لمحہ فکریہ


جو قومیں اپنی تاریخ سے سبق حاصل نہیں کرتیں وہ کبھی ترقی کی منازل طے نہیں کر پاتیں ۔ آپ غلطی ایک بار کریں گے دوبار کریں گے لیکن بار بار غلطیاں نہیں ہوتیں بلکہ پھر یہ غلطی ہماری فطرت کا عادت کا حصہ بن جاتیں ہیں ۔اور یاد رکھیں کہ غلطیاں بانجھ نہیں ہوتیں بلکہ مزید غلطیوں کو جنم دیتی ہیں ۔ ہم نے اجتماعی طور پہ اتنی غلطیاں کی ہیں کہ اب وہ غلطیاں ہماری فطرت میں شامل ہو گئیں ہیں ہمیں ہر چیز کے لیے شارٹ کٹ چاہیے ۔ہم محنت کرنے کی طرف انتظار کرنے کی طرف سیکھنے کی طرف جانا ہی نہیں چاہتے ۔اس تمام رویے کا خمیازہ آج ہم ملک میں بڑھتی ہوئ مہنگائی دن بدن اصافہ ہوتی لاقانونیت کی شکل میں بھگت رہے ہیں ۔اج ہمارا ہر نوجوان باہر جانا چاہتا ہے پاکستان کے شہری اپنے آپ کو اپنے ہی ملک میں محفوظ تصور نہیں کرتے ۔ ان تمام مسائل کی بنیادی وجہ کیا ہے ہمارے ان مسائل کو حل کس نے کرنا ہے ہم کب تک جذبات کے بحیرہ عرب میں بہتے رہیں گے ۔ عوام ہے تو وہ الزام تراشیوں پہ ہے حکمران ہیں تو وہ ایک دوسرے پہ الزام تراشیوں میں مصروف ہیں ۔ مسائل کو حل کرنے کی بات کس نے کرنی ہے نا تو سیاستدانوں کے پاس وقت ہے نا عوام کے پاس فرصت ہے ۔ اس وقت ہمارا مسلہ ہمارے نام نہاد سیاستدان اور ان کی جماعتیں نہیں ہیں ۔ ہماری وابستگیاں پاکستان سے ہونی چاہیے ہماری ترجیحات ترقی یافتہ پرسکون پاکستان ہونا چاہیے ۔ ہمیں کسی سیاسی جماعت سے کسی سیاستدان سے وابستگیاں بڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے یہ لوگ آتے ہیں مزے لوٹتے ہیں چلے جاتے ہیں ایک کے بعد دوسرا اس کے بعد تیسرا اس سارے مرحلے میں پاکستان کدھر ہے عوام کدھر ہے ۔میرا خیال ہے اب عوام کو اتنا سیاسی شعور ضرور ا چکا ہے اور اگر نہیں آیا تو برائے مہربانی خود کو سیاسی سطح پہ شعور دیں اپنے ملک کا سوچیں اپنا سوچیں ۔ جس دن سے پاکستان بنا ہے ان تمام سیاسی جماعتوں نے پاکستان کو بد امنی ، لاقانونیت ، مہنگائی کے سوا کچھ نہیں دیا ۔ ہمارے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ جس ملک کو حاصل کرنے کے لیے ہمارے آباؤ اجداد نے اپنی جانیں قربان کر دیں اج ہم اسی ملک کو چھوڑ کے جانے کی باتیں کرتے ہیں ۔

Facebook Comments HS