ناول: دو لوگ
مصنف: گلزار صاحب (انڈیا)
تبصرہ اور تاثرات: عرفان علی جناح (ڈنور)
گلزار صاحب کی آواز ان کے ناول ”دو لوگ“ میں گونجتی رہی ہے بالکل کبھی ہلکی اور کبھی بھاری، کبھی افسردہ، کہیں ہر وہ دانشور آواز دکھائی دینے لگتی ہے ماسٹر فضل کی صورت تو کبھی کرم سنگھ کی صورت یقین صادق کا روپ دھار لیتی ہے۔ جس کا فضل ماسٹر پر تو ایسے یقین تھا جیسے گرو گرنتھ صاحب پر!
گلزار صاحب کا حاصل مطالعہ بھی اس ناول میں نظر آنے لگتا ہے جو انہوں نے وقت کے بہاؤ میں جاری رکھا ہے۔ اور مشاہدہ بھی، مجاہدہ بھی اور انہوں نے جو لوگوں کے تاثرات اور تجربات جمع کیے ہیں وہ بھی
یہ شاید، ممکن ہے خوشونت سنگھ یا قرۃ العین حیدر، یا پھر تارڑ صاحب اور انتظار حسین یا عبداللہ حسین میں سے کسی دوسرے ادیب نے بھی کوشش کی ہو لیکن اس کی جو ایک خالص صورت ہے گلزار صاحب کی تحریروں میں مل سکتی ہے
” کرمے بات وہی دین دیال کے کھیت کی ہے۔ کوئی اپنی زمین اٹھا کر کہیں اور نہیں لے جانے والا۔ زمیں وہی رہے گی۔ کھیت وہیں رہیں گے۔ صرف است کوٹنے والے دو ہوں گے۔ کٹائی والے دو ہوں گے۔ بٹوارے اس لیے ہوتے ہیں کہ کوئی ایک، دوسرے کا حق مار لیتا ہے۔ اب نہیں مار سکے گا۔“
”لے۔ تو پھر کیا مشکل ہے؟ کیوں لوگ چلا رہے ہیں کہ ملک تقسیم ہو گیا۔ بٹ گیا دیش! تو بتا، تجھے چاہیے کہ نہیں پاکستان؟ تیرا بھلا ہوتا۔ ہے تو میں لڑوں گا ناں تیرے حق کے لیے۔ میرے یار کو پاکستان چاہیے۔ تو پاکستان زندہ باد! کیوں؟ بتا۔ تکے چاہیے پاکستان؟“
ماسٹر فضل دین کی آنکھ کھل گئی۔ اور وہ کرم سنگھ کو جواب نہیں دے پائے۔ ٹال گئے۔ وہ کہہ نہیں پائے ”یہ جو شرما اور ورما اس کی جان کو لگے ہیں، وہ اسے سلا (مسلمان) کہہ کے بارے ہیں۔ بے عزت کرتے ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو پاکستان چاہیے!“ ۔
اس ناول میں سرگوشیاں ہیں، ہر صفحے سے الفاظ بول اٹھتے ہیں گلزار صاحب کی آواز میں کبھی تیز کبھی آہستہ
ایک سرگوشی ہوں بھی ہے۔
” ملک تو بٹا، لوگ بھی بٹ گئے۔ وہ ایک لوگ تھے، اب دو لوگ ہو گئے“ ۔
مسٹر فضل کی دانشمندی بھری آواز ابھرتی ہے
”پہاڑ کو کاٹ کے دو کرنا آسان ہے بھائی۔
لوگوں کو کاٹ کے ایک سے دو کرنا بہت مشکل کام ہے ”۔
آئے ے ے ے ے ہائے ے ے ے، کیا ہی خوب تحریریں ملتی گئی پڑھتا چلا گیا
میں تو بس پڑھ کر رہ گیا، نہ کوئی جملہ ہائی لائیٹ کیا نہ اندر لائن کیا
” تاریخ ایسے ہی سے بھرتی چلتی رہے گی۔ کچھ لوگوں کے نام اس کے پیرہن سے چپک جائیں گے۔ وہ درج کر کے گی۔ پہلے ہٹلر تھا، مسولینی تھا، چرچل تھا، جوزف اسٹالن اور کچھ اور۔ اس بات شاید مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، محمد علی جناح، سبھاش بوس! مگر ان لاکھوں کروڑوں کے نام کہیں نہیں ہوں گے۔ جو مریں گے وہ تو۔ صرف گنتی کے ہندسوں میں سمیٹ رہے جائیں گے۔ جن میں ہم سب شامل ہیں!“
تحریر کے ساتھ انصاف کرنے کی جرات اور حوصلہ کم لیکھک رکھتے ہیں اور یہی گلزار صاحب کی خاصیت ہے وہ یہ جرات اور حوصلہ رکھتے ہیں، مسکراتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔
سب ہی کی تحریروں کو اٹھا کر دیکھ لیں سب کے یکساں جملہ لکھا ہوتا ہے اور گلزار صاحب کے تعارف میں بھی یہی بات لکھتے ہیں کہ الفاظ کو احساس کا جامہ پہنانے والے، احساس لکھنے والے ادیب ہیں گلزار صاحب۔
بالکل ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ بھی خدا پاک نے ان کی شخصیت میں کچھ ایسا کرشماتی شخصیت والی بات رکھی ہے کہ یہ جو بولیں وہ احساس سے بھری بات، جو۔ لکھیں وہ احساس اور انہیں دیکھیں تو یہ جیتے جاگتے احساس کا نام ہی گلزار صاحب ہیں۔ جہاں کثافت نہیں نظر آتی بس نکھار اور ستھرا پن نظر آتا ہے شفاف اور کرسٹل ڈائنامکس والے گلزار صاحب!
ناول کی طرف رجوع کرتے ہیں
” پاکستان ذہنوں میں بننا شروع ہو چکا تھا۔ بس اعلان کا انتظار تھا۔ لگتا تھا یہ تقسیم اب واپس نہیں لی جا سکتی۔ لیڈران چاہیں بھی تو اب یہ ممکن نہیں ہو گا۔ جس نے کوشش کی وہ مارا جائے گا۔
ایسے کتنے جملے ہیں ناول میں
”جنہیں ڈر تھا کہ گھر چھوڑنے پڑیں گے، وہ تقسیم نہیں چاہتے تھے۔ جنھیں معلوم تھا کہ وہ وہیں رہیں گے، جہاں ہیں، وہ تیار بیٹھے تھے“ ۔
اور یہ ملاحظہ فرمائیں
46 ء ختم ہوتے ہوتے بٹوارے کی حدیں بھی نظر آنے لگیں۔ 47 ء دور نہیں تھا، لیکن آزادی ابھی بہت دور نظر آ رہی تھی۔ جیسے جیسے آزادی کی تاریخ پاس آ رہی تھی، آزادی اور دور ہوتی لگ رہی تھی ”۔
یہ پڑھیے بھلا،
لکبھیرے نے جب دوسرا سوڈا کھولا تو پھر پوچھا۔
بول نا فوجی۔ یہ آگ اگر لگی نہیں تو کس نے لگائی ہوگی؟ ”
فوجی کے بالکل فلسفیانہ بات کی۔
”تو نام پوچھ رہا ہے کہ دھرم پوچھ رہا ہے؟“
منظر نگاری کی تکنیک ایسی استعمال کی گئی ہے کہ آپ حیران رہ جائیں گے، ذرا یہ بھی پڑھیں
” گلی کے اندر ایک اور گلی میں مکان تھا فضل ماسٹر کا۔ کچھ دیر دروازے پر کھڑے رہے۔ دستک دینے کے۔ لیے ہاتھ اٹھا بھی، پھر اپنے آپ گر پڑا۔ وہیں کنڈی سے بھینس باندھ دی اور لوٹ گئے۔ کچھ دیر کے بعد جب بھینس ہلی جلی، تو دروازہ بجا۔ ماسٹر فضل نے خود اٹھ کر دروازہ کھولا، اور بھینس کو دیکھ کر تعجب کیا۔ کھیس اٹھایا تو بھینس کی پیٹھ پر چاک سے لکھا تھا۔ ”میں شرمندہ ہوں۔ پاکستان تمہارے حوالے کر کے جا رہا ہوں“ ۔
کہیں سے ایک گونج سنائی دے گی، اس ناول کو پڑھتے ہوئے ایک کوک کے مثل
یہ لفظ ”بارڈر“ عام ہو گیا تھا۔ اور لفظ جو اکثر کانوں میں پڑنے لگا تھا۔ وہ ’رفیوجی‘ تھا۔
آگے چل کر یہی لفظ جب ہندوستان میں پہنچ کر
”رفیوجی کی جگہ اب شرنارتھی لفظ زیادہ سنائی دیتا ہے“
جگ جگہ آپ احساسات کا سامنا کرتے ہیں وہ تلخ بھی ہیں اور حقیقت پسندانہ بھی لیکن کہیں بھی ڈرامائی تشکیل نہیں
”مونی تجھے معلوم ہے تو نے کیا کیا ہے؟“ (جب سونی نے اپنی بہن مونی سے جیل میں ملاقات پر پوچھا، وہ مونی جس نے اپنے بیٹے کو مار ڈالا تھا جو کیمبل پور میں بلاتکار کے نتیجے میں پیدا ہوا تھا)
بڑی ترشی سے بولی، ”ہاں!“ پھر جملے میں اضافہ کیا۔
”کیمبل پور میں اس نے اتنے ہندو مارے تے۔ میں نے ایک چھوٹا سا مسلمان مار دیا تو کیا ہوا؟“ ۔
گلزار صاحب کو پڑھنے کے بعد ایک دیر تک کتاب سامنے رکھ کر انتظار کرنا پڑتا ہے قطرہ قطرہ احساس مینہ کی طرح برستا رہتا ہے اور پڑھنے والے ان احساسات اور الفاظ کے سنگم میں بھگتے رہتے ہیں۔
گلزار صاحب، صاحب مشاہدہ ہیں ان کا امیجینیشن پاور بڑا زبردست میکنزم والا اور مضبوط ہے۔ ایک مرتبہ انہوں نے کہا تھا ریختہ میں کہ یہ جو ہال میں لوگ بیٹھے ہیں شامیانے کے نیچے اور اس سے باہر جتنے لوگوں پر دھوپ پڑ رہی ہے تو میرا تصور یہ کہتا ہے کہ یہ چاندی کا ورق ہے وہ جو بچپن میں برفی پر چاندی کا ورق ہوتا تھا میرا امیجینیشن اس کو وہاں سے لا کر جہاں فکس کر دیتا ہے۔
گلزار صاحب کے لیے اس طویل مضمون کے بعد بھی میں اظہار نہ کر پایا ہوں کہ وہ میرے لیے کیا ہیں؟
شاید یہ بات الفاظ سے باہر ہے۔ کائنات کی وسعتوں کی طرح اس کا فی الوقت کوئی احاطہ ممکن نہیں۔

