بے رحم لوگ
میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ زندگی میں ایسے بھی مقام آئیں گے جن کو میں تصور بھی نہیں کر سکتی تھی نا تو گھریلو زندگی اچھی تھی نا ہی کالج کی زندگی میں نے تو یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ میں اتنی بڑی چیز ہوں کہ جس سے لوگ دور بھاگیں گے اور طرح طرح کے الزامات لگائیں گے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ محسوس ہوتا چلا گیا کوئی کسی کا نہیں ہوتا کالج میں سیٹ، گھر میں اگر شوہر کو سہی کھانا مل جائے تو ایک دن آرام سے گزر جاتا ہے۔
لوگ بھی بڑے ظالم ہوتے ہیں جو یہ سوچتے ہی نہیں کہ سامنے والا شخص بھی انسان ہے، بس انہیں بولنے سے مطلب ہوتا ہے۔
کالج کی دنیا بھی عجیب ہوتی ہے ابھی کلاس میں جاؤ تو لڑکیوں کے ساتھ بات کرتے ہی کوئی نا کوئی آ کھڑا ہوتا ہے۔
”آپ کو آفس میں بلایا ہے“
کلاس چھوڑ کے آفس کی طرف چل دو۔
” مس لاریب یہ آپ کی شکایت آئی ہے آپ کے موبائل سے لڑکیوں کے گھر کال گئی ہے۔
تو حیرت سے وائس پرنسپل کی طرف دیکھنے لگتی ہے۔
کیا گئی ہے کال؟
”یہ ہے کہ کل سے چھٹیاں ہیں ان کی“
” میں نے تو ایسا کچھ نہیں کیا“
تو پھر کہاں سے خبر اڑی؟
” مجھے نہیں پتا“
یہ کہہ کے واپس کلاس میں پلٹ آتی ہے۔
تب تک کلاس پیریڈ ختم ہوجاتا ہے۔
وہ واپس آ کر اپنی جگہ پر بیٹھ جاتی ہے اور جب تک چھٹی نہیں ہوجاتی مختلف باتیں سنتی رہتی ہے کبھی لڑکیوں کی تو کبھی چھپی ہوئی ٹیچرز کی جو سب کے سامنے بات نہیں کر سکتیں تھیں۔
مینجمنٹ کا سامنا نا ہو جائے۔
پتا نہیں سب یہ میرے ہی معاملے میں آ جاتا تھا سب سچے اور میں جھوٹی خاموش آ کر گاڑی میں بیٹھ جاتی۔
زندگی ایک دوسرے سفر پر شروع ہوجاتی، کھانے کا انتظام ماسیوں کا انتظار، صفائی، ذرا سا بھی کوئی نقص ہو تو شوہر نامدار کے چہرے پر سو بل پڑ جاتے مجال ہے کہ خوش ہو کر بات کر لیں، بہت ہی کوئی خوشی کا عالم ہو گا تو بس اتنا ہی ہو گا آج تو مزہ آ گیا کھانے کا۔
کہیں چلنا ہے اس سے پہلے کے جواب دیتی وہ اپنے پروگرام پہلے ہی سنا دیتے اور اس کے بعد رات کے دو بجے گھنٹی بجتی چابی ہونے کے باوجود اٹھانا بہت ضروری ہوتا تھا۔
شاید ضد ہوتی ہے کوئی انتظار میں کھڑا ہو اور پھر وہ آرام سے سوئیں ٹی وی دیکھیں، ویسے بھی بقول ان کے تم کرتی کیا ہو آتا کیا ہے تمہیں؟
کبھی بہت ہی مذاق سوجھتا تو پوچھ لیتے کہ تمہاری آ آ آ آ کی لڑکھڑاہٹ سن لیتے ہیں سب۔
مجھے تو نہیں لگتا کہ کوئی پیون بھی سنتا ہو گا، پتا نہیں کیسے اپنا کام کرواتی ہو مجھے تو خیر عادت ہو گئی ہے میں تو تمہارے بولنے سے پہلے ہی سمجھ جاتا ہوں کہ تمہاری آ آ آ آ میں کیا بولنا ہے۔
یہ سوچے بغیر کے یہ جملے نہیں وہ تکلیف ہوتی ہے جو ہر چیز میں اضافہ کر دیتی ہے۔
ظاہر ہے میں ورک پلیس کی رکارڈنگ تو نہیں لا سکتی تھی تو بس چپ ہو کر رہ جاتی تھی۔
یہ زندگی ایسے روتے جاگتے چل رہی تھی اگر کالج کے فنکشن ایک کے بعد ایک کامیاب نہیں ہوتے تو ساتھ ہی انٹر کلاس کی ذمے داری ملی تو وہ بھی قابل فخر تھی اس کا بھی انہوں نے خوب مذاق بنایا۔
بے وقوفوں کو بھی کبھی سرداری مل جاتی ہے اور وہ مجھے مل گئی تھی میں نے انٹر کے ساتھ بہت زبردست وقت گزارا میں اتنی مصروف ہو چکی تھی کہ مجھے کسی سے بات کرنے کی فرصت نہیں تھی کبھی ڈرامہ فنکشن، کبھی کوئز، کبھی پکنک تو کبھی ان کے ساتھ اوتھ سیرمنی مناتے ہوئے وقت کا پتا ہی نہیں لگا جب لگا تو دشمن ٹیچرز اپنا کام کرچکے تھے انہوں نے موقع کا فائدہ اٹھایا۔
انٹر گیا تو کلاس بھی لے لی گئی یہ ہی کہ مس لاریب آپ سے ہمیں کوئی شکایت نہیں لیکن لڑکیاں بہت آزاد ہو گئیں تھیں۔
” اور میں سوچتی رہ گئی کون سی آزادی وہ جن سے ان کو جلن تھی یا انہیں پتا تھا انٹر کلاس مجھ سے لیں گے تو میں تکلیف میں آ جاؤں گی ویسے بھی میں ان کی اپنی تھی کب“
اینیوئل فنکشن ہوا تو اس میں مجھے بالکل الگ رکھا گیا آنے کے لئے بھی نہیں کہا گیا لیکن جس دن فنکشن تھا شام میں فون آیا آپ کو دس منٹ میں پہنچنا ہے یہ انٹر کلاس کی خواہش ہے۔
میں تیار ہو کر پہنچی تو اسٹاف کے رویے کی تو مجھے امید تھی کس قدر خون خوار ہو گا لیکن مجھے کیوں پرواہ ہوتی لڑکیاں ساتھ تھیں آنے سے پہلے میں اپنے شوہر کو اطلاع دے دی تھی کہ میں جا رہی ہوں ورنہ پھر یہ ہی ہوتا کہ بغیر پوچھے نکل گئیں وہاں پہنچ کر سب کے چہرے کے رنگ دیکھ کر بڑا مزا آیا اور سب سے زیادہ مزا تو تب آیا جب انٹر کلاس نے الوداعی نغمہ صرف میرے لئے گایا اور جاتے ہوئے میرے ہاتھ چوم کر گئیں۔
تب میری وی پی نے مجھے میسیج دلوایا کہ کھانا کھا کر جانا، آخر ایچ او ڈی بھی تو تھی ویسے کتنی عجیب بات ہوتی ہے نا جب ہمیں یہ پتا ہو کہ اتنے سارے لوگوں میں کوئی ایک بھی ہمارا نہیں پھر بھی ہماری ول پاور کھڑا بھی کرتی ہے کسی کا سہارا بھی نہیں لیتی اور مڑ کر بھی نہیں دیکھتی، میں نے بھی یہ ہی کیا۔
ہنسی خوشی شریک ہوئی اور بغیر کسی کو دیکھے اس کالج کی گیٹ سے باہر نکل آئی، مجھے پتا تھا ایسی انٹر کلاس مجھے نہیں ملے گی لیکن یہ بھی پتا تھا کہ زندگی میں جو مقصد میں نے انہیں بتایا اس کو وہ پورا کریں گی، میری سچائی کالج اور اسٹاف میں ثابت نہیں ہو سکتی تو دنیا میں کہیں تو ثابت ہوگی۔
ہم غلط نہیں ہوتے صرف سمجھنے اور سوچنے کا فرق ہوجاتا ہے کالج کا اسٹاف بھی اسی طرح کا تھا جو دو طرح سے سوچتا تھا اچھا بھی بنا رہے اور برا بھی، کوئی نا کوئی کام کرنے کے بعد تکلیف دیکھنے کے لئے ضرور آتے تھے مگر یہ بھی شکر ہے اللہ کا کہ اب اس نے مجھے زندگی میں ٹھہراؤ دے دیا ہے، کوئی میرے ساتھ چلے نا چلے میں اکیلی کافی ہوں اور یہ یقین مجھے اللہ نے دیا ہے۔


