مغلوں کا شاہی حمام اور ماسٹر حیدر علی کا گیزر


گزشتہ روز دہلی گیٹ سے اندرون لاہور داخل ہوئے تو داخل ہوتے ہی بائیں طرف مغل خاندان کا شاہی حمام دیکھنے چلے گئے جس میں خواص کے نہانے کے لیے ایک عظیم الشان عمارت بنائی گئی تھی جو ستون دار درجن بھر کشادہ کمروں پر مشتمل تھی۔ گرم اور ٹھنڈے پانی سے غسل کرنے کے جہازی سائز مختلف ہالز بنائے گئے تھے۔

اس عمارت کے شمالی حصے کو ٹھنڈے پانی کی فراہمی جبکہ جنوبی حصے کو گرم پانی کے لیے مختص کیا گیا تھا۔ عمومی خیال کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن میں یہ بات سامنے رکھی گئی کہ شمالی سائیڈ سرد جبکہ جنوبی گرم ہوتی ہے۔

پہلے پہلے دیوہیکل بھٹیاں آگ جلانے کے لیے بنائی گئی تھیں جن میں آگ دہکانے کے لیے خدام کو تہہ خانے میں اتر کر لکڑیاں ڈالنا پڑتی تھیں اس کے بعد پانی بہت بڑے ٹینکوں میں گرم ہو کر زیر زمین بنی نالیوں سے ہوتا ہوا غسل خانے تک پہنچتا تھا۔

شاہی حمام کی یہ ساری عمارت دو منزلہ تھی۔ تہہ خانے کو پروسیسنگ یونٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا جبکہ بالائی حصہ نہانے، کپڑے بدلنے اور تزئین و آرائش کرنے کے محرابی حجروں پر مشتمل تھا۔

ہمارا گائیڈ ارقم جب اتنی پرشکوہ عمارت کے بابت تفصیلات فراہم کر رہا تھا تو میں اس شاہی حمام سے کافی دور کھڑا ٹیکنالوجی کے اعجاز پہ انگشت بہ دنداں تھا اور سوچ رہا تھا کہ پانی کو گرم کر کے نہانے کے لیے مغلوں جیسے عظیم الشان حکمرانوں کو کتنے پاپڑ بیلنے پڑے تھے۔ انہوں نے نہ جانے کتنے انجینئروں، کاری گروں اور خدمت گاروں کی خدمات لے کر پانی کو گرم کرنے کا یہ اہتمام کیا ہو گا۔

لیکن ٹیکنالوجی نے اس جہازی عمارت کو صرف ڈیڑھ فٹ کے گیزر میں سمو کر ہر شخص تک رسائی دے دی ہے۔

میں دیکھ رہا تھا کہ اس گیزر اور شاہی حمام میں ایک فرق ضرور ہے وہ یہ کہ گیزر میں پانی ضرورت سے زیادہ گرم نہیں ہوتا بلکہ اس کا ٹمپریچر آپ خود سیٹ کرتے ہیں جبکہ شاہی حمام میں جب پانی زیادہ گرم ہو جاتا تو پانی کے نارمل ہونے تک شاہوں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا تھا۔

ٹیکنالوجی نے ایک عام آدمی کی زندگی کو جن سہولیات سے مزین کر دیا ہے۔ اگر کوئی مغل فرمانروا دوبارہ زندہ ہو کر آ جائے، اور اپنی سیاہ کلغی دار گھوڑوں کے مقابلے میں ائر کنڈیشن وی ایکس آر آلٹو دیکھ لے، سر درد سے آرام کی درجنوں معجونوں، کُشتوں اور شربتوں کے مقابل پینا ڈول ملاحظہ کر لے اور چودہ کمروں پہ مشتمل پانی گرم کرنے کے سسٹم کی جگہ ہائر کا صرف دس لٹر کا گیزر دیکھ لے تو اپنی شاہی سے دستبردار ہو کر چوا سیدن شاہ ضلع جہلم میں پانچ مرلے کا مکان کرائے پہ لے کر رہنے کو عیاشی خیال کرے۔

سائنس اور ٹیکنالوجی نے ہماری زندگیوں کو ماضی کے مطلق العنان تخت داروں اور عظیم الشان بادشاہوں سے بھی زیادہ سہل اور پر آسائش کر دیا ہے۔

 

Facebook Comments HS