لذت ناشاد


” کیا وہ مر گئی! مگر کیسے؟

ابھی تو میرا ذہن اس کے مہندی لگے ہاتھوں کی خوشبو اور چوڑیوں کی کھنکھناہٹ میں ہی اٹکا ہوا تھا کہ فریدے نے خبر دی کہ بشیرے کی گھر والی آج صبح دو تین دن کے بخار ہی سے مر گئی۔ میں اپنے اندر اٹھتے اس ہیجان کو یاد کرنے لگا جب میں فریدے کے ساتھ پچھلے ہفتے عید کے دن اس کے گھر گیا تھا۔ وہ مکمل پردے میں تھی۔ جب دروازے کی اوٹ سے اس نے پانی کا گلاس فریدے کو پکڑایا تو شفاف گلاس کے گرد اس کی مہندی لگی عنابی انگلیوں کا حسن نکھر کر ابھر آیا اور پانی کی شفافیت مزید اجلی دکھائی دینے لگی۔ ایسا لگا کہ میں اس کے تخیلاتی حسن میں کھو رہا ہوں۔ میں نے نہ اس کی آواز سنی اور نہ ہی اس کی شکل دیکھی تھی۔ لیکن اس دن کے بعد سے میرے تصور میں وہ مہندی لگی مہکتی انگلیاں میرے سینے پہ دستک دینے لگیں، میرے بالوں سے الجھنے لگیں اور کبھی میرے ہونٹوں کے گرد دائرے بنانے لگیں۔ بے اختیار میرا دل چاہا کہ ان انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسا کر اس ڈھکے چھپے خوشبو بھرے پیکر کو اپنے اتنا قریب کرلوں کہ اس کے اور میرے بیچ کوئی پردہ نہ رہے صرف میرے ہونٹ اور میرے ہاتھ اس کو چھو کر محسوس کریں اور اس کا ان دیکھا حسن میرے اندر لگی اک عجب طرح کی آگ کو تراوٹ بخش دے۔

فریدے نے جب اپنی بھابھی سے پانی کا گلاس لے کر مجھے پکڑایا تو مجھے لگا کہ یہ پانی کا گلاس اب میری پیاس کیا بجھائے گا یہ تو میری پیاس اب مزید بڑھا گیا ہے۔

میں جو گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے والا اور نسوانی حسن کو ہر طرح سے پرکھنے والا تجربہ کار بلکہ بدکار مرد تھا اس روز اس انگشت حنائی کے رنگ و مہک سے ایک ایسی عورت کا تخیل اپنے ذہن میں تصویر کرنے لگا جو میرے لیے جنت کی حور سے کم نہیں تھی لیکن وہ میرے بچپن کے دوست کی بھابھی اور مجھے میکینک کا کام سکھانے کے استاد کی بیوی تھی اور اس کا احترام مجھ پر لازم تھا۔ مگر کیا کرتا کہ اس وقت مجھے میرا دل اور دماغ قابو میں محسوس نہیں ہو رہا تھا جب کہ میں اچھی طرح جانتا تھا کہ استاد بشیرا بہت سخت اور جابر انسان ہے۔ سنا ہے کہ اپنی گھر والی کے پردے کے حوالے سے تو وہ اتنا سخت ہے کہ فریدے کو بھی اپنی بھابھی سے بلا ضرورت بات کرنے کی اجازت نہیں۔ فریدا بتاتا ہے کہ وہ گھر کی عورتوں اور اپنی بیوی کے پردے اور حفاظت کے معاملے میں تو اتنا غیرت مند ہے کہ کسی بھی اونچ نیچ پر جان دینے اور لینے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔

بشیرے کی سخت مزاج شخصیت اور باڈی بلڈنگ والی قوی جسامت ایک لمحے کے لیے میری نظروں میں گھوم گئی۔ میں نے اس کی بیوی کا خیال ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کی اور فریدے کے ساتھ ڈبو کھیلنے چل نکلا۔

لیکن رات جب مجھے دیسی شراب کا ہلکا سا نشہ سر پہ چڑھتا محسوس ہوا تو وہ حنائی مخروطی انگلیاں بھی کہیں سے شیشے کا گلاس تھامے میرے جسم پر اپنے حسن کا جام چھلکانے لگیں۔ میں بے خود ہو گیا اور اپنے ہی ہاتھوں کو اس کے جسم کا حصہ سمجھ کر اپنی نفسانی تسکین کا سامان کرنے لگا۔

دو دن بعد جب میں کام پر گیا تو بشیرا ورکشاپ پہ موجود نہ تھا۔ میں بھی موقع سے فائدہ اٹھا کر فریدے سے ملنے اس کے ڈیرے پر چلا گیا۔ فریدے نے بتایا کہ اس کی نئی نویلی بھابھی کو دو تین دن سے سخت بخار ہے گاؤں کی ڈاکٹرنی نے اسے ہسپتال میں داخل کرنے کا کہا ہے لیکن بھائی بشیرا تیار نہیں ہے وہ آج بھابھی کی دیکھ بھال کے لیے گھر پہ ہی ہے، ورکشاپ نہیں گیا۔ بشیرے کا کہنا ہے کہ بھلا بخار کے لیے بھی کوئی ہسپتال بھرتی ہوتا ہے۔ بات تو صحیح تھی کہ بھلا صرف بخار کے لیے تو ہسپتال میں بھرتی نہیں ہوا جاتا لیکن وہ اگر ہسپتال چلی جائے تو میں کسی طرح اس کو دیکھنے اور اس کے حسن کو اپنے اندر اتار لینے میں کامیاب ہو جاؤں۔ میرے اندر لگی یہ آگ کسی طرح ٹھنڈی پڑ جائے۔ میں نے فریدے کے سامنے اپنی نظریں چراتے ہوئے کہا

” میں بھائی بشیرے سے بات کروں کہ بھابھی کو بھیج دے ہسپتال اور۔

” خبردار! کبھی ایسا نہ کہنا۔ تجھے معلوم نہیں وہ جان لے لے گا کہ میں نے اس کی گھر والی کے بارے میں کسی باہر کے بندے کو کیوں بتایا۔ تو تو جانتا ہی ہے کہ وہ نہ تو مجھے بخشے گا نہ تجھے بلکہ الٹا بھابھی پر بھی شک کرے گا۔ پتہ نہیں کیوں ہے وہ ایسا ہے۔ ڈاکٹرنی جو بھابھی کو دیکھنے آئی تھی اس کو بھی منع کر رہا تھا کہ اس کی زنانی کی حالت دوسروں کو نہ بتائے۔

چھڈ یار! وہ سمجھے اور اس کی زنانی۔ ہم چلتے ہیں ڈبو کھیلنے۔

فریدا میرا ہاتھ پکڑ کر چارپائی سے اٹھ کھڑا ہوا اور ہم دونوں ڈیرے سے نکل کر موٹر سائیکل پہ بیٹھے اور گاؤں کے بازار میں ڈبو والے کے یہاں پہنچ گئے جہاں ہمارے دو تین دوست اور موجود تھے اور کھیل بڑے زوروں پر چل رہا تھا۔ شاید کوئی بڑی بازی لگی ہوئی تھی۔

مجھے نہ فریدے کی بھابھی کا نام معلوم تھا اور نہ ہی اس کو کبھی دیکھا تھا بس سنا تھا کہ پڑوس والے گاؤں میں کسی گوالے کی بیٹی ہے جو کسی مکھن کی ٹکیا کی طرح نرم ملائم اور دودھ جیسی رنگت والی حسین ہے۔ بشیرے سے ایک ماہ پہلے ہی اس کی شادی ہوئی تھی لیکن میں ان دنوں شہر میں کسی کام کے سلسلے میں گیا ہوا تھا اور شادی میں شریک نہیں ہوسکا تھا۔

آج جب سے خبر ملی ہے کہ بشیرے کی جوان نو بیاہتا بیوی اچانک مر گئی ہے تو اسے دیکھنے اور اسے چھونے کی خواہش نے میرے اندر لگی آگ کو عجیب انداز میں بھڑکا دیا۔ میں نے پچھلے چند برسوں میں کئی بار اپنے پاس پڑوس کے گاؤں کی کئی کنواری اور شادی شدہ عورتوں کے ساتھ کبھی زبردستی اور کبھی چھپ کر اپنے اندر لگی آگ کو بجھایا ہے مگر اس بار تو یہ آگ مجھے بھڑکائے جا رہی تھی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ آج میں کسی نہ کسی طرح اس آگ کو ٹھنڈا کروں گا۔

بشیرے کی بیوی کی تدفین دن گزرنے کے بعد ہو گئی۔ میں نے بھی اس کے جنازے کو کندھا دیا اور اس کے مردہ جسم سے پھوٹتی ایک عجیب طرح کی خوشبو میرے نتھنوں میں بسنے لگی تھی۔ جب قبر میں اس کے جسم پر خاک ڈالی جا رہی تھی تب ایسا لگ رہا تھا کہ میں بھی اس خاک میں کہیں دفن ہو رہا ہوں۔

بشیرے کے چہرے پر بیوی کی وفات کا کوئی غم نہیں تھا۔ فریدا بھی بس خاموش تھا۔ ایک معمولی بخار نے میری ان دیکھی خواہش کو کچل ڈالا تھا اور بنا چکھے حسن کے ذائقے کو ایک کڑواہٹ میں بدل دیا تھا۔

جنازے کے بعد میں نے گھر آ کر ایک پوری بوتل چڑھا لی اور بستر پہ دیر تک بے خبر پڑا رہا۔ رات کے دوسرے پہر آنکھ کھلی تو دیوانہ وار میں گاؤں کے قبرستان کی طرف چل پڑا۔ گھپ اندھیرے میں کہیں کہیں جھینگروں کے بولنے کے آوازیں آ رہی تھیں۔ ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی۔ قبرستان میں بھی ہو کا عالم تھا۔ میں اندھیرے میں ٹٹولتے ٹٹولتے اس کی تازہ قبر کے پاس پہنچ گیا۔ اگر بتیوں اور گلاب کی خوشبو چاروں طرف پھیلی تھی میں نے آہستہ آہستہ قبر کی مٹی اپنے دونوں ہاتھوں سے ہٹانا شروع کی۔ میرا جنون اور ہیجان مجھے نہ جانے کیسی طاقت دے رہے تھے کہ میں اس کو قبر کی مٹی ہٹا کر اوپر رکھا بھاری سلیپ بھی کچھ دیر میں ہانپتے ہوئے ہٹا ڈالا اور اس کی قبر میں اتر گیا۔

میرا جنون گلاب و اگر بتیوں کی خوشبو پا کر مزید بڑھنے لگا اور تصور میں وہ حنائی انگلیاں میرے جسم و جان پر زور زور سے دستک دینے لگیں۔ میں نے کفن ہٹا کر اس کے ٹھنڈے وجود کو اندھیرے میں ٹٹولتے ہوئے دیوانہ وار چومنا شروع کر دیا اور اس کے ٹھنڈے اور ساکت وجود میں اپنی پناہ تلاش کرتے ہوئے اپنے اندر کی آگ بجھانے کے لیے اپنے جسم کا حصہ اور اس سے ابلتا ہو لاوا اس کے وجود میں پیوست کر کے انڈیلنے کی کوشش کی تو ایک سخت دھات سے میرا عضو خاص ٹکرا کر زخمی ہو گیا اور ساری لذت ایک درد میں بدلنے لگی۔ اچانک مجھے ایسا محسوس ہونے لگا کہ میری شدید ہوس ایک لذت ناشاد بن کر کسی نرم دروازے پر لگے آہنی تالے سے ٹکرائی ہو۔

Facebook Comments HS