عہد وسطیٰ کے ہندوستان کا اصل حاکم کون؟


muhammad raiyd khan

”ہمارا دور حکومت“ ، ”ہمارا سنہرا زمانہ“ ، ”ہندوستان کا شاندار اسلامی عہد“ ، ”مسلمانوں کا دور حکومت“ ، یہ اصطلاحات ہندوستان کے عہد وسطیٰ کی تاریخ بیان کرتے وقت کئی بار استعمال کی جاتی ہیں اور صرف سیاستدان ہی نہیں (جو عوامی جذبات کو بھڑکانے کے لیے تاریخی مفروضے گھڑتے ہیں ) بلکہ وہ دانشور بھی جو ”سنجیدہ“ اور ”ترقی پسند“ ہونے کا زعم رکھتے ہیں، کی جانب سے اکثر اپنی تحریروں اور تقریروں میں بیان کی جاتی ہیں۔

بر عظیم پاک و ہند (کیونکہ میرے نزدیک برصغیر کی اصطلاح، اس خطے کی تعریف کے لیے غلط ہے ) کے سیاسی و فکری منظر نامے میں یہ اصطلاحات کافی زیر گردش ہیں اور سرحد پار سے بھی بیشتر ہندو اور مسلمان سیاستدان اور دانشور جن میں مورخین سر فہرست ہیں، ان اصطلاحات کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں۔ ”ہندوتوی“ ان اصطلاحات کو ہندو عوام کو بھڑکانے اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال دلانے کی غرض سے استعمال کرتے ہیں جبکہ مسلمان ”قوم پرست“ انہیں مسلمانوں کا سنہری دور اور اسلام کا عہد حکمرانی یاد دلانے کے لئے اور ”ماضی کی روایات“ کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے اور اپنے ”ووٹ بینک“ بڑھانے کی خاطر استعمال کرتے ہیں۔

مسلمان سیاستدان اور دانشور ایسے مفروضات گھڑ کر جانتے بوجھے یا نادانستہ طور پر ”بی جے پی“ اور ”آر ایس ایس“ کے عہد وسطیٰ کی تاریخ کے متعلق من گھڑت اور تاریخی و طبقاتی شعور سے عاری نظریات کی توثیق کر دیتے ہیں جو ہندوستان میں ”ہندو مسلمان فسادات“ کو مزید بڑھاوا دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں کسی بھی مورخ یا میری طرح تاریخ کے طالب علم اور ناقد کا یہ فرض بنتا ہے کہ اگر تاریخ کی بنیاد پر مفروضات کو گھڑا جا رہا ہے تو انہیں رد کیا جائے اور صحیح تاریخ کو واضح کیا جائے۔

اس زمانے کو کہ جسے ہندوستان کا ”اسلامی دور“ کہا جاتا ہے ’کبھی بھی ہم عصر مورخین کی جانب سے ”اسلامی“ نہیں گردانا گیا بلکہ انہیں حکمران خاندانوں کے نام سے ہی موسوم کیا جاتا رہا ہے۔ مثلاً خلجی، تغلق، سید یا لودھیوں کی حکومت یا پھر عہد تیمیوریہ و عہد چغتائیہ وغیرہ۔ اسی طرح تقریباً چھ سو صدیوں پر مشتمل مغلوں کے دور حکومت کو بھی کبھی ہم عصر مورخین کی جانب سے اسلامی نہیں کہا گیا۔ بلکہ اگر ہم ان ادوار میں پیدا ہونے اور زندگی گزارنے والے مورخین کی کتابوں کا مطالعہ کریں تو ہمیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ یہ اسلام اور مسلمانوں کا دور حکومت تھا یا ترکوں، افغانیوں، مونگولوں، ایرانیوں اور عربوں کا؟

”اسلامی عہد“ کی اصطلاح خالصتاً انگریزوں کی پیدا کردہ ہے۔ اس اصطلاح کو استعمال کرنے کا اولین مقصد تو یہ تھا کہ ”ہندو مسلم فرقہ ورانہ اختلافات“ کو بڑھاوا ملے اور ہندوؤں کے اندر یہ احساس پیدا کیا جائے کہ ”تم ایک طویل عرصے تک ان مسلمانوں کے غلام رہے ہو اور ہم (یعنی انگریز) تمہارے نجات دہندہ ہیں۔“ دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ لمبے چوڑے عنوانات کے بجائے اسے اسلامی کہہ کر پورے عہد کو کہ جب مسلمان غیر ملکی حکمران ہندوستان پر قابض تھے، کو یکجا کر کے بیان کی سلاست پیدا کی جائے۔ بہرحال، اس حوالے سے ڈاکٹر مبارک علی اپنی کتاب ”بر صغیر میں مسلمان معاشرہ کا المیہ“ میں لکھتے ہیں کہ:

”اس اصطلاح کے ذریعے قرون وسطیٰ کے پورے عہد کو غیر ملکی حکمرانوں کا زمانہ کہا گیا تاکہ اس دلیل سے اہل برطانیہ جو خود بھی غیر ملکی تھے، ان کی حکومت کا بھی جواز پیدا ہو جائے۔ اور یہ ثابت کیا جائے کہ اہل ہندوستان میں حکومت کرنے کی اہلیت و قابلیت بالکل نہیں ہے، اس لیے یہ ہمیشہ غیر ملکی اقتدار کے سایہ تلے رہے ہیں۔ اس دور کو دور وحشت و بربریت اور ظالمانہ رکھا گیا ہے اور اس کے مقابلہ میں برطانوی راج روشن خیال اور سیکولر بن کر ابھرتا ہے۔ اس سے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ برطانوی دور کا تعلق ہندو دور حکومت اور مسلمان دور حکومت کی طرح کسی مذہب سے نہیں تھا بلکہ یہ ایک سیکولر دور تھا، جس میں ہندو اور مسلمان دونوں کو مکمل طور پر مذہبی آزادی تھی۔“

”اسلامی کا عہد حکمرانی“ کی اصطلاح کے نفاذ کی روایت اور نصابی کتابوں میں اس کا اندراج دراصل برطانوی سامراج کی ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ کی پالیسی کی غماز ہے۔ اسلامی عہد حکمرانی کی اصطلاح کو استعمال کر کے ہم قرون وسطیٰ اور اس سے پہلے کے ہندوستان کی طبقاتی تقسیم اور جاگیرداری کو بھول جاتے ہیں اور یہ حقیقت بھی نظر انداز کر دیتے ہیں کہ اس دور میں تمام مسلمان برسر اقتدار نہیں تھے بلکہ غیر ملکی جو دراصل ”سامراجیہ“ کے نمائندہ تھے، وہ اصل حاکم و فرمانروا تھے۔

ان غیر ملکیوں کے ساتھ کچھ مسلمان اور ہندو جاگیردار بھی شامل تھے لیکن ان کی طاقت سلطنت پر مضبوط نہیں تھی اور ان کی باضابطہ حکومت زیادہ سے زیادہ ان کے دیہاتوں تک محدود تھی۔ اقتدار کا اصل مرکز ”دہلی“ ہوا کرتا تھا جہاں چند ایک ہندوستانیوں کے علاوہ یا ان حضرات کے علاوہ جو شہنشاہ کی خوشامد میں پیش پیش رہتے تھے، بہت کم ہی ہندوستانی دکھائی پڑتے تھے، عام ہندوستانی جنتا اولاً، کسان کی شکل میں جاگیردار کے ذریعہ بالواسطہ طور پر ”شہنشاہ“ کی غلام تھی یا فوج میں بھرتی ہونے کی وجہ سے بلاواسطہ طور پر ۔ اس کے علاوہ عوام کی اکثریت محنت و مزدوری میں ملوث تھی جبکہ تاجر اور سرمایہ دار بیشک وہ ہندو ہوں یا مسلمان (جس میں ہندوؤں کی اکثریت تھی) سلطنت کو خراج دے کر عیش و آرام کی زندی بسر کرتے تھے۔ اگر کسی کی زندگی میں آرام نہیں تھا تو وہ بیچاری عام رعایا تھی، جس میں ہندو اکثریتی اور مسلمان اقلیتی تھے۔

بہرحال، بیرونی حملہ آوروں کے ادوار حکمرانی کو کسی بھی طرح مذہب سے جوڑنا انتہائی احمقانہ اور مضحکہ خیز ہے اور اگر کوئی مورخ ایسا کرتا ہے تو پھر وہ ہندوستان کے ”طبقاتی پس منظر” کو نظر انداز کر کے اپنے نظریات اور تصورات کے لئے بنیاد فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور تاریخ اور تاریخ نگاری سے ان کا کچھ تعلق نہیں ہوتا۔ غیر ملکی سامراجیوں کی حکومت کو “ اسلامی ”کہنا قطعاً قابل قبول نہیں ہے۔ ان حکمرانوں کا مذہب سے صرف اس قدر تعلق تھا کہ وہ پیدائشی طور پر مسلمان تھے اور کچھ نہیں۔ مسلمان مورخین کا اس طرح کے مفروضات کو تراشنے کا مقصد اس سے زیادہ نہیں ہوتا کہ وہ مسلمانوں میں ایک مصنوعی جذبہ پیدا کریں کہ ہندوستان پر تم نے ہزار سال حکومت کی ہے اس لئے اگلے ہزار سال بھی تم نے ہی حکومت کرنی ہے (یہ تصور پین اسلامزم کی وجہ سے مضبوط ہوا کیونکہ پین اسلامزم کے نزدیک جن علاقوں میں مسلمان بادشاہوں کی حکومت تھی انہیں نو آبادی سے آزاد کروا کر دوبارہ مسلمانوں کے تسلط میں لانا تھا) ۔ جیسے یہ بات انتہائی لغو ہے اسی طرح ان مورخین کے مفروضات بھی بچکانہ اور تاریخی شعور سے کلی طور پر عاری ہیں۔

Facebook Comments HS