بدلا ہوا پاکستان اور نواز شریف کی واپسی۔ پارٹ 3۔ آخری قسط۔


پاکستان کے سیاسی حلقوں کے لئے نواز شریف کی وطن واپسی غیر متوقع تھی اور پھر اس پر طرفہ تماشا یہ کہ نواز شریف کو عدالتی ریلیف مل گیا ان کو دی گئی سزا کے خلاف دائر اپیلیں بحال ہو گئیں تو 16 ماہ کی پی ڈی ایم حکومت کی اتحادی جماعتوں نے سب سے زیادہ ”لیول پلیئنگ فیلڈ“ کی عدم فراہمی کا شور و غوغا کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی پی ٹی آئی کو ”لیول پلیئنگ فیلڈ“ کرنے کی وکالت کرتی نظر آ رہی ہے بلکہ اسے اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ کل تک ان کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ن) کے اقتدار میں آنے کے لئے تمام رکاوٹیں دور کی جا رہی ہیں۔

آصف علی زرداری نے آئندہ انتخابات میں کامیابی کی جو تاش لگائی تھی۔ وہ نواز شریف کی واپسی سے بکھر گئی ہے کیونکہ مسلم لیگ (ن) نے کامیابی کی صورت میں نہ صرف نواز شریف کو وزارت عظمی کا امیدوار نامزد کر دیا ہے بلکہ بقول فیصل کنڈی نواز شریف نے اپنی واپسی کے بعد آصف علی زرداری کو ”مس“ کال بھی نہیں کی اپنی آمد کے دو ہفتے بعد ان کا آصف علی زرداری سے رابطہ تو ہو گیا لیکن تا حال ملاقات کی کوئی صورت نہیں نکلی فیصل کنڈی نے گلہ کیا ہے۔ نواز شریف نے تا حال پی ڈی ایم کے صدر کو بھی کال نہیں کی دراصل انہیں اس بات کا غم کھائے جا رہا ہے کہ نواز شریف کی ”بخیر و عافیت“ واپسی کے بعد ان کی آصف علی زرداری ملاقات نہیں ہوئی دونوں کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا جس میں دونوں نے ریاست بچانے کے لئے مل کر کام کرنے پر اتفاق رائے کیا لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل ہے۔ مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی کو پنجاب سے چند نشستیں تحفتاً پیش کرے گی۔ پیپلز پارٹی کو بدلے ہوئے پاکستان میں بدلا ہوا نواز شریف نظر آ رہا ہے جو پنجاب میں کسی جماعت سے ”شیئر“ کرنے کے لئے تیار نہیں پیپلز پارٹی مسلسل مسلم لیگ (ن) پر گولہ باری کر رہی ہے۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ترجمانوں کی جانب سے ایک دوسرے کو ”سوکنوں“ کی طرح طعنے دیے جا رہے ہیں۔ مریم اورنگ زیب نے کہا کہ پیپلز پارٹی ”لیول پلیئنگ فیلڈ“ کا رونا نہ روئے بلکہ الیکشن فیلڈ میں آئے ایک طرف پیپلز پارٹی لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ہونے کی بات کرتی ہے۔ دوسری کلین سویپ کا دعویٰ کرتی ہے۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ہم لیول پلیئنگ فیلڈ کر رہے ہیں جب کہ مسلم لیگ (ن) کو ایون فیلڈ سمجھ رہی ہے۔ عام تاثر یہ تھا کہ 16 ماہ کی شہباز حکومت نے مسلم لیگ (ن) کا ”سیاسی سرمایہ“ تباہ برباد کر دیا ہے۔ لہذا عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ لینے والا کوئی نہ ہو گا لیکن نواز شریف کے اپنے وطن کی سرزمین پر قدم رکھنے کے بعد صورت حال یکسر تبدیل ہو گئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) میں پارٹی ٹکٹوں کے حصول کے باقاعدہ لڑائیاں جاری ہیں۔ اس وقت جتنی گروپ بندی مسلم لیگ (ن) میں شاید ہی کسی اور جماعت میں دیکھنے میں آئی ہو کیونکہ ہر مسلم لیگی نے یہ سمجھ لیا ہے کہ نواز شریف واپس آ گئے تو بس اب جیت مسلم لیگ (ن) ہی کی ہے جب کہ پیپلز پارٹی اور استحکام پاکستان پارٹی کو یہ خدشہ لا حق ہو گیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کو برسر اقتدار لانے کے لئے سٹیج سجایا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی 9 مئی 2023 کے سانحہ میں اپنا پورا سیاسی سرمایہ تباہ کرچکی ہے۔ اس کے حصے بخرے کیے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود پی ٹی آئی کے ترجمان اس خوش فہمی کا شکار ہیں کہ پی ٹی آئی کا ووٹ بینک قائم دائم ہے۔ نوجوانوں کی اکثریت ”بلے“ کو ووٹ ڈالے گی۔ پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سے ملاقات کر چکی ہے جس میں اس نے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے یقین دہانی کرائی ہے۔ بلے کا نشان پی ٹی آئی کا ہی ہو گا۔ انہوں نے یہ بات بھی کہہ دی کہ ”فکر نہ کریں چیئرمین پی ٹی آئی مائنس نہیں ہو گا۔ چیئرمین پی ٹی آئی ہیں۔ وہی رہیں گے۔“ پی ٹی آئی کے لئے چیف الیکشن کمشنر کی یقین دہانی حوصلہ افزا ہے لیکن پی ٹی آئی کو بلے کا انتخابی نشان الاٹ کرنے کا نوٹیفیکیشن فوری طور جار ی کرنے پر اصرار کر رہی ہے۔ سر دست پی ٹی آئی کی قیادت قانون دانوں کی ٹیم کے پاس آ گئی ہے جو عمران خان سے ملاقات کے بعد ان کی طرف سے بیانات جاری کرتی ہے۔

عام انتخابات کے تناظر میں انگریزی زبان کے لکھاریوں کا استعمال کردہ لفظ ”لیول پلیئنگ فیلڈ“ اردو زبان میں بھی مستعمل ہو گیا ہے۔ اب تو وہ جماعتیں بھی ”لیول پلیئنگ فیلڈ“ فراہم کرنے کا تقاضا کر رہی ہیں جنہوں نے شہباز شریف کی 16 ماہ کی حکومت کو بھرپور طریقے سے انجوائے کیا فیصل کریم کنڈی نے مسلم لیگی قیادت کو طعنہ دیا ہے۔ ”لیول پلیئنگ فیلڈ“ کا سن کر آپ کے چہرے پر مایوسی اور ماتھے پر پسینہ کیوں آ جاتا ہے؟ پیپلز پارٹی پر امید دکھائی دیتی ہے۔ 1988 ء کی طرح پیپلز پارٹی کامیابی کے جھنڈے گاڑے گی۔

نواز شریف نے نے جلسہ سے خطاب کے دوران ملک کو درپیش معاشی بحران، عوام کو مہنگائی، بے روز گاری اور غربت سے نجات دلانے کے لئے 9 نکاتی ایجنڈا پیش کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے انتخابی مہم میں اترنے کی پوری تیاری کر لی ہے۔ نواز شریف مسلم لیگ (ن) کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد سب سے پہلا کا م منشور کمیٹی کے قیام کا کیا ہے اگرچہ یہ بھاری بھرکم کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ علمی لحاظ سے بھاری بھرکم شخصیت سینیٹر عرفان صدیقی کو منشور کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا گیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کا منشور ماضی میں تیار کیے جانے والے منشوروں سے مختلف ہونا چاہیے اس منشور معاشی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہونا چاہیے اور عام آدمی کو مہنگائی کے عفریت کے چنگل سے باہر نکلنے کا باعث ہونا چاہیے مسلم لیگ (ن) کی مرکزی جنرل کونسل کا اجلاس دو بار ملتوی ہو چکا ہے۔ پہلے اجلاس 4 فروری 2023 ء کو بلایا گیا پھر 11 فروری 2023 ء بلایا گیا لیکن یہ اجلاس بھی بوجوہ ملتوی کر دیا گیا ممکن ہے کہ یہ اجلاس آئندہ ہفتے طلب کر لیا جائے لیکن سوال یہ ہے کہ ہے کہ نواز شریف کی وطن واپسی کے بعد ان کے وہ ساتھی آج کہاں کھڑے ہیں۔

چوہدری نثار علی خان کا مسلم لیگ (ن) میں واپسی با ب ختم ہو گیا ہے لیکن شاہد خاقان عباسی، مہتاب احمد خان، اقبال ظفر جھگڑا، مفتاح اسمعیل سمیت مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد ”ناراض“ بیٹھی ہے۔ انہیں کون راضی کرے گا؟ مسلم لیگ (ن) میں کچھ لوگوں نے ان رہنماؤں کی جماعت میں واپسی کے راستے مسدود کر دیے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں۔ ان کی واپسی سے انہیں پارٹی کی پچھلی صفوں میں بٹھا دیا جائے گا۔ مجھے ایک لاہوریے نے خاص طور پر فون کر کہا ہے کہ ”مسلم لیگ (ن) نے مینار پاکستان کے سائے تلے بہت بڑا جلسہ کر کے اسے اس غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے کہ اس نے پنجاب کا میدان مار لیا ہے۔ پچھلے 4، 5 سال میں حالات خاصے تبدیل ہو گئے ہیں۔ اب تو لاہور پر مسلم لیگ (ن) کی گرفت کمزور ہو گئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اپنی گرفت مضبوط ہونے کے اپنے دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لئے بڑی محنت کرنا ہو گی۔

Facebook Comments HS