نو مئی پر مٹی کیوں ڈالو؟
ایک صحافی، تجزیہ کار، کالم نگار کا کام رائے دینا ہے جو وہ مشاہدہ کر رہا ہے اس کی بنیاد پر وہ اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے جبکہ سیاستدان کی رائے نہیں خواہش کا اظہار ہوتا ہے یا وہ نظر انداز کرنے پر شکوہ کرتا ہے۔ سیاسی و سماجی معاملات پر تجزیہ کاروں اور سیاستدانوں کا رائے زنی کرنا تو بنتا ہے لیکن دفاعی اور عسکری معاملات پر رائے زنی کی گنجائش نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے آپ کے پاس دفاع کو کور کرنے یا عسکری معاملات کی باریکیوں کا بھی اندازہ ہونا چاہیے۔
سیاسی، سماجی، دفاعی اور عسکری معاملات پر تو کسی حد تک رائے کا اظہار کیا جا سکتا ہے لیکن شدت پسندی اور دہشتگردی پر سب کی رائے ایک ہی ہوتی ہے کہ یہ لوگ ناقابل معافی ہیں۔ شدت پسند اور دہشتگرد معاشرے کا ناسور ہوتے اس لیے ناقابل رحم ہوتے۔ ان دونوں کے لئے وہی ہمدردی کا اظہار کر سکتا ہے جو ان کا بینیفشری ہو گا۔ 9 مئی اور 10 مئی کو پاکستان میں جو کچھ ہوا یہ ریاست کے خلاف ایک منظم سازش تھی جس کا بنیادی مقصد اپنے مذموم عزائم کو عسکری تنصیبات پر حملے کر کے حاصل کرنا تھا۔
الحمدللہ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے ان واقعات کے ٹھیک تین دن بعد میں نے اس کی باقاعدہ خبر دی تھی کہ یہ کوئی معمول کا احتجاج یا گرفتاری پر عوامی ردعمل نہیں تھا بلکہ یہ منصوبہ بندی کے تحت کی گئی ایک ناکام بغاوت تھی جس کی پوری پلاننگ زمان پارک میں ہوئی تھی۔ پھر چند دن بعد ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں اس بات کی باقاعدہ تصدیق کی۔ تحریک انصاف چھوڑنے والے تمام لوگ ایک ہی بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ عمران خان نے 9 اور 10 مئی کے واقعات سے قبل پورا سال عوام کی ذہن سازی کی۔ عوام کے دلوں میں فوج مخالف نفرت پیدا کی۔ اس کا عمران خان نے برملا مردان میں ایک جلسے کے دوران بھی اظہار کیا۔ جب انہوں نے آرمی چیف جنرل باجوہ کو میر جعفر سے تشبیہ دی۔ پھر جب فوجی ترجمان کی جانب سے سخت ردعمل آیا تو ساتھ ہی کہا میں نے میر جعفر اور میر صادق نواز شریف اور شہباز شریف کو کہا تھا جبکہ نواز شریف کا عمران خان کو ہٹانے میں دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے کے بعد بھی نواز شریف نے حکومتی معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔
وہ تو فوری انتخابات کے حامی تھے۔ اس بات کی تصدیق جنرل باجوہ نے بھی اپنے ایک مبینہ انٹرویو میں کی تھی۔ جب عمران خان نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے قبل لانگ مارچ کیا اور اسلام آباد میں چڑھائی کرنے کا اعلان کیا تو نواز شریف تو تب باقاعدہ شہباز شریف سے حکومت معاملات میں بات کرنے لگے تھے۔ اس وقت نواز شریف نے شہباز شریف کو واضح کہہ دیا تھا اب آپ نے کسی سے بلیک میل نہیں ہونا ان کو کسی صورت اسلام آباد نہیں آنے دینا جو بھی ہو گا دیکھا جائے گا۔
پھر آپ نے دیکھا ہو گا رانا ثناء اللہ بھی شیر بن گئے تھے۔ خیر عمران خان پھر بھی راولپنڈی میں پہنچے جلسے سے خطاب کیا اور جب کوئی ڈیل نہ مل سکی تو مجبوراً اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کر کے گھر واپس آ گئے۔ پے در پے ناکامیوں کے بعد عمران خان اور اس کے چند شدت پسند ذہنیت رکھنے والے صلاح کاروں نے فوج پر آخری وار کرنے کا پلان بنایا۔ ان کا پلان تھا پارٹی کے چند سرکردہ لوگ عوام کو خود لیڈ کرتے ہوئے عسکری تنصیبات کی طرف لے کر جائیں گے جیسے عوام وہاں پہنچیں گے ہم خود غائب ہو جائیں گے پھر عوام جانے اور فوج جانے۔
اگر فوج نے عوام پر گولی چلائی تو لاشیں گریں گی اور ملک میں خانہ جنگی شروع ہو جائے گی۔ ہر طرف انقلاب کا سماں ہو گا پھر عمران خان کو عوام کندھوں پر اٹھا کر وزیراعظم ہاؤس لے جائیں گے۔ سپہ سالار کو بھی برطرف کر دیا جائے اور عمرانی راج کا نیا دور شروع ہو گا۔ لیکن فوجی قیادت نے بھرپور نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔ شدت پسندوں اور بلوائیوں کا پرامن طریقے سے مقابلہ کیا۔ پھر جیسے انقلاب دم توڑ گیا اور پولیس حرکت میں آئی تو انقلابیوں کو چن چن کر عوام کے سامنے لایا گیا۔
ناکام بغاوت کے بعد جعلی انقلابیوں کو پھر جان کے لالے پڑ گئے۔ جو ملک سے بروقت بھاگ گئے وہ بچ نکلے جو بھاگنے میں ناکام رہے وہ دھر لیے گئے۔ جب انقلابیوں کی حوالات میں آنکھ کھلی تو پتہ چلا انقلاب تو وڑ گیا ہے۔ پھر جب ان کے کیسز فوجی عدالتوں میں گئے تو ان کے جعلی انقلابیوں سے ہمدردی رکھنے والے ججوں نے انگڑائی لی اور وہ میدان میں آ گئے۔ جبکہ 1956 سے یہ ججز فوجی عدالتوں کے معاملے میں چپ کا روزہ رکھے ہوئے تھے۔ ایک ناکام بغاوت نے فوج کے اندر اور عدلیہ کے اندر بیٹھے انقلابیوں کے حامیوں سے بھی پردہ اٹھ گیا۔
فوج نے سب سے پہلے اپنے لوگوں کو سزائیں دے کر واضح میسج دے دیا اس ناکام بغاوت میں جو بھی شریک جرم ہو گا وہ بچے گا نہیں۔ ناکام بغاوت کے نامزد ملزمان کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل روکنے کا واضح مطلب قوم کے عظیم شہداء کی قربانیوں پر سمجھوتہ کرنا ہے۔ کوئی خود دار اور باضمیر آرمی چیف یا چیف جسٹس یا وزیراعظم اپنے شہداء کی قربانیوں پر سمجھوتہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اگر 9 مئی اور 10 مئی کے ملزمان پر مٹی پاؤ والا فارمولہ اپلائی کیا جاتا ہے تو ارض پاک کے لئے قربانیاں دینے والے شہداء کے لواحقین کا آپ کیسے سامنا کر پائیں گے۔ 9 مئی تے مٹی کیوں پاؤ؟ اس سوال کا جواب آپ دیں۔


