عمران خان کی ”سیاسی تنہائی“
سانحہ 9 مئی 2023 ءسے جہاں سابق وزیر اعظم عمران خان کا ”سیاسی سرمایہ” ہی لٹ کر رہ گیا، وہاں وہ اس حد تک سیاسی طور پر تنہا ہو کر رہ گئے ہیں کہ ان کے سالہا سال کے ساتھی جیسے ان کو ”جانتے پہچانتے ہی نہیں” کوئی سیاست سے تائب ہو رہا ہے اور کوئی کپتان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کے لئے تیار بیٹھا ہے میں نے اپنی 54 سالہ صحافتی زندگی میں اس قدر ”بزدل” نہیں دیکھے جتنے پی ٹی آئی میں دیکھنے میں آئے۔ کچھ نے مزاحمت ضرور کی ہے لیکن وہ چھپے پھرتے ہیں اور کچھ زیر زمین چلے گئے ہیں اور”طاقت ور” لوگوں سے رابطہ میں ہیں۔
پی ٹی آئی چھوڑ کر جانے والوں کے اعلانات میں کوئی خبریت نہیں رہی بلکہ خبر یہ ہے کون اب تک عمران خان کے ساتھ کھڑا ہے؟ سر دست کچھ سر پھرے موجود ہیں جو ابھی تک عمران خان کا دم بھر ہیں یہ وہ لوگ ہو سکتے ہیں جنہیں ان کے کیے کی سزا ملنی ہے، ان کے لئے |معافی” کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں، انہوں نے عمران خان کے ساتھ ہی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پی ٹی آئی کے کچھ رہنما اور کا رکن جو فوجی تنصیبات پر حملوں میں مطلوب ہیں ان کی مار دھاڑ پر مبنی فوٹیج ان کے خلاف چیخ چیخ کر گواہی دے رہی ہے۔
اب بیشتر "سورما” زیر زمین چلے گئے ہیں، پولیس ان کی گرفتاریوں کے لئے چھاپے مار رہی ہے لیکن وہ گرفتار نہیں ہو پا رہے۔ ملک میں خوف و ہراس کی کیفیت ہے۔ پی ٹی آئی کے 10، 12 ہزار کارکنوں کو جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے ابھی تک مطلوب رہنماؤں کو بوجوہ گرفتار نہیں جا سکا، اگر کسی بڑے لیڈر کو گرفتار کیا جاتا ہے تو ناقص پراسیکیوشن کی وجہ سے رہائی مل جاتی ہے۔ اگرچہ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے عمران خان کا "کورٹ مارشل” کرنے کا عندیہ دیا ہے لیکن ابھی تک کسی بڑے لیڈر پر ہاتھ نہیں ڈالا جا سکا بظاہر عمران خان اس زعم میں مبتلا ہیں کہ انہیں گرفتار نہیں کیا جا سکتا اگر دوبارہ گرفتار کیا گیا تو پہلے سے زیادہ سخت ردعمل آئے گا۔
ایک طرف عدلیہ عمران خان اور ان کی پارٹی کے لیڈروں کی ضمانتیں لے کر ریلیف فراہم کر رہی ہے تو دوسری جانب انتظامیہ نئے کیسز بنا کر گرفتاریاں کر رہی ہے، اس وقت پی ٹی آئی پر کڑا وقت ہے۔ عمران خان کے ووٹ بینک کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ 9 مئی 2023 کے بعد پی ٹی آئی کا ووٹ بینک کس قدر متاثر ہوا ہے، فی الحال کچھ کہنا مشکل ہے لیکن پی ٹی آئی کو چند دنوں میں چھوڑ کر جانے والوں کی وجہ سے "الیکٹیبلز” کی کمی ہو گئی ہے، اگر ان کے لئے متبادل پلیٹ فارم مہیا کر دیا گیا تو وہ اس پلیٹ فارم سے انتخاب لڑنا پسند کریں گے جس پر ان کو کامیابی کی ضمانت فراہم کی جائے گی۔
جب تک عمران خان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک ان کی پارٹی کے کچھ رہنما تمام تر مصائب برداشت کرتے ہوئے عمران کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے لیکن جوں ہی عمران خان کو نا اہل قرار دے کر پی ٹی آئی پر پابندی لگا دی گئی توان کی امید ختم ہو جائے گی، تاہم اس کے باوجود پی ٹی آئی کسی نہ کسی شکل میں قائم رہنے کا امکان ہے۔ عمران خان جن لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کر رہے ہیں ان کے دلوں سے فوری طور ان کو نکالنا مشکل ہو گا۔
ہاں، عمران خان اپنے دیرینہ احباب کی بے وفائی سے دلبرداشتہ ہو کر سیاست سے ْْتائب” ہو جائیں تو کچھ نہیں کہا جا سکتا، عمران کی جماعت کی 9 مئی 2023ء کی ایک غلطی نے اسے آسمان سے زمین پر دے مارا ہے۔ عمران خان نے اپنی ممکنہ گرفتاری کے پیش نظر شاہ محمود قریشی کو جانشین بنایا تھا شاہ محمود قریشی سے اڈیالہ جیل میں پی ٹی آئی کے کچھ "منحرفین” نے ملاقات کی تھی، اس ملاقات کے بعد کوئی بات منظر عام پر نہیں آئی، ملاقات کرنے والوں نے شاہ محمود قریشی کے آئندہ سیاسی لائحہ عمل کے بارے میں کوئی بات نہیں کی البتہ جب شاہ محمود قریشی نے رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار نہ کرنے پر صحافیوں سے گفتگو میں بڑے طمطراق سے کہا کہ "میں نے انصاف کا جھنڈا پکڑ رکھا ہے، عمران خان سے ملاقات کے بعد آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں بات کروں گا” لیکن ان کی زمان پارک میں عمران خان سے ڈیڑھ گھنٹے پر محیط ملاقات ناکام رہی، سیاسی تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ جن قوتوں نے شاہ محمود قریشی سے ملاقاتوں کی اجازت دی، انہوں نے ان کے ذریعے عمران تک "مائنس ون” فارمولہ پہنچایا، جسے فی الحال عمران خان نے اسی طرح مسترد کر دیا جس طرح 2017 ء میں نہ صرف نواز شریف کو سیاست سے آؤٹ کیا گیا بلکہ عمر بھر کے لئے نا اہل بھی قرار دے دیا گیا۔
نواز شریف نے بھی "مائنس ون” فارمولہ قبول نہ کیا تھا، ملک میں ان کی جماعت موجود تھی لہٰذا انہیں لوگوں کے دلوں سے نہ نکالا جا سکا، اب ایسی ہی صورت حال عمران کو درپیش ہے جو ان کی سیاسی غلطیوں سے پیدا ہوئی ہے عمران کے ساتھ عمر بھر رہنے کی قسمیں کھانے والوں نے اس طرح ان کا ساتھ چھوڑا ہے جیسے پت جھڑ میں درخت کے پتے جھڑتے ہیں، راتوں رات سیاسی وفا داریاں تبدیل کرنے والے پرندےْْ کنگز پارٹی ”استحکام پاکستان بنانے کے لئے جہانگیر ترین کے ڈیرے پر پناہ گزین ہو گئے۔
ایسا دکھائی دیتا ہے کہ آئندہ پانچ ماہ بعد عام انتخابات ہو جائیں گے، پی ٹی آئی کے ووٹ بینک پر چاروں طرف سے "ڈاکا” ڈالنے کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے، اس بات کا قوی امکان ہے کہ مستقبل قریب میں پی ٹی آئی دو تین دھڑوں میں منقسم ہو جائے گی، اس دوران سیاسی جماعتیں، اس کے حصے بخرے ہونے پر جو مال غنیمت ملے گا، اسے لوٹ کر لے جانے کی کوشش کریں گی۔

