اداسی سے لپٹے نوجوان
تیزی سے ترقی کرتی دنیا میں اہم اور انقلابی موڑ تب آیا جب انسانوں نے مصنوعی ذہانت کو استعمال کیا، انسان جیسی سوچ مشینوں میں منتقل کرنے کی دوڑ نے دنیا کو اس جدت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں لا کھڑا کیا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے، انسان پھر بھی رکا نہیں اور اسی مصنوعی ذہانت کی بدولت ایسے روبوٹس کو حقیقت کا روپ دیا جو بغیر روح کے انسانوں کی طرح بولنے اور جواب دینے کے ساتھ ساتھ زیادہ اور تیزی سے کام کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں
ابھی اسی پر عقل حیران تھی کہ خبر سننے کو ملتی ہے کہ روبوٹس اب ریسٹورنٹ میں کام کیا کریں گے، آرڈر لیا کریں گے، ڈیلیور کیا کریں گے، بدلے میں نہ ہی تنخواہ کی جھنجھٹ ہوگی نہ ہی صحت اور میڈیکل کی سہولیات کی ضرورت۔ حال ہی میں ٹی وی چینلز ایسے روبوٹس کو متعارف کروا رہے ہیں جو اینکر کا کام سر انجام دے رہے ہیں، جو اپنی مصنوعی ذہانت کو استعمال کر کے انسانوں سے بہتر خبر پڑھنے کی صلاحیت لئے خود کو منوا رہے ہیں۔ لیکن یہ انسان نما کمپیوٹر بول تو رہے تھے لیکن بغیر احساس کے، کام تو کر رہے تھے لیکن بغیر تجسس کے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ بغیر روح اور دھڑکتے دل کے یہ جسم کیا سمجھ پائیں گے احساس کو، انسان پر طاری اس احساس کو جب وہ تجسس کے مارے اس دنیا پر قدم رکھتا ہے اور اپنی جان تک لگا دیتا ہے اپنے خیالات کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے، ہر طرف سے شکست کا سامنا کرتے ہوئے تھک ہار کر ٹوٹ چکے انسان کے اس حال کو یہ مصنوعی جسم کیا سمجھ پائیں گے۔ جب انسان دنیا کی بھیڑ سے نکل کر دور کہیں صحرا، گلستان اور پہاڑوں کی تنہائیوں میں چہرے پر اداسی لئے آسمان کو تکتا ہے، اور چاندنی رات کی اس پراسرار خاموشی میں جب انسان کی آنکھوں سے آنسو ٹپکتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کائنات کی ہر شے ساتھ مل کر اس کو تسلی دے رہی ہوتی ہے، زندگی میں شکست زدہ انسان کو منزل دکھانے کے لئے جیسے ساری کائنات یکجا ہو گئی ہو اور اس کا ہاتھ تھامنے لگی ہو، انسان کی اس کیفیت کا بھلا روبوٹس تصور بھی کیسے کر سکتے ہیں۔
مجھے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اداسی قدرت کا ہی تحفہ ہے، انسانوں سے اداسی کی کیفیت میں ایسے ایسے کام ہو جاتے ہیں جو اپنے ہوش و حواس میں رہ کر شاید ناممکن لگتے تھے، اداسی میں کچھ خاص ہے یہی وجہ ہے قدرتی نظاروں میں ہر جگہ ہمیں خاموشی اور اداسی کا راج نظر آتا ہے۔ آسمان کو چھوتے ہوئے پہاڑ، گہرے اور گھنے جنگلات میں ٹہلتی خاموشی، سمندروں کی وسعت یا پھر ویران پڑے دشت اور صحرا ان سب میں ہمیں سکوت کا وہ عالم نظر آتا ہے جو انسان کو دنیا کے شور و غل سے نکال دیتا ہے، خلا میں تیرتے ہوئے ستارے اور سیاروں میں جھومتی تنہائی بھی ہمیں اداسی کا احساس دیتی ہے گویا یوں معلوم ہوتا ہے جیسے قدرت کو اداسی سے کچھ خاص لگاؤ ہے، اسی لئے انسان کو بھی قدرت نے اداسی کے اس احساس سے نوازا ہے، انسان اداسی میں بظاہر سب سے کمزور نظر آتا ہے لیکن وہ اس وقت سب سے مضبوط ہوتا ہے کیونکہ کائنات کی تمام تر طاقتیں روحانی طور پر اس سے جڑ چکی ہوتی ہیں۔ اسی سے انسان کو گر کر دوبارہ اٹھنے کا حوصلہ ملتا ہے، اور پھر وہ اپنی شکست زدہ قسمت کو بدل دیتا ہے، اپنے خلاف ہونے والی سب چیزوں کا مقابلہ کرتا ہے، اور پھر کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے۔
انسان نے آج چاند کے بعد مریخ پر قدم رکھا اور اپنی ذہانت کی بدولت ہبل اور جیمز ویب ٹیلی سکوپ کے ذریعے کائنات کے بے شمار بھیدوں سے پردے اٹھانے کے پیچھے بھی انسان کی وہ اداس فطرت ہے۔ غور کریں تو اندازہ ہو گا کہ انسان جب جیت حاصل یا اپنی منزل کو پا لیتا ہے تو اسے اپنی ساری جدوجہد یاد آنے لگتی ہے، اور وہ خوشی کے ساتھ ساتھ اداسی کی کیفیت کو بھی محسوس کرنے لگتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کامیابی بھی اداسی ہے اور خوشی بھی بلکہ فلسفہ تو یہی ہے کہ انسان جب دانائی علم اور شعور کے اعلٰی مقام تک پہنچ جاتا ہے تو وہ تنہائی پسند ہوجاتا ہے، اسے اداسی میں مزہ آنے لگتا ہے، اداسی ہی میں لکھے جانے والے الفاظ ہوتے ہیں جو زندگیاں بدل کر رکھ دیتے ہیں، اداسی کے اس احساس کا فرق انسان اور روبوٹ میں ہمیشہ رہے گا کیونکہ اداسی سے ہی انسان خود کو کائنات کی وسعتوں میں پھیلی خاموشی سے خود کو جوڑتا ہے اور یوں وہ محدود سے روحانی طور پر لامحدود ہو جاتا ہے۔


