عوامی جمہوریہ چین کا آنکھوں دیکھا حال (۱)


گزشتہ چند برسوں کے دوران جس ملک کی موجودہ، تاریخ، تہذیب و تمدن، رسوم و رواج، عقائد، کام کرنے کے ڈھنگ، نیز خطے میں اگر کسی ملک کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کے حوالے سے سب سے زیادہ لکھا گیا ہے تو وہ چین ہے۔ عوامی جمہوریہ چین۔

محنت میں عظمت کے مشہور مقولے پر پوری چینی قوم کار فرما ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس ملک نے قلیل عرصے میں ہر شعبہ زندگی میں کامیابی کے جھنڈے گاڑھے۔ چین روز مرہ ترقی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں اس بام عروج پر پہنچ چکا ہے جس کا ہم جیسے ممالک فقط تصور ہی کر سکتے ہیں۔ ایک ایسا ملک جس کی ایک امتیازی حیثیت اس کی کثیر آبادی ہے لیکن یہ کثیر آبادی بے کار اور بے روزگار نہیں بلکہ فعال و منظم اور متحرک قوم کی عملی تفسیر و تعبیر ہے۔ ایک ایسی سرزمین جس پر آپ قدم رکھیں تو نامعلوم سا سحر آپ کے قدم روک لے۔ پشتو کی داستانی ادبیات میں ایک اصطلاح بار بار آئی ہے۔ ”دہ چین ماچین شاپیرئی“ یعنی چین کی پریاں۔ آپ چین جائیں تو آپ کو ان کا حسن و جمال اور نفاست ہی اپنا گرویدہ نہیں بنائے گا بلکہ یہ ہر شعبہ زندگی میں اپنی لیاقت و قابلیت کا لو ہا منواتی نظر آئیں گی۔ خواتین ہر شعبہ زندگی میں نمایاں ہیں۔ چین میں صنفی برابری لفظی نہیں عملی طور پر نظر آتی ہے۔ آپ کی جنس آپ کی کامیابیوں کا راستہ نہیں روکتی۔ آپ کی زبان، آپ کا لہجہ یا آپ کے جلد کی رنگت آپ کے عزت و احترام میں کمی اور نہ ہی اضافے کا باعث بنتی ہے بلکہ معاشرے کے لئے آپ کی خدمت کا جذبہ۔ آپ کی کنٹری بیوشن اور آپ کا خلوص چینی معاشرے میں آپ کے احترام کا پیمانہ ہے۔

چین کی اجتماعی ترقی میں آپ کا کس قدر انفرادی کردار ہے یہ اور آپ کا ہنر، لیاقت اور قابلیت آپ کے مقام کا تعین کرتی ہے۔ چین ایک طرف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بام عروج پر پہنچ چکا ہے تو دوسری جانب اس نے اپنے عوام کو اپنی تاریخی تہذیب و تمدن سے جوڑے رکھنے کے لئے بھی خصوصی اقدامات کیے ہیں۔ ہر چند کہ شہری زندگی اب مشینی زندگی بن چکی ہے لیکن پھر بھی ایک ہفتے کے دوران میں نے اس بات کا مشاہدہ کیا کہ ہزار مشینی مصروفیات کے باوجود چینی ایک دوسرے کے دکھ درد اور خوشی غمی کو سانجھا سمجھتے ہیں۔

پاکستان میں اب کتب بینی اور اخبار بینی کا رجحان روز بروز کم ہوتا جا رہا ہے سفرنامہ نگاری کی صنف اب وی لوگ میں بدل چکی ہے لیکن پھر بھی جائزہ لیں تو چین کی سفری رودادیں پاکستان کے مختلف اخبارات، رسائل و جرائد میں تواتر سے شائع ہوتی رہتی ہیں۔ ”چلتے ہوتو چین کو چلیے“ کا سحر آج بھی قائم ہے۔ پس میں نے اسی لیے اس بات کا فیصلہ کیا کہ ایک ہفتے کے دوران میں نے چین میں جو کچھ دیکھا اسے زیر قلم لاؤں۔

میری کوشش ہے کہ ایک ہفتے کے مختصر وقت میں جو کچھ دیکھا، سنا اور محسوس کیا اسے اوروں تک پہنچاؤں۔ بظاہر مختصر لیکن درحقیقت ایک ہفتے کے ہمہ جہت سفر کی تھکاوٹ ابھی نہیں اتری۔ مجھے پاکستان آئے ابھی محض تین ہی دن اور اپنے گھر ( کوئٹہ ) آئے ہوئے فقط ایک ہی دن ہوا ہے لیکن میں نے قلم اٹھا کر روداد لکھنی شروع کردی ہے۔ تاکہ جو چیزیں اور جو رویے میرے مشاہدے میں آئے وہ حافظے سے محو نہ ہونے پائیں۔ میں کوشش کروں گا کہ مختصر سفر کی روداد بھی لکھوں۔ مشاہدہ بھی قارئین کے سامنے رکھوں اور ساتھ ہی ساتھ مختلف کتابوں اور رپورٹ ہونے والی خبروں کی مدد سے چین کے بارے میں زیادہ سے زیادہ اور ہمہ گیر تجزیے شامل حال رکھوں۔

چار ستمبر کو ہمیں ویزے کے لئے اسلام آباد بلایا گیا۔ وفد میں میرے علاوہ عرفان سعید، وسیم احمد، یار جان بادینی، ظفر بلوچ، ثاقب عزیز، اکبر نوتیزئی، گوادر سے نور محسن، بہرام بلوچ اسلام آباد سے معروف صحافی و اینکر پرسن رانا عمران لطیف، ڈاکٹر فرقان راؤ شامل تھے۔ ویزے کا عمل بڑی آسانی سے مکمل ہوا جس میں فرقأن راؤ کے ساتھ لوشینک اور اس کی ٹیم نے کافی معاونت اور ہمکاری کی۔ 16 ستمبر کو جب ہم اسلام آباد پہنچے تو پتہ چلا کہ پی آئی او جنہوں نے وفد کی قیادت کرنی تھی وہ سرکاری مصروفیات کے باعث نہیں جا سکتے لہٰذا اب وفد کی قیادت، کوآرڈی نیشن، رہنمائی، ترجمانی سبھی کچھ فرقان راؤ نے کرنی تھی۔ اگلے روز شام پانچ بجے ہم ایف سکس کے جس ہوٹل میں ٹھہرے تھے وہاں سے اللہ کا نام لے کر نکل پڑے۔ ائر پورٹ کا عمل مکمل کر کے اندر لاؤنج میں پہنچے تو ابھی فلائٹ کی روانگی میں دو گھنٹے باقی تھے۔ لاؤنج میں پہنچ کر کچھ ساتھی موبائل فونز کے ساتھ مصروف ہو گئے، کچھ وضو نماز کی تیاری میں لگے تو ایک آدھ ساتھی سیلفیاں لیتا نظر آیا اتنے میں فرقان راؤ نے اعلان کیا کہ کافی شاپ میں چلیں۔ کافی کمال کی تھی جس پر سبھی نے فرداً فرداً راؤ کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

ہماری ٹکٹ ائر چائنہ کی تھی۔ دس پندرہ منٹ کی تاخیر سے جہاز نے اڑان بھری تو اگلے چند منٹ بعد میں اپنی عادت سے مجبور جمائیاں لینے لگا۔ سیٹ کی پشت کو گرا کر آنکھیں بند کیں اور چند ہی منٹوں کے اندر ان دیکھی سرزمین کے تصورات کے ساتھ نیند کی وادیوں میں پہنچ گیا۔

(جاری ہے )


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments