دیہات کی عورت اور نکاح ورکشاپ


پاکستان جیسے مفلوک الحال، جینڈر کانشئیس اور شدت پسند ملک میں شادی سے قبل سرکاری سطح پہ مردوں کے لیے ایک ”نکاح ورکشاپ“ ضروری ہے جس میں بڑی مونچھوں والے مرد کو بتایا جائے کہ مردانگی کا تعلق نہ مونچھوں سے ہے اور نہ ہی بیوی پہ مطلق العنان حکمرانی سے۔

اسے باور کرایا جائے کہ منکوحہ تمہاری پارٹنر ہے، غلام نہیں۔

اسے یہ بھی بتایا جائے کہ اگر آپ نے کاموں کی مردانہ اور زنانہ تقسیم کر رکھی ہے تو آپ کو حدود سے تجاوز نہیں کرنا ہو گا، البتہ ایامِ زچگی میں تمام کام مرد کو کرنے ہوں گے جبکہ عام ایام میں مرد، مردوں والے کام اور عورت عورتوں والے کام کرے گی۔

اس نوجوان سے عہد لیا جائے کہ اگر عورت سے مال مویشی چَرائی اور گھاس کاٹنے جیسے مردانہ کام لیے جائیں گے تو آپ کو بھی آٹا گوندھنے اور تنور پہ روٹیاں لگانے کو ”خلافِ ناموسِ مونچھ“ نہیں سمجھنا ہو گا۔

انھیں یہ بھی بتایا جائے کہ اگر آپ ہوٹل پہ کڑاہیاں اُڑا رہے ہو تو کم از کم آپ کو یہ خبر ضرور ہونی چاہیے کہ آپ کے گھر میں سالن بنا بھی ہے یا نہیں؟

اسے بتانا ضروری ہے کہ مباشرت کے بھی آداب ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کی پیدائش کو کنٹرول کرنے پہ پورا سیشن ضروری ہے۔

ضروری ہو کہ اس ورکشاپ کا سرٹیفیکیٹ دکھانے پر ہی نکاح خواں ایسے نوجوان کا نکاح پڑھائے، ورنہ اسے اس کے حال پہ چھوڑ دے۔ سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہوئے اس امر کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ نوجوان کی معاشی حالت ایسی ہے کہ وہ کنبے کی کفالت کر سکے گا؟

افسوس ناک امر یہ ہے کہ دیہات کی عورت بدترین مشکلات میں گِھری ہوئی ہے، چاہے وہ غریب گھرانے سے تعلق رکھتی ہے یا زمیندار طبقے سے۔

غریب تو ویسے ہی خالی ہاتھ ہے جب کہ دیہات کا امیر بھی عورت کے معاملے میں بہت کنجوس، بخیل اور ہٹ دھرم واقع ہوا ہے، وہ اپنے پورے کنبے کی زندگی ”ساتھ لگتی زمین“ لینے کے لالچ میں دوبھر کیے ہوئے ہے اور اس بچت کے لالچ میں گھر والوں کی بنیادی ضروریات پہ بھی ناگ کی طرح کنڈلی مارے بیٹھا ہے۔

گزشتہ روز ایک خاتون کو دیکھا، جس کے جسم کا گوشت غذائی قلت کی نذر ہو چکا تھا، ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ سا تھا اوپر سے ہر سال بچے کی پیدائش کے باعث اس کے زرد چہرے سے کرب عیاں تھا، اس نے جس چھ ماہ کے بچے کو گود میں اٹھا رکھا تھا، وہ بھی بھوک سے اس قدر نڈھال تھا کہ اس سے رویا تک نہیں جا رہا تھا۔

افسوس جدید ترین اکیسویں صدی میں ہم آج سے دس صدیاں قبل کے پست ترین طرزِ حیات میں جینے کی ناقابلِ قبول کوشش کر رہے ہیں اور دعوے ہیں فلسطین، بوسنیا اور کشمیر کی بہنوں کو آزاد کرانے کے۔

اے بے عقل مجاہدو! پہلے گھر کی ان عورتوں کو تو زندہ رہنے جوگی سہولت دے دو، پہلے ان کی قیدیوں والی حبس زدہ زندگی میں تو کوئی آسانی لے آؤ جو تمہاری حراست میں گُھٹ گُھٹ کر جی رہی ہیں۔

Facebook Comments HS