تبلیغی جماعت طالب علم کیلئے سر درد بن گئی
جیسا کہ آپ لوگوں کو پتا ہے کہ قبائلی علاقہ جات یعنی وزیرستان میں جب میٹرک اور ایف ایس سی کے امتحانات گزر جاتے ہیں تو تبلیغ والے اس کے پیچھے پڑ جاتے ہے۔ دعوت تبلیغ دینا اچھا کام ہے سیدھا راستہ ہے لیکن کسی کو ٹارگٹ کرنا، زور زبردستی کرنا یا اس کو ٹارچر کرنا غلط ہے۔ جب آپ کسی کو دعوت دے رہے ہوں اس کے بعد فیصلہ کرنا اگلے بندے کا کام ہے، چاہیے وہ آپ کے ساتھ جانے کو تیار ہو یا نہیں، یہ فیصلہ کرنا آپ کا کام نہیں ہے۔ لیکن یہاں کے جاہل تبلیغ والے اس کے پیچھے پڑ جاتے ہے بار بار آتے ہے۔ اس کو ٹارچر کر رہے ہیں۔ اس کو ذہنی مریض بنایا جاتا ہے۔ بار بار آنے سے وہ طالب علم چھپنے کی کوشش کرتا ہے اور جھوٹ پہ جھوٹ بولتے ہیں۔
اگر وہ خود آپ کے ساتھ جانے کو تیار ہوتا تو آپ کی دعوت دینے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ وہ خود بستر باندھ کر کے آپ کے مسجد میں آ پہنچتا۔ اس تبلیغ والے کی وجہ سے باہر نہیں نکل سکتا، سر درد بن جاتا ہے۔ معاشرے میں زیادہ تر طالب علم ان پڑھ لڑکے سے اچھے ہوتے ہے، نا چوری، نا ڈکیتی اور نا کسی اور کا حق کھاتے ہیں۔ دعوت تبلیغ والوں سے گزارش ہے کہ معاشرے میں ان کو دعوت دیں جو معاشرے میں فساد پھیلاتے ہیں۔
اگر موازنہ کیا جائے تو قبائلی علاقہ جات کے طالب علم اور بڑے شہروں والوں میں تو کافی فرق آپ کو نظر آئے گا جس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک وجہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب وہاں کے طالب علم میٹرک، ایف ایس سی پاس کریں تو ان کو سٹڈی سرکل ارینج کرتے ہیں۔ اس کو پراپر گائیڈ کرتے ہیں کہ آپ کو کہاں جانا ہے، مختلف فیلڈ کے بارے میں ان کو گائیڈ کرتے ہیں۔ جب کہ یہاں کے طالب علم تبلیغ والوں سے جان نہیں چھڑا سکتے، سر درد بن گیا ہے۔



Now a days the real ruels and regualtions have been misplaced and peoples are being misguded by these associations• Where we should be aware they never guide • These run in society like trend of anything