آم، عوام اور حکمران
دنیا میں کتنے ذائقے ہیں، پر پاک و ہند میں مٹھاس ہی پیمانہ ہے، کم میٹھا، شدید میٹھا اور فقط میٹھا ہی قابل قبول ہے، یہی وجہ ہے کہ آم اس خطہ ارضی پہ بہت مقبول ہے، حسب روایت بازاروں، سڑک کناروں اور ٹھیلے ٹھالوں پہ آم کی اتنی فراوانی ہے کہ عام ہو گیا ہے، نہ جانے کیوں اس عامی آم سے مزاج ملا ہی نہیں، اس کی چپچپاہٹ اور وافر بہتے شیرے سے عجیب اکتاہٹ سی ہوتی ہے، سیاسی گماشتوں کا گمان ہوتا ہے جو خوامخواہ چپکے ہی چلے جاتے ہیں بھلے دروازہ نمبر 4 بند ہی کیوں نہ ہو، پر آمی (خاکی نہ پڑھا جائے ) لوگ چپکے شیرے کو چاٹ چاٹ کے ہاتھوں سے صاف کرتے ہیں اور فخر کرتے ہیں۔
مرحوم ڈاکٹر عامر لیاقت کے پروگرام میں آم کی درگت سے سب واقف ہوں گے ۔ اب کترینہ یا ماہرہ جتنی مرضی نفاست سے آم کھاتی نظر آئیں، ڈاکٹر صاحب کے پروگرام والا لتھڑا ہوا منہ اور آم یاد سے نہیں جاتا اور طبیعت مائل ہی نہیں ہوتی، شاعروں نے دیوان لکھے، آم کے کافروں کو نامناسب القابات سے نوازا (ٹویٹر، فیسبک، پہ پھبتیاں کسی) اور کیا کچھ نہیں کیا، پر جو انکاری ہیں وہ انکاری ہے رہے۔
سچ بات یہ ہے ہمارا قومی مزاج بھی آم کی طرح عامی ہے، اب دیکھیں نہ ترکیہ میں صدارتی حلف کی تقریب میں کس (ع) عامیانہ طریقے سے آم کی پیٹی کا ڈھنڈورا پیٹا اور زبردستی معانقہ کیا، اگر صوتی اثرات ہوتے تو شاید یہ سنائی دیتا، ”بہن (خاتون اول) آدھی پیٹی آپ کی اور آدھی آپ کی (مرد آخر؛ ترکیہ والوں کو عرصہ دراز سے کوئی اور ملا ہی نہیں )“ شکر ہے یہ نہیں کہہ دیا کہ آپ بہن بھائی آدھی آدھی کر لیں۔
آم کا رنگ اور ذائقہ بھی رنگ بدلتے جانور کی طرح ہے، جوں جوں اسلام آباد یا صوبائی دارالخلافہ کی قربت ہو چپچپاہٹ اور لسوڑا پن بڑھتا چلا جاتا ہے، شہر اقتدار سے ہجر بڑھاتے جائیں، آم کی لذت، چاشنی اور خوشبو میں بقدر اضافہ ہو جاتا ہے، اور تو اور قدرت کا نظام بھی جنوب کے آموں کی شمال میں ترسیل کو پسند نہیں کرتا اور جس کسی نے بدلتی ہواؤں کے موسم میں شمال والوں کی جھولی میں گرنا پسند کیا وہ نظروں سے ہی گر گیا، بھلے و ڈیوو بس میں تحفتا بھیجا آم ہو یا جنوبی پنجاب تحریک کا کوئی نابغہ ہو، دونوں ایسے شجر سے بچھڑے کہ کہیں کے نہ رہے گل سڑ کے بدبودار ہو گئے۔
اور تو اور سندھ دھرتی واسیوں میں جی۔ ڈے۔ اے ہو یا فنکشنل ہو عوام نے ایسوں کو مسترد ہی کیا، اگرچہ دروازہ نمبر 4 نے پذیرائی کی اور گلے لگایا پر وہی بات کے آم کتنا ہی عامیانہ کیوں نہ ہو جائے عوام کو تازہ اور اپنی زمین کا آم ہی پسند ہے۔
چلیں احباب کی خوشی کہ لئے لگے ہاتھوں ایک آم سے ہاتھ صاف کر ہی لیا، اور احتیاط کے واسطے دامن صاف رکھنے کو ہاتھ بھی دھو لیا، چھلکوں اور گٹھلی کو دیکھ کہ خیال آ رہا اب کی بار اس گلے سڑے گند کو خوشنما آم کی صورت میں نہ جانے کون گلے لگائے گا؟ سنا ہے شہر اقتدار میں بڑا زور شور اور بھاؤ تاؤ گرم ہے۔ جہاز والے صاحب جو کہ آموں کا کاروبار بھی کرتے ہیں بڑی تندہی سے اپنے ہم جنسوں کو پہچان کر پھر سے اکٹھا کرنے میں لگے ہیں۔ کیوں نہ ہو جیسے ہیرے کی قدر جوہری کو ہوتی ہے (ع) آمی بھی اپنے جیسوں کو خوب پہچانتے ہیں۔
مثل مشہور ہے۔
کند ہم جنس باہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر، باز با باز!


