعلی ہے۔ یا جو لوگ ان آڈیو لیکس میں بات چیت کر رہے ہیں، انہیں عدالت میں بلا کر بیان دلوا دیا جاتا کہ یہ آوازیں ان کی نہیں ہیں۔ اس آسان مرحلہ سے نکلنے کے بعد چیف جسٹس پوری اتھارٹی کے ساتھ حکومت سے مطالبہ کر سکتے تھے کہ اب ان عناصر کو تلاش کیا جائے جو ججوں کے بارے میں جعلی آڈیو تیار کرتے ہیں اور انہیں بدنام کرتے ہیں۔ تاہم فاضل جج حضرات نہ تو اس معاملہ میں ’مفادات کے ٹکراؤ‘ کے اصول کو مان رہے ہیں اور نہ ہی اس اعلیٰ عدالتی روایت پر عمل کر رہے ہیں کہ اگر کسی جج کی جانبداری کے بارے میں شبہ ہو تو وہ رضاکارانہ طور پر متعلقہ بنچ سے علیحدہ ہو کر قانون کو اپنا راستہ بنانے کا موقع دے۔
اس کے برعکس سماعت کے دوران یہ بحث کی گئی ہے کہ وزیر داخلہ نے کیسے ان آڈیو لیکس کو درست قرار دیتے ہوئے پریس کانفرنس کی۔ جسٹس منیب اختر نے اصرار کیا کہ ایسے اسکینڈل کے بعد وزیر داخلہ کو استعفی دینا چاہیے یا انہیں اس عہدے سے نکالنا چاہیے تھا۔ حیرت ہے کہ جو جج خود اپنی بے گناہی کا سادہ سا اعتراف بھی کرنے پر آمادہ نہیں ہیں، وہ ایک وفاقی وزیر کی پریس کانفرنس پر اس سے استعفی کی توقع کر رہے ہیں۔ کیا اس مرحلہ پر معزز جج حضرات سے پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر ان آڈیو لیکس میں شامل مواد درست ہے اور عدالت عظمی کے کچھ جج سیاسی میلانات رکھتے ہیں جو ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں تو اس مسئلہ کا کیا حل تلاش کیا جائے گا؟ کیا ملک کا آئین ججوں کو سیاسی نظریات کے مطابق فیصلے کرنے کا حق دیتا ہے؟
چیف جسٹس نے زیر غور معاملہ کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کرتے ہوئے یہ وعدہ ضرور کیا ہے کہ بنچ اپنے سامنے لائے گئے تمام پہلوؤں پر غور کرے گا۔ البتہ اس وقت چیف جسٹس نے عدلیہ کی آزادی کا جو بیڑا اٹھایا ہے، اس کے تحت بنچ کے تین جج خود ہی فیصلہ کریں گے کہ کیا وہ انصاف کر سکتے ہیں۔ دنیا بھر کی عدالتی روایت کے مطابق تو عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری یقینی بنانے کے لئے اس سے متضاد رویہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ یعنی جن ججوں پر انگلی اٹھ جائے وہ انصاف کی کرسی سے اٹھ جائے۔
آزادی و انصاف کے لئے شاہ محمود قریشی کے علم اور آزاد عدلیہ کے لئے چیف جسٹس کے پرچم میں یہ مماثلت دیکھی جا سکتی ہے کہ دونوں نئی روایت قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگرچہ یہ روایت بھی اپنی اصل میں نئی نہیں ہوگی۔ ملک کی تاریخ میں سیاست اور انصاف کے ساتھ ہمیشہ وہی سلوک کیا گیا ہے جو اب شاہ محمود قریشی سیاست اور چیف جسٹس عدالت کے ساتھ کرنے کے درپے ہیں۔


