یورپی سیاست کا نیا رخ

یورپ آج کل جن اندرونی مسائل سے نبردآزما ہے وہ خاصی بے چینی کا موجب ہے مگر ان مسائل کا زیادہ شکار مسلمان نظر آتے ہیں چونکہ وہ بنیادی طور پہ آسان ہدف ہیں لہذا انہیں مختلف ہتھکنڈوں سے ستایا جا رہا ہے۔ نسلی تعصب کی علمبردار انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں نظر آتی ہیں جو اس تعصب کو بڑھاوا دینے میں شب و روز مصروف دکھائی دیتی ہیں مگر انہیں عوامی پذیرائی بھی مل رہی ہے جو خاصی تعجب خیز ہے۔ ان معاشروں کا صلح جوئی ایک خاص وصف تھا مگر اب وقت بدل رہا ہے۔
سیاسی متعصب پسند حلقے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں جو خاص طور پہ مسلمان مہاجرین کی آبادکاری کے حوالے سے خاصی نفرت اور تنگ نظری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان باتوں کا بھی جائزہ لینا لازم ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو اس ساری صورتحال کا کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ سلواکیہ میں بھی دائیں بازو کی پارٹی معرض وجود میں آ چکی ہے رابرٹ فیکو کی پارٹی سمر کو ستمبر 23 کے انتخابات میں فتح حاصل ہوئی۔ اس کا ایک نفرت بھرا قول مشہور ہوا جب اس نے واضح طور پہ کہا کہ سلواکیہ میں اسلام کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ باقی ریاستوں میں بھی جلد ہی دائیں بازو کے پیروکار مزید سیاسی قوت حاصل کر کے ایوان اقتدار میں ہوں گے۔ سب سے زیادہ حیران کن کامیابی نیدرلینڈ میں اسلام مخالف گیرٹ والڈرز کو ملی جو سرعام اسلام بیزاری کا بارہا اظہار کرچکا ہے اور وہ اعلان کہتا ہے کہ مسلمانوں کی اس کے ملک میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
یہ مکروہ شخص اسلام دشمنی میں پورے یورپ کا سرخیل ہے۔ آسٹریا میں اگلے انتخابات 2024 میں منعقد ہونگے اور ایسے نتائج ہی متوقع ہیں۔ پرتگال میں بھی دائیں بازو کی جماعت خاصی مقبولیت حاصل کر رہی ہے وہاں بھی انتخابات مارچ میں ہونگے۔ انتہائی دائیں بازو کے قدامت پرستوں کی ہر جگہ مقبولیت نہیں ہے مثلاً پولینڈ اور برطانیہ میں دائیں بازو کے عناصر ذرا دباؤ کا شکار نظر آتے ہیں۔ المختصر پورے یورپ میں خود آگاہی کی ایک لہر سی طاری ہے اس میں کچھ مشترکہ وجوہات بھی ہیں جیسے کہ کووڈ 19 کے دوران مشکلات، ہوشربا مہنگائی، بڑھتے قرضے، بیروزگاری وغیرہ مگر سب سے بڑھ کر انہیں تکلیف مسلمان مہاجرین اور پناہ گزینوں سے ہے دوسرے یورپی یونین سے گلوخلاصی کا جذبہ بھی نمایاں ہے۔

