انتہائی صارفیت اور ماحولیاتی تبدیلیاں


سرمایہ دارانہ معاشی نظام میں صارفیت پسندی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اس لیے یہ معاشی نظام صارفیت کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے پر زور دیتا ہے۔ اشتہارات اور دیگر ذرائع کی مدد سے صارف کے دل میں مختلف چیزوں کے بارے میں یہ یقین پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ چیزیں اس کی بنیادی ضرورت ہیں۔ ویسے تو انسانی تاریخ میں خرید و فروخت کا تصور بہت پرانا ہے۔ اور تاریخ کے مختلف ادوار میں خرید فروخت کا نظام اور صارفیت کی ثقافت اپنی صورت تبدیل کرتی رہی ہے لیکن صنعتی انقلاب کے بعد کنزیومرازم یعنی صارفیت کی ایک نئی شکل سامنے آئی ہے جس کے تحت سرمایہ دار یہ تصور کرتا ہے کہ ہر چیز کو بیچا جا سکتا ہے اور پھر انسانی معاشرے میں مختلف چیزوں کے خریدار بنانے کے لیے مختلف حربے اختیار کیے جاتے ہیں گلوبلائزیشن نے صارفیت کی ثقافت کو ایک نیا عروج دے کر ہماری دنیا کو ایک عالمی منڈی میں تبدیل کر دیا ہے۔ بلکہ اب تو ہم انتہائی صارفیت یعنی ہائپر کنزیومرازم  کے عہد میں جی رہے ہیں۔ جس میں غیر ضروری اور غیر پیداواری اشیا کی خریداری کی ایک دوڑ شروع ہو گئی ہے۔

انتہائی صارفیت کے اس دور کی ایک اہم نشانی ٍ استعمال کرو اور پھینک دو ”یعنی ڈسپوزیبل کلچر بھی ہے۔ اسی وجہ سے موجودہ انسانی معاشرے کو Throwaway society بھی کہا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے ہماری دنیا پلاسٹک اور دیگر اشیا کے ایک دفعہ استعمال کے بعد پھینکنے کی وجہ سے آلودہ ہو رہی ہے۔

اس سلسلے میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق کھانے کی چیزوں سے لے کر کھلونوں تک عام صارفین کی طرف سے خریدی جانے والی چیزوں کی پیداوار عالمی سطح پر 60 فیصد گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کا سبب بنتی ہے۔

اس حوالے سے آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک کتاب کلائمیٹ چینج اینڈ سوسائٹی میں شایع ہونے والے ایک آرٹیکل کے مطابق گھریلو صارفیت ماحولیاتی تبدیلیوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ لیکن اس تناظر میں یہ بات اہم ہے کہ امیر ملکوں کے پر تعیش زندگی گزارنے والے صارفین کے مقابلے میں غریب ملکوں اور آبادیوں کی خریداری بہت کم ہے۔ کیونکہ دنیا کی غریب آبادیاں اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے میں ہی مصروف عمل رہتی ہیں۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک کے صارفین گزشتہ کئی عشروں سے اندھا دھند خریداری کرتے رہے ہیں اور وہاں استعمال کرو اور پھینکو ثقافت عروج پر ہے۔

ورلڈ واچ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق اب یہ صارفیت پسندی کی ثقافت ترقی پذیر ملکوں میں بھی تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے۔ ایک امریکی تحقیقی ادارے کے مطابق دنیا کے ایک ارب ستر کروڑ لوگ کنزیومر کلاس کا حصہ ہیں۔ یہ وہ کلاس ہے جس کی خوراک زیادہ تر پروسیسڈ فوڈ ہے۔ اور یہ طبقہ بڑے گھروں، بڑی گاڑیوں کا شوقین ہے۔ جبکہ غیر ضروری اشیاء جمع کرنا ان کے طرز زندگی کا ایک جز ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جس کا پرتعیش طرز زندگی دنیا کو ایک غیر معمولی ماحولیاتی بحران کی طرف دھکیل رہا ہے۔

ورلڈ واچ انسٹیٹیوٹ کی صدر کرسٹوفر فلیون کے مطابق صارفیت کے بڑھتے ہوئے رجحان نے معاشی ترقی اور نوکریوں کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے لیکن جیسے ہی ہم نئی صدی میں داخل ہوئے تو خریداری کی غیر معمولی ہوس فطری نظاموں کی بربادی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا سبب بنی ہے جس کی وجہ سے دنیا کے غریبوں کے لیے بنیادی ضرورتوں کا حصول بھی مشکل بن گیا ہے۔ فطری نظام، دھرتی پر پانی فراہم کرنے کا نظام اور قدرتی وسائل ہر طرف پھلی ہوئی استعمال شدہ چیزوں جیسا کہ پلاسٹک، تھلیوں، کیمراؤں کی وجہ سے شدید طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔

اس طرح استعمال کرو اور پھینکو ذہنیت فطرت کی تباہی کا سبب بن رہی ہے۔ معروف ماحولیاتی محقق گارڈنر کی مطابق حیاتیاتی تنوع کے خاتمے سمیت تمام بڑے ماحولیاتی مسائل جن کا ہم آج سامنا کر رہے ہیں وہ غیر ضروری صارفیت پسندی کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں، بڑھتی ہوئی صارفیت پسندی کی مثال آپ اس طرح لے سکتے ہیں کہ کچھ عرصے پہلے تک ہم جن چیزوں کو عیاشی سمجھتے تھے ان کو آج بنیادی ضروریات میں شمار کیا جانے لگا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جنریشن زیڈ کے آئی فون استعمال کرنے والے نوجوان ہر دو سال بعد اپنا آئی فون تبدیل کرتے ہیں۔

اس طرح الیکٹرانک ویسٹ دنیا کے لیے ایک اہم ماحولیاتی مسئلہ بن گیا ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف 2022 میں قریب 5 ارب موبائل فون پھینک دیے گئے۔ اس کی علاوہ واشنگ مشینز سے لے کر ٹوسٹر تک اور ٹیبلیٹس سے لے کر کمپیوٹرز تک لاتعداد چیزیں الیکٹرانک ویسٹ کا حصہ بنتی ہیں۔ اور ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں الیکٹرانک ویسٹ کی مقدار 2030 تک 74 ملین ٹن سے تجاوز کر جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں ذاتی گاڑیوں کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے جس سے آلودگی کے مسائل بڑھ رہے۔

اسی طرح کھانے پینے کے طور طریقوں میں بھی اصراف بھی عام ہو رہا ہے۔ چیزوں کی خریداری کی یہ دوڑ ضرر رسان گرین ہاؤس گیسز کی مقدار میں اضافے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا سبب بن رہی ہے۔ اسی وجہ سے ماحولیاتی کارکنوں کا ماننا ہے کہ مستقبل میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ غیر ضروری خریداری کے رویوں میں بھی تبدیلی لانی پڑے گی۔

Facebook Comments HS