پیرس کے لگژری ہوٹل سے گم ہونے والی انگوٹھی کی گتھی جو دو دن بعد سلجھی


رٹز ہوٹل

پیرس کے معروف لگژری ہوٹل ’رٹز‘ سے ساڑھے سات لاکھ یورو کی ایک انگوٹھی گم ہوئی تو سب سے پہلا شک عملے پر گیا۔

یہ انگوٹھی ملائیشیا سے تعلق رکھنے والی ایک بزنس وومن کی تھی جنھوں نے بطور مہمان ہوٹل میں قیام کیا ہوا تھا۔

کاروباری خاتون نے پولیس کو بتایا تھا کہ انھوں نے جمعے کو انگوٹھی میز پر رکھی تھی۔ اس کے بعد وہ شہر میں کچھ گھنٹوں تک شاپنگ میں مصروف رہیں اور واپس آنے پر انھیں انگوٹھی نہ ملی۔

اس شکایت میں انھوں نے ہوٹل کے ایک ملازم پر انگوٹھی چرانے کا الزام بھی لگایا۔

دو دن تک انگوٹھی کی کھوج جاری رہی۔

پھر بالآخر اتوار کو رٹز پیرس کے سکیورٹی گارڈز نے انگوٹھی ڈھونڈ نکالی۔ پیرس کے ایک اخبار کی رپورٹ کے مطابق انگوٹھی ویکیوم کلینر کے اس بیگ میں تھی جس میں دھول جمع ہوتی ہے۔

اخبار کے مطابق مذکورہ خاتون جمعے کو لندن واپس چلی گئی تھیں لیکن اب وہ اپنی انگوٹھی لینے دوبارہ پیرس آئیں گی۔

ہوٹل نے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ انگوٹھی ان کے عملے میں سے کسی نے چُرائی تھی۔ رٹز نے ایک بیان میں کہا کہ انھوں نے مہمان کو اس تنگی پر تین راتوں کے مفت قیام کی پیشکش کی ہے۔ تاہم خیال ہے کہ وہ اس پیشکش کو قبول کرنے کا ارادہ نہیں رکھتیں۔

اخبار کو دیے گئے بیان میں ہوٹل نے کہا کہ ’سکیورٹی گارڈز کی کوششوں کی بدولت انگوٹھی آج صبح مل گئی۔‘

’ہم رٹز پیرس کے عملے کا شکریہ ادا کریں گے جو اس کھوج میں سرگرم رہے، اور وہ سچ اور پیشہ ورانہ قابلیت کے ساتھ ہر دن کام کرتے ہیں۔‘

اب یہ انگوٹھی تب تک پولیس کے پاس رہے گی جب تک خاتون واپس پیرس آ کر اسے حاصل نہیں کر لیتیں۔

ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ اس ہوٹل سے کوئی قیمتی جیولری کھو گئی ہو۔

سنہ 2018 کے دوران پانچ مسلح افراد نے ہوٹل میں زیورات کی ایک دکان سے 40 لاکھ یورو سے زیادہ مالیت کا سامان چُرایا تھا۔

اسی سال کے اواخر میں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ سعودی شاہی خاندان کے ایک فرد کی لاکھوں پاؤنڈز مالیت کی جیولری ان کے ہوٹل روم سے چرائی گئی ہے۔ شاہی خاندان کے اس فرد کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 31990 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments