ماحولیاتی الودگی


صحتمند معاشرے کی ترقی کے لئے صاف ستھرا ماحول بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ لیکن جوں جوں انسانوں نے ترقی کی بڑھتی ہوئی آبادی، کیمیائی تجربات اور جدید کیمیائی ضروریات زندگی کی اشیاء نے ماحول کو آلودہ اور مضر صحت بنانا شروع کر دیا۔ جو کہ ہر جاندار کے لئے زہر کے مترادف ہے۔ جو انسانوں میں طرح طرح کی پیچیدہ بیماریوں کا سبب بھی بن رہا ہے۔

ایک طرف تو انسان ترقی کی منازل طے کرتا ہوا چاند تک جا پہنچا ہے لیکن دوسری طرف اس کی یہی ترقی انسانیت کے لئے جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔ آج کا زہر آلود ماحولیاتی نظام انسانیت کے علمبرداروں اور حکمرانوں کے منہ پہ چیخ چیخ کر التجا کر رہا ہے۔

”بہتر ہے مہ و مہر پہ کمند ڈالو نہ کمندیں
انسان کی خبر لو کہ وہ دم توڑ رہا ہے۔ ”

ماحول میں ہونے والی مسلسل تبدیلیاں بھی ماحولیاتی مسائل کا ایک اہم سبب بن رہی ہیں۔ لہذا انسان کو قدرتی آفات، گلوبل وارمنگ، سردی اور گرمی کی بدلتی ہوئی کمی و زیادتی اور اس ہی جیسے دیگر ماحولیاتی مسائل کے بارے میں آگاہی ہونا بہت ضروری ہے۔

ماحولیاتی آلودگی تین طرح کی ہوتی ہے جس میں زمینی، فضائی اور آبی آلودگی شامل ہیں۔

ہم جو اپنے اردگرد کے ماحول کو کچرے، گندگی کے ڈھیر اور کوڑا کرکٹ سے خراب کر رہے ہیں صفائی کے اصولوں کا خیال نہ رکھنا یہ سب زمینی آلودگی کا سبب بنتا ہے۔

کارخانوں کا گاڑیوں کا دھواں اور کیمیکلز کی مضر صحت گیسز ہوا میں شامل ہو کر فضائی آلودگی کا سبب بنتی ہے۔ ہم اپنے ساحلی علاقوں کی صفائی کا خیال نہیں کرتے سارا کیمیائی مواد اور کوڑا کرکٹ وہاں لے جاکر اپنی طرف سے تو پحھینک دیتے ہیں لیکن وہی گند ہمارے آبی ماحول کو زہر آلود بنا دیتا ہے۔ جو کے انسانوں کے ساتھ ساتھ آبی مخلوق کے لیے بھی جان لیوا ہے۔

ماحولیاتی مسائل کو بڑھانے میں اہم کردار درختوں کی کٹائی نے بھی ادا کیا ہے۔ جس کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ درختوں کی بے دریغ کٹائی سے سیلاب، طوفان، زلزلے اور موسم کی شدت یعنی گرمی اور سردی کی شدت نے بھی اپنا تناسب تبدیل کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر درختوں کی کٹائی کا عمل نہ روکا گیا تو قدرتی آفات کے بڑھتے ہوئے عمل کو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک بجٹ بناتے وقت ماحول کو بھی اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں جیسے معیشت، دفاع اور تعلیم کے شعبے کو دی جاتی ہے۔

لیکن ہمارے یہاں بجٹ مرتب کرتے وقت صرف اپنے ذاتی مفادات کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ پھر چاہے انسانیت دم توڑ جائے یا سسک سسک کر آہ و بکا کرے سرکار اپنے کان بند کر کے بند ایوانوں میں طاقت کے نشے میں چور خواب خرگوش کے مزے لیتے ہیں۔

ماحولیاتی مسائل کو بڑھانے میں ایک بڑی وجہ کرپٹ نظام کے ساتھ ساتھ بگڑا ہوا انسانی طززندگی بھی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، صفائی کے اصولوں کا خیال نہ رکھنا، جدید کیمیائی ٹیکنالوجیز کا بے دریغ استعمال بھی ماحول کو آلودہ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ کیونکہ ایندھن کو جلانے، صنعتوں سے اور گاڑیوں سے نکلنے والے دھواں، اور درختوں کی نسل کشی سے کاربن ڈائی آکسائیڈ وافر مقدار میں آب و ہوا میں شامل ہو کر ماحول کو پراگندہ کر رہی ہے۔ جس کی وجہ سے اوزون کے حفاظتی دائرۂ کا خلاء بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ جو سورج سے نکلنے والی مضر اور نقصان دہ شعاعوں کو اپنے اندر جذب کر کے ہمیں اس کے نقصان سے بچاتی ہے۔

ماحولیاتی مسائل سے ہونے والے نقصان میں بنجر اور بنجر علاقوں میں زرعی پیداوار کا متاثر ہونا آب و ہوا میں تیزی سے تبدیلی، قدرتی آفات میں زیادتی، خوراک اور توانائی کا بحران سر فہرست ہیں۔

ہمیں ان عوامل سے نبردآزما ہونے کے لیے سب سے پہلے درختوں کی بے جا کٹائی کے عمل کو روک کر شجرکاری مہم کا آغاز کرنا چاۂیے۔ ماحول کو آلودہ کرنے والے پلاسٹک بیگز اور ڈسپازیبل چیزوں کو روک کر بار بار قابل استعمال چیزوں کو فروغ دینا چاہیے۔ کوڑا کرکٹ اور ڈسپوزیبل چیزوں کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کا عمل شروع کرنا چاہیے۔ صفائی مہم کا آغاز ہونا چاہیے۔ حکومت کو موسمی مسائل کو اولین ترجیح دیتے ہوئے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ ملکی سلامتی کو جو خطرات قدرتی آفات اور ماحولیاتی آلودگی سے درپیش ہیں ان سے بحسن خوبی طریقے سے نبٹا جائے۔ حکومت کو ایسے سیمینار کا انعقاد بھی کرنا چاہیے جس میں اسکولوں سے لے کر اداروں تک ان مسائل اور ان کے حل پر گفتگو ہو اور ان سے نبرد آزمائی کے حل کے طریقے مل سکیں۔

ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے والے تمام عوامل کی حوصلہ شکنی کر کے اور احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کر کے ہی ماحولیاتی مسائل کے جن پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

Facebook Comments HS