قفقاز کی صورتحال
آذربائجان اور آرمینیا دو ہمسایہ ممالک ہیں جو قفقاز کے علاقے میں واقع ہیں۔ ان دونوں کے عین وسط میں واقع ایک علاقہ ہے اس کا نام نگورنو کاراباخ کا ہے جس پہ دونوں پڑوسی حق ملکیت جتاتے ہیں۔ 1990 ء کی دہائی میں آرمینیا نے ایک حملے کے نتیجے میں اس کو فتح کرنے کا دعویٰ کیا اور یہاں ایک نئی ریاست کا قیام کیا اور اس کا نام آرتاساخ رکھا جس کی علاقہ میں عملداری لگ بھگ تیس سال تک قائم رہی مگر دنیائے عالم نے اسے تسلیم نہیں کیا۔
یاریوان نے اس پہ اپنا تسلط اگرچہ اتنے عرصے تک قائم رکھا مگر آذربائجان نے ایک جوابی حملے میں اچھا خاصا علاقہ سن 2020 ء میں واپس لے لیا مگر مکمل عملداری حاصل نہ ہو سکی اور اس کی حفاظت کا بندوbست روسی امن فوج کے حوالے ہی رہا۔ اب 19 ستمبر 2023 کو آذربائجان نے ایک فیصلہ کن کارروائی کی اور اپنی فوج کو حکم دیا کہ مقبوضہ علاقوں کو واگزار کیا جائے۔ حکم کی تعمیل کی گئی۔ یہ کارروائی اتنی مہارت اور چابک دستی کے ساتھ کی گئی کہ چوبیس گھنٹوں میں ہی آرمنیںا کی افواج اور دیگر علیحدگی پسندوں نے ہتھیار ڈال دیے اس موقع پہ روسی امن فوج بھی خاموشی سے دبک کر بیٹھی رہی۔
آذربائجان نے بڑے تدبر اور گہری پلاننگ کے تحت ہی یہ بڑا فیصلہ کیا تھا کہ وہ روسیوں کی موجودگی سے نالاں تھے چونکہ آج کل یوکرائن کی مہم جوئی کی وجہ سے روسیوں میں وہ پہلا سا دم خم موجود نہیں ہے تو آذربائجان نے سوچا چلو یہ قصہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر دیتے ہیں اور اس طرح روسی افواج کو واپس جانا ہو گا۔ دوسری اہم وجہ اس خود ساختہ اور غیر قانونی ریاست کے نام نہاد انتخابات تھے جو اس ماہ منعقد کیے گئے جس سے نہ صرف آذربائجان میں بے چینی بڑھی بلکہ یورپی یونین، اسلامی ممالک کی تنظیم آؤ آئی سی، اور ترکیہ کی اجتماعی تنظیم نے بھی کھل کر مخالفت کی تھی۔ دراصل آذربائجان کے ساتھ بہت بڑے کاروباری اور اقتصادی مفادات وابستہ جڑے ہوئے ہیں۔ ایک بڑی شاھراہ جو یوریشیا کو کاکسس سے ملانے کے لئے بنی ہے وہ یہیں سے گزرتی ہے اور اس پہ بلا رکاوٹ ٹریفک تب ہی رواں دواں ہو سکے گی جب ایک مربوط نظام موجود ہو۔
اس میں آرمینیا کا بھی اہم کردار ہے۔ یہ سڑک اپنے مقررہ مدت سے ایک سال قبل ہی مکمل کرلی گئی مگر جب تک آرمینیائی علاقوں میں عملداری قائم نہ ہوتی تو یہ شاھراۂ ترقی کامیاب نہ ہو سکتی لہذا لازم تھا کہ یہاں ایک پائیدار نظام قائم کیا جائے۔ پچھلے تیس برس میں اقوام متحدہ کی کئی قراردادوں کے تحت مقبوضہ علاقوں سے قابضین کے انخلاء اپیلیں کی گئیں مگر ان پہ عمل نہ ہوا اور اب لازم تھا کہ ایک فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔
اس فتح کے بعد آذربائجان پہ لازم ہے کہ وہ ایک پائیدار امن کی خاطر تمام وسائل بروئے کار لائے اور اقلیتوں کے انسانی حقوق کی پاسداری کرے۔ کاراباخ سے بہت سے لوگ انخلاء کر کے دوسرے محفوظ علاقوں میں نقل مکانی کر گئے ہیں جبکہ باکو حکومت نے انہیں تسلی رکھنے کا کہا ہے اور ان کے تحفظ کی ضمانت دی ہے مگر بعض مغربی تنقید نگار باکو پہ الزام عائد کرتے ہیں کہ وہاں غالباً انسانی حقوق کی پامالیاں واقع ہو رہی ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے۔
جو لوگ اپنے مذہب اور عقائد کی پاسداری کرنا چاہیں انہیں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہونا لازم ہے۔ اس جنگ میں ترکیہ نے چونکہ آذربائجان کی مکمل مدد اور تائید و نصرت کی تھی تووہ فاتح ہے مگر ایران اور روس اس میں شکست خوردہ ہیں چونکہ وہ آرمنییا کے حامی تھے۔ اب توقع ہے کہ اس علاقے میں امیر ممالک کے امیر ترین اشخاص بھاری سرمایہ کاری کریں گے اور ترقی اور خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہو گا۔ سپین کے معروف شہر گریناڈا میں ایک اہم اجلاس مورخہ 5 اکتوبر کو ہونا ہے اس سلسلے میں آرمینیا اور آذربائجان کے اعلیٰ حکام شریک ہوں گے اور ایک نئے روشن مستقبل کی تلاش کریں گے۔ امید ہے اس علاقے میں ایک پائیدار امن کی صورت جلد ممکن ہو اور عوام سکھ چین کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں۔


