سائبر نائف سے سرطان کا علاج

سائنسی ایجاد کا ایک ایسا کارنامہ ”سائبر نائف“ جو کینسر جیسے موذی مرض کے علاج کے لئے انتہائی مفید ثابت ہو رہا ہے۔ جس سے انسانی اعضاء آپریشن سے چھٹکارا حاصل کرنے جا رہے ہیں۔ یہ ایک روبوٹ ہے جسے سائنسی اصطلاح میں سائبر نائف کا نام دیا گیا ہے۔ یہ کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟ ایک ایسی ڈیوائس جس سے ریڈیو تھراپی کی جاتی ہے۔ یہ جسمانی سٹئیریو ٹیکٹک ریڈی ایشن تھراپی (ایس آر ایس، ایس بی آر ٹی) اپروچ کے ذریعے کام کرتی ہے۔
اس سے جہاں علاج درکار ہوتا ہے وہاں نہایت صحیح طور ریڈی ایشنز (شعاؤں ) کی مقدار ڈالی جاتی ہیں جس سے بیمار خلیوں یا ٹیومرز کا کام تمام کیا جاتا ہے۔ سائبر نائف ایک ایسا سسٹم جو انسانی جسم میں ٹیومر کی حرکت کو نوٹ کرتے ہوئے کسی بھی جگہ پر ریڈی ایشنز ڈال سکتا ہے۔ اس سے جسم چیرہ دستیوں سے محفوظ رہتا ہے۔
سائبر نائف سے کینسر کی کن بیماریوں کا علاج کیا جا سکتا ہے؟ اس سے دماغ کا ٹیومر (رسولی)، پھیپھڑوں کا سرطان، لبلبہ کا سرطان، مردوں کو لاحق پروسٹیٹ سرطان، گردن و دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کا سرطان شامل ہیں۔ ان علامات کا علاج گیما شعاؤں سے کیا جاتا ہے۔ جس سے ایک مخصوص جگہ پر شعاع ڈالی جاتی ہے۔ اس سے مرگی، ٹریگرمائنلنیورلجیا، دماغ کی خون کی ابنارمل ویسلز کا علاج بھی کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سائبر نائف سے عورتوں کی چھا تیوں کا سرطان، گردوں اور انسانی جگر کا بھی علاج ممکنات میں شامل ہے۔
اس ذریعہ علاج سے انسانی جسم کو معالج کی چیرہ دستیوں سے چھٹکارا حاصل ہو گیا ہے اور اب سرجری کرانے کی ضرورت محسوس نہیں رہی۔ ایک ایسا طریقہ علاج جو سو فیصد درستگی کا حامل ہے۔ سائبر نائف کا عمومی علاج دو تا پانچ سیشنز پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ طریقہ علاج دو دہائیوں سے دستیاب ہے اور سرطان کے لاکھوں مریض اس طریقہ علاج سے صحتیاب ہو چکے ہیں۔ روبوٹ سائبر نائف حرکت میں رہتے ہوئے مریض کے گرد گھوم کر اور اوپر نیچے ہوتے ہوئے جہاں شعاؤں کی مقدار مطلوب ہوتی ہے وہاں پر اپنی شعائیں ڈالتا ہے۔
اسی کے ساتھ اس بات کو مدنظر رکھا جاتا ہے کہ صحت مند ٹشوز (خلیے ) اس سے متاثر نہ ہوں۔ اس طریقہ کار کا یہ خاصہ ہے کہ یہ صحت مند خلیوں کو متاثر نہیں کرتا۔ اس کے عمل میں ایک حقیقی وقت میں شعاؤں کی مقررہ مقدار کو ٹیومر پر ڈالنا ہوتا ہے جس کی بدولت یہ شعائیں اپنا اثر دکھاتی ہیں۔ اس طریقہ علاج سے کامیابی کی شرح کیوں زیادہ ہے؟ اس کا سادہ جواب یوں ہے کہ اس طریقہ علاج سے متاثرہ ٹیومر پر جتنی شعائیں درکار ہوتی ہیں ان کی اتنی ہی مقدار کو ڈالا جاتا ہے اور متاثرہ جگہ کے علاوہ دوسرے خلیے محفوظ رہتے ہیں اور پھر مریض دوران علاج اور بعد ازاں صحت مندانہ زندگی گزار سکتا ہے۔
سائبر نائف امیج گائیڈڈ سسٹم ہے جسے سٹئیریو ٹیکٹک سرجری (ایس آر ایس) اور سٹئیریو ٹیکٹک جسمانی شعاؤں کی تھیراپی (ایس بی آر ٹی) کے لئے خصوصی طور ایجاد کیا گیا ہے۔ اس کی شعاؤں کو ڈالنے کی درستی کا یہ عالم ہے کہ متاثرہ جگہ سے ایک ملی میٹر سے بھی چھوٹی پیمائش سے ادھر ادھر نہیں ہوتا۔ مغرب میں یہ طریقہ علاج اب عام ہو رہا ہے لیکن اب یہ ترقی پذیر ممالک میں بھی دستیاب ہونا شروع ہو چکا ہے۔ سائبر نائف روبوٹ کی قیمت تقریباً تین تا پانچ ملین ڈالرز ہے اور افادیت کے لحاظ سے سب مشینوں سے آگے ہے۔
دنیا میں تقریباً اس قسم کے ایک سو روبوٹ مختلف ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ یو کے میں اس کی صرف دو مشینیں ہیں اور پاکستان میں کراچی کے ہسپتال میں بھی ایک مشین دستیاب ہے۔ اس روبوٹ مشین سے نکلی شعاؤں کا اثر انسانی جسم پر تھوڑی دیر کے بعد زائل ہو جاتا ہے۔ تاہم اس کے بعد از علاج کے اثرات میں شعاؤں کی وجہ سے مثانے پر اثر پڑ سکتا ہے۔ جن سے قبض، بواسیر اور بڑی آنت سے خون کا بہنا ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ بہت ہی کم کیسوں میں ممکن ہے۔
یہ یاد رہے اس روبوٹ سے سرجری نہیں ہو سکتی۔ اس کی افادیت کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ سرطان کے عام طریقہ علاج جس میں آٹھ تا نو ماہ کے عرصے میں چالیس سیشنز درکار ہوتے ہیں کے مقابلے میں صرف پانچ سیشنوں میں علاج ممکن ہو جاتا ہے۔ اس طریقہ علاج میں درد بھی محسوس نہیں ہوتا اور مریض کو یہ بھی علم نہیں ہوتا کہ وہ شعاؤں کے زیر اثر رہا ہے۔ سرطان کے ٹریڈیشنل طریقہ علاج میں کیمیو تھراپی کے دوران بالوں کا گرنا معمول بات ہے لیکن اس طریقہ علاج سے بال اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔ اس طریقہ علاج سے مریض اپنے علاج کے بعد فوری طور نارمل زندگی بسر کر سکتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جس میں گردے کے 75 مریضوں کا علاج کے دو سال بعد تجزیہ کیا گیا تو اس کی افادیت کا پتہ چلا کہ ان میں 89.9 فیصد مریضوں کے سرطان کا خاتمہ ہو چکا تھا۔
گو کہ یہ علاج ترقی پذیر ممالک میں مہنگا اور عام دستیاب نہیں ہے لیکن جلد ہی یہ ہر جگہ دستیاب ہونا شروع ہو جائے گا۔ صحت عطائے خداوندی ہے جس کی حفاظت کرنا ہم سب کا فرض ہے۔

