جنرل مشرف: یہ کالم کوئی شائع نہیں کرے گا
اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ جنرل پرویز مشرف نے حکومت پر غاصبانہ قبضہ کیا تھا۔ آخر ایسی نوبت کیوں آئی اور وہ کیا عوامل اور محرکات تھے جن کی وجہ سے جنرل مشرف کو انتہائی قدم اٹھانا پڑا۔
لیکن دوسری طرف ہم جب جمہوریت کے دعوے داروں کی کارکردگی کا موازنہ جنرل پرویز مشرف کے عہد سے کرتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ مجموعی طور پر کارکردگی کے لحاظ سے وہ ان نام نہاد جمہوری ادوار سے بہتر تھا
معاشی حالات انتہائی سازگار تھے۔ امن عامہ کی صورت حال مکمل کنٹرول میں تھی۔ بے شمار ترقیاتی کام ہوئے۔ ذرائع مواصلات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے لاتعداد موٹر ویز بنیں۔ بڑی تعداد میں آبی ذخیرہ کے لئے ڈیمز بنے۔ موجودہ ڈیمز کو مزید بہتر بنانے کے لئے اقدامات کیے گئے۔ پاکستان ریلویز کو ترقی ہوئی اور معیاری ریل گاڑیاں عوامی سہولت کے لئے مہیا کی گئیں۔ برسوں میں مشرف پہلے آدمی تھے جنہوں نے ریلوے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے ریلوے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا اور ریلوے کے انتظامی امور بہتر بنانے کے لئے موثر اقدامات کیے۔
زراعت کے شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی اور نہری نالے جنہیں کھالے بھی کہا جاتا ہے، کی صفائی پر خطیر رقم خرچ کی گئی۔ موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی اسمبلنگ کے کارخانے لگائے گئے۔ پٹرول پمپوں کو ڈیجیٹلائز کیا گیا۔ معیاری کھانوں کی بین الاقوامی کمپنیوں کو پاکستان میں کام کرنے کا موقع ملا۔
ان تمام اقدامات سے روزگار کے بہتر مواقع پیدا ہوئے جن سے خوشحالی میں اضافہ ہوا۔ تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات کیے گئے۔ اور پہلی مرتبہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ہونہار طلبا و طالبات کو بیرونی ممالک کی اعلی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے سکالرشپ دیے۔
پاکستان بھر میں بارہ بین الاقوامی معیار کی یونیورسٹیاں بنانے کی ابتدا کی لیکن یہ منصوبہ سیاسی اتار چڑھاؤ کا شکار ہو گیا۔ فنون لطیفہ کی ترقی کے لئے موثر اقدامات کیے گئے اور ملک بھر میں آرٹس کونسلوں میں پرفارمنگ آرٹس کی ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی۔
ایک فوجی آمر ہونے کے باوجود جنرل پرویز مشرف نے ملک بھر میں ٹیلی ویژن چینلز کھولنے کی ابتدا کی اور ان چینلز کو مکمل آزادی دی کہ وہ جو چاہیں، نشر کریں۔ یہی وجہ ہے کہ ان چینلز پر جنرل مشرف کی حکومت کے خلاف بے لاگ تبصرے نشر ہوتے تھے۔ جنرل صاحب پر مزاحیہ اداکاروں سے ان کی نقلیں اتاری جاتی تھیں۔ اخبارات میں حکومت وقت پر شدید تنقید او ر نکتہ چینی کی جاتی تھی۔ جو کبھی بھی کسی جمہوری دور میں نظر نہیں آتی۔
ٹیلی ویژن چینلز سے بے شمار لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع میسر آئے۔ ہم بے شمار صحافیوں اور اینکر پرسنز کو جانتے ہیں کہ جن کی معاشی حالت چینلز کھلنے سے پہلے انتہائی کمزور تھی لیکن انہی ٹی وی چینلز کی وجہ سے یہ خواتین و حضرات کروڑ پتی بن گئے۔
بلاشبہ جنرل پرویز مشرف ایک آمر تھا۔ لیکن انہوں نے وطن عزیز کے دفاع کو مضبوط سے مضبوط تر بنایا۔ لوگ جانتے ہیں کہ جب بھارت نے پاکستان کی سرحدوں پر فوجیں کھڑی کر دیں اور جنگ کا شدید خطرہ تھا تو یہ جنرل مشرف کی عسکری حکمت عملی ہی تھی کہ بھارت کو بالآخر اپنے ناپاک عزائم میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
جنرل مشرف آمر تھا لیکن اس کے عہد میں ملک کی خارجہ پالیسی مضبوط بنیادوں پر استوار تھی۔ وہ دنیا بھر کے سربراہان مملکت سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گفتگو کر سکتے تھے اور ملکی وقار کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھتے تھے۔
وہ ایک مدبرانہ سوچ کے مالک تھے۔ جس موضوع پر اظہار خیال کرنا ہوتا تھا، اس پر پوری ریسرچ کرتے تھے۔ ہر موضوع کے تمام پہلووں کا احاطہ کرتے تھے جسے سن کر ارباب علم و دانش حیران رہ جاتے تھے۔ جنرل مشرف ایک آمر تھا لیکن ان کے دور میں ملک میں بلدیاتی انتخابات ہوئے اور بلدیاتی نمائندوں نے ملک کی ترقی و خوشحالی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ جنرل مشرف کے دور میں ملکی سطح پر منصفانہ انتخابات ہوئے اور جنرل صاحب کی بدترین مخالف سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع ملا۔
آج جب ہم اپنے سیاسی اکابرین کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ بڑی جاگیرداروں اور دنیاوی آسائشوں اور ہر جائز ناجائز حربوں سے مال و دولت کے ڈھیر اکٹھے کرنے والے کس منہ سے جنرل پرویز مشرف کا مقابلہ کرتے ہیں۔ وہ تو آمر تھا لیکن ملک و قوم کا خیر خواہ تھا۔ یہ بات ہضم کرنا مشکل ہے لیکن یہ تاریخی حقیقت ہے۔



سر اپنے دماغ کا علاج کروائیں