ظہور احمد: ”وکھری ٹائپ“ کا بیوروکریٹ
کل کی بات ہے۔ 16 ماہ بعد کیبنٹ ڈویژن میں واقع وفاقی وزرات اطلاعات و نشریات جا نا ہوا وہی عمارت وہی دفاتر لیکن عمرانی حکومت میں وفاقی وزیر کا دفتر ”چائنا سنٹر“ منتقل ہو گیا تھا البتہ اصل حکمران سیکریٹری آفس اسی جگہ قائم دائم ہے۔ جہاں شروع دن سے قائم کیا گیا ہے جب 16 ماہ والی حکومت آئی تو بھی مریم نواز نے وزارت اطلاعات و نشریات کا رخ نہیں کیا ان کا بھی بیشتر وقت پی ٹی ہیڈ کوارٹرز میں قائم دفتر میں گزرتا یا پھر وزیر ہاؤس میں ہی آمدو رفت رہتی ان سے ملاقات مشکل سے ہوتی تھی جب کہ وزیر اعظم پاکستان تک رسائی ممکن تھی۔ میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (دستور) کا صدر اور نیشنل پریس کلب کا مسلسل 16 سال تک صدر رہا ہوں ان سے ذاتی تعلق ہے اور وہ مجھے عزت و احترام بھی دیتی ہیں۔ مجھے ہمیشہ انکل کہہ کر عزت افزائی کرتی ہیں لیکن میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ مریم اورنگ زیب سے 16 ماہ میں ملاقات نہیں کر سکا ان کے سٹاف افسر نے ہر روز اگلے ہفتے ملاقات کا ”لارا“ لگاتے لگاتے خود تو واشنگٹن ڈی سی میں انفارمیشن افسر کی پوسٹ جوائن کر لی لیکن وہ بھی اپنی تمام تر کوشش کے باوجود پی ایف یو جے (دستور) کے وفد کی ملاقات نہیں کروا سکا جب بھی فون کیا تو جواب ملا کہ منسٹر صاحبہ وزیر اعظم کے ساتھ ہیں جس پھر دوبئی میں اپنے بچوں کے پاس گئی ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وزارت میں اپنے آفس میں کتنی دیر بیٹھتی تھیں۔
دوسری طرف مجھے یہ جان کر اس وقت بے حد خوشی ہوئی جب میری پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور کے وفد کی قیادت کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کے سیکریٹری ظہور احمد سے ان کے دفتر میں پہلی ملاقات ہوئی جب انہوں نے کہا کہ میں تو ”ہم سب“ میں شائع ہونے والے آپ کے کالموں کا قاری ہوں اگرچہ ظہور احمد نے چند روز قبل ہی سیکریٹری وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کا چارج سنبھالا ہے۔ انہوں نے پہلے روز ہی اپنے سٹاف کو کہہ دیا ہے کہ ”ان سے کوئی بھی ملنے آئے تو اسے روکا نہ جائے ملاقاتیوں کے لئے دروازے کھول دیے جائیں انہوں نے کہا کہ میں جن وزارتوں میں رہا ہوں وہاں دروازہ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی تھی۔ سائل کو ملاقات کے لئے وقت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی جب کہ میں ان سے وقت لے کر گیا تھا۔ پہلی ملاقات میں دوستانہ ماحول میں گفتگو ہوئی جو کم و بیش ایک گھنٹہ جاری رہی میں نے ظہور احمد کو ایک“ وکھری ٹائپ ”کا بیوروکریٹ پایا بیوروکریسی کا دبدبہ اور نہ ہی اختیارات کا زعم۔
تکبر نے تو ان کو چھوا ہی نہیں ملاقاتیوں کے لئے خود کرسی اٹھا کر رکھنا ان کی انکساری ظاہر کرتی تھی۔ اس دوران سابق سیکریٹری محمد اعظم آ گئے تو انہوں نے سینئر کے طور پر ان کو عزت دی۔ ظہور احمد کے ذوق مطالعہ سے اندازہ لگایا وہ ایک ”باخبر“ سیکریٹری اطلاعات و نشریات ہیں جس سیکریٹری کے پاس اپ ڈیٹ رہنے کے لئے کالم پڑھنے کا وقت ہوتا ہے۔ وہ حکومت کے لئے ”کان اور آنکھوں“ کا فریضہ انجام دے رہا ہوتا ہے۔ حالات حاضرہ سے آگاہی اعلیٰ منصب پر فائز بیورو کریٹ کا طرہ امتیاز ہوتا ہے جب انہوں نے کہا کہ آپ کالموں خبر ہوتی ہے۔ میں خوشی سے پھولا نہیں سمایا۔
ماحول کو خوشگوار دیکھتے ہوئے میں نے 3 نکاتی ایجنڈے کا پہلا نکتہ پیش کر دیا اور ان سے کہا کہ میں بھارہ کہو، ایف 14 اور 15 میں صحافیوں کی الاٹمنٹ کی کمیٹی کارکن ہوں کمیٹی نے اپنایا دو سال سے زائد عرصہ سے مکمل کر لیا ہے لیکن تاحال فائل فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کو نہیں بھجوائی گئی تو انہوں نے یقین دلایا کہ فائل تیار ہے۔ ان شا اللہ ایک دو روز میں منزل مقصود تک پہنچ جائے گی اور ہاؤسنگ کمیٹی نے جن صحافیوں کو پلاٹ الاٹ کرنے کی سفارش کی ہے۔ ان کو جلد پلاٹ الاٹ کر دیے جائیں گے۔ میں دوسرا نکتہ پیش کیا کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن سے اے پی پی کے جرنلسٹس کا کوئی ختم کر دیا گیا تھا تو انہوں نے کہا کہ میں یہ مطالبہ بھی تسلیم کرتا ہوں کیونکہ میں اصولی طور سمجھتا ہوں کہ جب اے پی پی کے جرنلسٹس کو پریس کلب میں ووٹ دینے کا حق حاصل ہے تو ان کو پلاٹ دینے سے کیونکر محروم کیا جاسکتا ہے۔ میں نے خود صحافت میں سب ایڈیٹر کی حیثیت سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا تھا۔ انہوں بتایا کہ انہوں نے روزنامہ پاکستان کے لاہور سے اجراء کے موقع پر سب ایڈیٹر کی حیثیت سے کام شروع کیا تھا۔ لہذا مجھے صحافیوں کے مسائل سے پوری طرح آگاہی ہے۔ انشاء اللہ جب صحافیوں کو پلاٹ الاٹ کرنے کی فائل فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فیڈریشن کے پاس جائے گی۔ اس کے ساتھ وفائی وزارت اطلاعات و نشریات کی طرف سے اے پی پی کے جرنلسٹس کے کوٹہ کی بحالی کا فیصلہ بھجوا دیا جائے گا۔ اس طرح جلد ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ازالہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فیڈریشن کو بھجوائی گئی فہرست پر درخواستیں دینے والے صحافیوں کی شکایات کو سنا جائے گا۔ انہوں نے تیسرے نکتہ ریڈیو پاکستان اور اے ٹی وی کے ملازمین کے مسائل حل کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔
ظہور احمد سے نتیجہ خیز ملاقات کا پوری صحافتی برادری بالخصوص اے پی پی ایمپلائز یونین نے خیر مقدم کیا ہے۔ اے پی پی کا جرنلسٹس کوٹہ بحال کرانے میں ایم ڈی عاصم کچھی کا بھی مثبت کردار ہے۔ انہوں نے کوٹہ کی بحالی میں اپنا وزن ڈال ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ظہور احمد نے کوٹہ کی بحالی میں کوئی بیورو کریٹک رکاوٹ نہیں ڈالی وہ کھلے ڈھلے افسر ہیں۔ ان میں بیورو کریٹک تکبر نام کی کوئی چیز ان کے قریب سے نہیں گزری میں نے ان کو بتایا کہ میں پچھلے 50 سال سے وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات آ رہا ہوں مجھے انور محمود صاحب نے بہت متاثر کیا انہوں نے ہمیشہ ضرورت مند صحافیوں کی مدد کی میں نے ایسے افسر بھی دیکھے ہیں جب وہ اس منصب پر بیٹھتے تو ان کی گردن میں سریا آ جاتا ہے۔ اب سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔
ملاقات میں نے ظہور احمد کو اپنے کالموں کے مجموعہ روداد سیاست۔ 1، 2 اور 3 کے علاوہ چوہدری نثار علی خان کے بارے میں کتاب پیش کی سیکرٹری اطلاعات و نشریات ظہور احمد نے کہا ہے کہ صحافیوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ تعمیری اور مثبت صحافت کو فروغ دے کر فیک نیوز کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ صحافیوں کے آٹھ سال سے التوا کا شکار پلاٹوں کا معاملہ ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ پاکستان فیڈرل یونین؟
پی ایف یو جے دستور کے صدر محمد نواز رضا کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی وفد میں آر آئی یو جے کے صدر سید قیصر عباس شاہ، کشمیر جرنلسٹس فورم کے صدر خاور نواز راجہ، آر آئی یو جے دستور کے جنرل سیکرٹری رشید ملک، نائب صدر خضر زمان ملک، فنانس سیکرٹری راحیل نواز سواتی، مرزا عبدالقدوس، اے پی پی ایمپلائز یونین کی نائب صدر منیبہ افتخار، جنرل سیکرٹری راجہ ندیم، قیصر ذوالفقار شاہ اور آئے ٹی وی یونین کے صفدر نفیس اور دیگر عہدیداران شامل تھے۔

