کرکٹ میں جیت کے لیے کیا درکار ہے؟


بے شمار کھیلوں کے درمیان کرکٹ کا کھیل، محض چند ممالک میں کھیلا جانے کے باوجود، اتنا کامیاب ہے تو اس کی ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس کھیل میں صرف کھیلنے والوں کی صلاحیتیں ہی نہیں بلکہ بہت سی دوسری چیزیں مثلاً موسمی حالات، گراؤنڈ کے حالات، حتیٰ کہ ایک دن پہلے اس گراؤنڈ یا اس شہر کا موسم تک اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اور ظاہر ہے یہ عوامل وقتاً فوقتاً بدلتے بھی رہتے ہیں۔

زندگی کے ہر میدان اور ہر کھیل کی طرح کرکٹ میں بھی جدت آ گئی ہے۔ دور حاضر کی کرکٹ میں کسی بھی ٹیم کو ایک چیمپیئن یا ورلڈ کلاس ٹیم بنانے والا اہم ترین عنصر مائنڈ سیٹ ہے۔ بلاشبہ بیٹسمین کی تکنیک، صلاحیت اور ہنر اتنے ہی ضروری ہیں جتنے آج سے پندرہ بیس سال پہلے تھے لیکن ان تینوں صلاحیتوں کی بنیاد پر حاصل کردہ مقاصد تیزی سے تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ جدید کرکٹ میں مائنڈ سیٹ ہی ہے جو کسی کھلاڑی کو میچ ونر اور ٹیم کے لیے ناگزیر بناتا ہے۔

یہ بیان نرا کتابی بیان ہی ہے یا اس کو عملاً بھی پرکھا جا سکتا ہے؟ اس جانچ کے لیے آج سے آٹھ دس سال پہلے والی انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کی ٹیموں پر نظر دوڑائیے۔ دونوں ٹیمیں اگرچہ اس وقت بھی کرکٹ کی دنیا میں میں کافی بڑی ٹیمیں سمجھی جاتی تھیں مگر 2010 کی دہائی کے شروع تک یہ کسی گیم پلان کے یا آج کے تناظر میں بات کی جائے تو بوسیدہ طرز کی کرکٹ کھیلا کرتی تھیں۔

انگلینڈ کو ہر سیریز میں نئے اوپنر اور نیا کمبینیشن درکار ہوتا تھا۔ ہر میچ میں مڈل آرڈر اوپر نیچے کرتے تھے مگر اس کے باوجود ایک ایوریج ٹیم تھے۔ 2006۔ 2007 میں سری لنکا کے ہاتھوں انگلینڈ کو اپنے ہوم پر ہونے والی ایک روزہ میچوں کی سیریز میں 0۔ 5 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 2007، 2011 اور 2015 کے ورلڈ کپ میں انگلینڈ کی پرفارمنس نرم سے نرم لفظوں میں بھی شرمناک ہی کہی جا سکتی ہے۔ مسلسل دو عالمی کپ کے دوران انہیں بنگلادیش کے ہاتھوں ذلت سہنی پڑی۔

نیوزی لینڈ کا حال بھی کچھ مختلف نہ تھا۔ نیوزی لینڈ کا عموماً یہ خاصہ رہا ہے کی وہ نہ تو اپنی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کی موجود صلاحیت سے بڑھ کر کھیلتے ہیں اور نہ ہی کم۔ لہٰذا وہ ایک ایسی ٹیم بن کر رہ گئی جو وقتاً فوقتاً پرفارمنس ضرور دیتی تھی مگر اسے کبھی بھی عالمی سطح کی کرکٹ میں کوئی بڑا خطرہ نہیں سمجھا جاتا تھا۔

2015 کا ورلڈ کپ انگلش کرکٹ کے لئے کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں تھا۔ آسٹریلیا کی سرزمین پر ایک ڈو اور ڈائی میچ میں انہیں بنگلادیش کے ہاتھوں شکست کھانی پڑی۔ شاید یہی وہ نقطہ تھا جس نے انہیں اپنی بوسیدہ طرز کرکٹ کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا۔ کرکٹ بورڈ اور تمام فیصلہ سازوں کی لمبی چوڑی ملاقاتیں ہوئیں، کھلا بحث و مباحثہ ہوا۔ اس ورلڈ کپ میں انگلینڈ کے کپتان آؤین مورگن تھے جنہیں اس ورلڈ کپ سے کچھ عرصہ پہلے ہی ٹیم کی مستقل کپتانی سونپی گئی تھی۔ اس سوچ بچار کے بعد انگلش کرکٹ جس نتیجے پر پہنچی وہ قابل ذکر بھی ہے اور قابل غور بھی۔

انگلینڈ نے اس ورلڈ کپ کے فوراً بعد سے اپنا انداز اور کرکٹ کھیلنے کا طرز عمل یعنی اپنا ’پلیئنگ سٹائل‘ مکمل تبدیل کر لیا۔ اسی سال جولائی میں نیوزی لینڈ نے انگلینڈ کا دورہ کیا۔ اس سیریز میں انگلینڈ نے تین مرتبہ 300 سے زائد کا مجموعہ عبور کیا جس میں ایک مرتبہ 350 اور ایک مرتبہ 400 سے زائد رنز بھی بنائے۔ یہ صرف آغاز تھا۔ اس سے ان کے مائنڈ سیٹ کا فرق واضح دکھائی دینے لگا تھا۔ مورگن نے اپنی ٹیم کو نڈر کرکٹ کھیلنے کا باقاعدہ سبق پڑھایا۔

وہی کھلاڑی جو ورلڈ کپ میں 70۔ 80 کے سٹرائیک ریٹ سے کھیل رہے تھے، اب پہلے دس پندرہ اوورز میں 100۔ 120 رنز جڑ رہے تھے۔ انگلینڈ کی یہ نئی طرز کرکٹ ایک تازہ دم ہوا کے جھونکے کی مانند تھی، ٹیم کے لئے بھی اور پرستاروں کے لئے بھی۔ کپتان مورگن انگلش کرکٹ میں ایک نیا برینڈ متعارف کروا رہے تھے۔ یہ نیا برینڈ منفرد تو تھا ہی اس کے ساتھ ساتھ اس کی کامیابی کا تناسب بھی عمدہ تھا۔ 2015 سے 2019 کے درمیان انگلینڈ نے 23 مرتبہ ایک اننگ میں 325 کا مجموعہ عبور کیا، جس میں تین مرتبہ اپنا ہی بنایا ہوا عالمی ریکارڈ توڑا۔

سری لنکا کے خلاف 443 کیا، پاکستان کے خلاف 444 اور پھر آسٹریلیا کے خلاف 481 کیا۔ وہی سٹوکس، بئیرسٹو اور ہیلز جو فی بال ایک رن بھی نہیں بنا پاتے تھے، اب رنز کا انبار لگا رہے تھے۔ 2011 سے 2015 تک انگلینڈ کی جانب سے ون ڈے میچوں میں 20 سنچریاں بنائی گئیں، جب کہ اگلے چار سال میں یعنی 2015 سے 2019 کے درمیان انگلینڈ نے ایک روزہ میچوں میں 48 سنچریاں بنائیں، جس میں سے 37 سنچریاں رن بال سے بہتر تھیں۔ انگلینڈ کی اس ٹیم میں شامل کھلاڑیوں نے اپنی تاریخ کی چھ تیز ترین سنچریاں بھی اسی عرصے میں بنائیں۔

انگلینڈ کی ٹیم میں یہ معجزانہ تبدیلی کیسے آئی تھی؟ یہ سب کچھ مائنڈ سیٹ بدلنے کی بدولت ہوا تھا، بلے بازوں کو نڈر اور بے خوف کرکٹ کھیلنے کی تلقین کی گئی بلکہ با قاعدہ سبق پڑھایا گیا۔ اسٹروک میکنگ پر خاص زور دیا گیا۔ پہلے دس پندرہ اووروں کو کھیل کا مومینٹم اپنی طرف کھینچنے کے لئے استعمال کیا گیا، نہ کہ نیا بال ’سی آف‘ کرنے کے لئے۔ اس نو طرز کی کرکٹ میں وکٹ بچانے سے زیادہ اہمیت رنز بنانے کی ہو گئی تھی۔ بڑا مجموعہ جوڑ لینے اور میچ میں دو قدم آگے رہنے کے لئے ایک خاص قسم کی حکمت عملی واضح طور پر انگلینڈ کی ٹیم کے لئے سود مند ثابت ہو رہی تھی۔

اس مائنڈ سیٹ کا نتیجہ یہ نکلا کہ انگلینڈ پہلے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا 2016 کا فائنل کھیلا (جو اس نے تقریباً جیت لیا تھا) اور پھر یہ ٹیم 2019 میں اپنی تاریخ کا پہلا ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب رہی۔

کچھ ایسا ہی معاملہ نیوزی لینڈ کے ساتھ ہوا۔ 2012 میں جب نیوزی لینڈ نے برینڈن مکلم کو کپتان بنایا تو ٹیم الزامات اور تنقید سے کی زد میں تھی۔ راس ٹیلر کو کپتانی سے ہٹانے پر نیوزی لینڈ کے سابق کپتان اور مایہ ناز بلے باز مارٹن کرو نے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے اس ٹیم کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے اپنی ٹیسٹ کیپ جلا دی ہے۔ مکلم نے اس مشکل میں ٹیم کو سنبھالا اور انگلینڈ کی طرح جارحانہ مائنڈ سیٹ اور اپروچ متعارف کروائی۔

وہ مورگن سے بھی کچھ دو ہاتھ آگے تھے۔ ان کا منترا تو دس اووروں کا بھی نہیں ہوتا تھا، بس ہر بالر کو مسلسل دباؤ میں رکھنے اور پہلی بال سے حریف پر چڑھ کر کھیلنے کی حکمت عملی تھی۔ مکلم خود اوپن کرتے تھے اور جس دلیری سے بیٹنگ کرتے تھے، کرکٹ کے مداحوں کے لئے وہ نظارے اور وہ ’تارے‘ یادگار بنتے گئے۔ 2015 کے ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ نے فائنل تک کوئی میچ نہیں ہارا۔ انگلینڈ، آسٹریلیا، سری لنکا اور پھر سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ کو جس بے رحمی کے ساتھ مکلم پہلے دس اووروں میں کھیلتا تھا وہ کھیل کی کایا کلپ کر دینے والا انداز تھا۔

مچل جانسن، ڈیل سٹین، مورنے مورکل، سٹورٹ براڈ، مچل سٹارک اور جیمز اینڈرسن جیسے ورلڈ کلاس گیند بازوں کے ساتھ اس نے گلی محلے کے بالروں والا سلوک کیا۔ پہلے دس اووروں میں 80۔ 90 اسکور کو اس نے معمول بنا لیا۔ نیوزی لینڈ کرکٹ اب ایک قوت بن چکی تھی۔ انہوں نے پہلی مرتبہ مکلم کی کپتانی میں ورلڈ کپ کے دو مسلسل فائنل کھیلے جن میں سے ایک تو وہ اپنی بدقسمتی کی بنیاد پر ہارے۔

کرکٹ بھی زندگی کی طرح ہے، کبھی آپ کے لئے رکتی نہیں۔ اس کے تقاضے، اس کے منترے وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ ٹی ٹونٹی کے عام ہونے سے کرکٹ میں کیا تبدیلیاں آئی ہیں، اس کی تفصیل میں نہیں جاتے۔ مگر یہ ضرور ہے کہ اب آپ کو ہر نوع کی (ٹی ٹونٹی، ون ڈے یا ٹیسٹ ) کرکٹ میں حقیقتاً ایک چیمپیئن ٹیم بننے کے لئے ایک خاص طرز کو اپنا پڑتا ہے۔ ایک مخصوص اپروچ، خصوصی مائنڈ سیٹ کے ساتھ گراؤنڈ میں اترنا پڑتا ہے۔ آج کی کرکٹ میں 320 رنز ہوجانا تشویشناک نہیں ہے، اس ہدف کا تعاقب نہ کر پانا البتہ تشویشناک ہے۔

اور سچ پوچھیں تو یہ سارا پنگا (اگر اس لفظ کو گوارا کیا جا سکے تو) صرف پریشر کا کھیل ہے۔ پریشر یا دباؤ وہ بلا ہے جو اگر آپ پر طاری ہو جائے تو ایک عام سا گیند باز آپ کے لئے شین وارن اور مارشل بن سکتا ہے، نہایت عام سی باولنگ مشکل ترین بن سکتی ہے۔ ایسے لگتا ہے پچ ضرورت سے زیادہ سوئنگ بھی ہو رہی ہے اور سپن بھی۔ اور دباؤ صرف اور صرف شکست کے خوف سے پیدا ہوتا ہے۔ اچھی ٹیمیں ہمیشہ اس کوشش میں رہتی ہیں کہ اس سے پہلے کہ دباؤ ان پر آئے، وہ اسے اگلی ٹیم پر منتقل کر دیں۔ یوں سمجھیے اب جتنا کھیل گیند اور بلے کا ہے اتنا ہی ذہن کا بھی ہے۔ دباؤ منتقلی کے اس کھیل میں آپ کو جیت کے قابل وہی مائنڈ سیٹ بناتا ہے جو شکست کے خوف سے ماورا ہونے کی صلاحیت کا حامل ہوتا ہے۔

پاکستان میں آپ کو عموماً کرکٹ کے تجزیہ نگاروں اور سابق کرکٹرز سے ایک ہی بھاشن سننے کو ملے گا۔ ”ہمارے پاس وہ وسائل نہیں ہیں جو ایسے کھیل کے لیے ضروری ہیں۔“ یہ عموماً وہی لوگ ہیں جنہوں نے 80 اور 90 کی دہائی میں کرکٹ کھیلی اور دیکھی ہے۔ ان بے چاروں کا قصور بھی نہیں کہ یہ لوگ دور حاضر میں اس کھیل کے تقاضوں سے ناواقف ہیں۔ وسائل اور دستیاب کھلاڑیوں کو ہمیشہ اپنے نظریے اور اپروچ کے حساب سے ڈھالا جاتا ہے۔ کھلاڑیوں کو اس کے اچھے اور برے محرکات سے آگاہ کیا جاتا ہے، انہیں ان کے ٹیم یا بیٹنگ لائن اپ میں کردار سے آگاہ کیا جاتا ہے اور ان میں سے ہار یا آؤٹ ہونے کے ڈر کو ختم کیا جاتا ہے۔

اس ذہنی پختگی کو جنم دینے کے لئے انہیں متعلقہ پریکٹس اور کوچنگ مہیا کی جاتی ہے۔ یہی وہ طریقہ کار ہے جس سے تمام اچھی ٹیموں نے اپنے آپ کو پچھلی دہائی میں منوایا ہے اور چیمپیئن بننے کا اعزاز پایا ہے۔ جب کبھی اس حوالے سے بحث ہو تو مجھے اکثر انگلینڈ کے موجودہ ٹیسٹ اوپنرز، زیک کرالی اور بین ڈکٹ کی مثال یاد آتی ہے۔ کرکٹ کے پنڈٹ اگر ان دونوں کی تکنیک کو اپنے زمانے کی کرکٹ کے معیارات پر پرکھیں تو شاید انہیں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے لئے ہی غیر موزوں قرار دے دیں۔

مگر یہ ان کے نئے کپتان بین سٹوکس کی اپروچ ہی ہے جس نے انہیں آج ٹیم کا نہ صرف مستقل حصہ بنایا ہے بلکہ انہیں ٹیم کے لئے ’امپیکٹ پلیئر‘ بنا دیا ہے۔ بین ڈکٹ نے اپنے ٹیسٹ ڈیبیو سے پہلے شاید ہی فرسٹ کلاس میں اوپننگ کی ہو۔ اب حال یہ ہے کہ ڈکٹ یا کرالی کا تیزی سے کیا ہوا 30۔ 40 کا سکور بھی اتنا وزن رکھتا ہے کہ ٹیم کو ان کے جلدی آؤٹ ہونے سے بھی کوئی زیادہ نقصان نہیں پہنچتا۔ دباؤ کے کھیل میں جس نے پہلا وار کیا عموماً وہی فاتح ٹھہرتا ہے۔

آج کی کرکٹ میں مواقع پیدا کرنے پڑتے ہیں، آتے نہیں ہیں۔ اب ذہنی طور پر میچ میں اپنے حریف سے ایک قدم آگے رہنا پڑتا ہے۔ آپ بے شک در آنے والے اس زاویے کو مت مانیں، اسے ناپسند کریں اور اپنے پرانے انداز کی کرکٹ کا دفاع کرتے رہیں، آپ قریب ضرور آ جائیں گے، مگر چیمپیئن ٹیم نہیں بن سکیں گے۔ کسی بھی دن کوئی ٹیم اس اپروچ کے ساتھ آپ پر بھاری آ جائے گی۔

ورلڈ کپ اس بار انڈیا میں ہے جہاں بڑے مجموعے اور ان کا کامیاب تعاقب معمول کی بات ہے۔ پچھلے ایک ڈیڑھ مہینے میں جو کرکٹ کھیلی جا رہی ہے اس سے بھی یہی لگتا ہے کہ اب زیادہ تر ٹیمیں آہستہ آہستہ اسی طرز کرکٹ کو اپنانے کی راہ پر گامزن ہیں۔ پاکستان کی ٹیم البتہ ابھی بھی اس سلسلے سے نہ صرف دور بلکہ ناواقف نظر آتی ہے۔ فی الحال مرض کچھ اور ہے اور علاج نہ جانے کس چیز کا چل رہا ہے۔ ایسے عمدہ فاسٹ باؤلنگ اٹیک کے ساتھ پاکستان کی بیٹنگ اگر جارحانہ بلے بازی کر کے حریف کو انڈر پریشر کرنے کے اس منترے کو پلے باندھ لیتی ہے، تو ورلڈ کپ کی سب سے مضبوط ٹیم ابھر کر سامنے آ سکتی ہے۔ وسائل نہیں، سوچ بدلیں، اپروچ بدلیں۔ ڈر کے آگے واقعی جیت ہے۔

Facebook Comments HS