انجام گلستاں کیا ہو گا


مایوسی کفر ہے لیکن امید کا کوئی آسرا تو ہو۔ امکان کا پہلو ہو تو رجائیت فائدہ مند ورنہ محض خام خیالی و خود فریبی۔ امید کے عنقا ہونے کے ساتھ مستقبل کا ڈر، ڈر اس بات سے کہ نفرت ہیجان اور انتشار کا یہ رویہ معاشرے کو کہاں لے کر جائے گا نا امیدی اس لئے کہ کوئی اس نہج پہ سوچنے کے لئے تیار ہی نہیں۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں اندھی تقلید نے سلب کر لی کیونکہ عقیدت کی تیز روشنی میں بصیرت کی آنکھیں اندھیر ہوجاتی ہیں۔ حالات کی سنگینی کا احساس کرنے والے چند ہوشمند لوگ ہیں بھی تو اس نقار خانے میں ان کی آواز کون سنتا ہے۔

ہوش و خرد سے یہ بیگانگی فکری انتشار کا سبب بن رہی ہے۔ عام آدمی سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کے بجائے جذباتی نعروں اور کھوکھلے دعووں کے پیچھے لگ کر مرنے مارنے پہ تل گیا ہے۔ تحریک انصاف کی مثال سب کے سامنے ہے۔ اس کے حامیوں نے عمران خان کے دلفریب جذباتی نعروں سے امیدیں وابستہ کر کے اس کو نجات دہندہ کے مرتبے پر فائز کر لیا گیا ہے جیسے ملک کے تمام مسائل کا حل عمران خان کے دوبارہ وزیر اعظم بننے میں ہے اس کے لئے کوئی بھی طریقہ چاہے وہ غیر آئینی ہو یا تشدد سے بھرپور، اختیار کرنا لازمی ہے اور یہی قومی خدمت ہے۔ ان کے خیال میں جو عمران خان کا ساتھ نہ دے غدار اور ملک دشمن ہے حق ہے تو صرف عمران خان کے منہ سے نکلی ہوئی بات سچ صرف وہ ہے جس کو عمران خان سچ کہے باقی ہر حقیقت محض افسانہ۔

اندھی تقلید کے مارے یہ عوام یہ سوچنے کے لئے تیار نہیں کہ عمران خان چار سال وزیر اعظم رہ چکے ہیں ان چار سالوں میں ملک و قوم کی بہتری کے کتنے اور کیا اقدامات ہوئے، پچھلے دس سال سے خیبر پختون خوا میں ان کی حکومت کون سا انقلاب لا رہی ہے، اور نہیں تو کم از کم ان شعبوں میں کارکردگی دیکھی جائے جس پے عمران خان کا پورا بیانیہ کھڑا ہے۔

تحریک انصاف اور اس کے جوشیلے انتہاء پسندی کی طرف راغب کارکن ایک ٹیسٹ کیس ہے وگرنہ معاشرہ بحیثیت مجموعی اسی رویے کا شکار ہے۔ ہر طرف اعتدال کے بجائے انتہا پسندی، رواداری کی جگہ عدم برداشت کا دور دورہ، دلائل سے اپنی بات کا دفاع کرنے کے بجائے مخالف پر چڑھ دوڑنا اور سب سے بڑھ کر شورش کے راستے اختیار کر کے اپنی بات منوانے کا رویہ۔ مذہب، سیاست، عام زندگی ہر طرف معاشرے کو متحرک رکھنے والی قوتیں یہی ہیں اور بدقسمتی کی انتہا دیکھئے کہ ہمارے قائدین چاہے وہ مذہبی جماعتوں کے ہو، قوم پرست ہو یا سیاسی جماعتوں کے، اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے اپنے مفادات کے لئے مزید بھڑکا رہے ہیں۔

آگ کے ساتھ کھیلنے کی یہ کوشش معاشرے کو خاکستر کر دے گی مگر ہوش کے ناخن لینے والا کوئی نہیں۔ خواص سے توقع رکھنی بیکار ہے رہے عوام تو ان سے توقع رکھی بھی کیسی جائے۔ امن و آشتی، برداشت و رواداری سے معاشرے کی ترقی کی امید عبث ہے۔ یہ مایوسی ہی ہے اور اگر کوئی مایوسی کو کفر کہتا ہے تو مجھے بتائے میں اس کفر کا ارتکاب کرنے سے کیسے بچوں۔

Facebook Comments HS