لنڈے کی نیکر اور ہاکی
بقیہ مختلف کھیلوں کی طرح ہاکی کا کھیل بھی مجھے بہت پسند تھا، ہائی سکول سے کالج تک شہر میں ہونے والے مختلف ٹورنامنٹس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، پاکستان ہاکی ٹیم کا پلیئر، لیفٹ آؤٹ ”وسیم فیروز“ میرا فیورٹ کھلاڑی تھا جس کی شرٹ کا نمبر 11 تھا، اس لیے اپنی کٹ کا نمبر بھی میں 11 ہی رکھتا تھا۔
ہمیشہ کی طرح اس کھیل کے لوازمات اتنے سستے نہیں تھے، خاص طور پر اگر آپ نے اچھے لیول کی ہاکی کھیلنی ہے، ہاکی سٹک، چھن پیڈ، مخصوص جرابیں، جوتے، نیکر اور شرٹس وغیرہ۔
ایک دن میرا ایک دوست جو میرے ساتھ ہاکی کھیلتا تھا مجھے بتانے لگا کہ اس نے لنڈے سے بہت عمدہ برینڈڈ نیکر خریدا ہے، وہ بھی بہت سستا، میرے ساتھ چلو اور تم بھی خریدو، اسپورٹس شاپ سے مہنگی چیزیں خریدنے کا کیا فائدہ۔
جیب میں مخصوص جیب خرچ ہوتا تھا جو زیادہ تر گیم کے بعد ملک شیکس وغیرہ پر خرچ ہوتا تھا، میں نے سوچا ٹرائی کرنے میں کیا حرج ہے اور اس کے ساتھ (لنڈا) نیکر کی تلاش میں نکل پڑا۔
سڑک کے کنارے پٹھان رنگ برنگے کپڑوں کے ڈھیر لگائے گاہکوں سے بارگین کر رہے تھے، ہم نے بھی ان ڈھیریوں کو ٹٹولنا شروع کر دیا، دنیا کے مہنگے ترین برینڈز سڑک کنارے اڑتی دھول میں تقریباً رل رہے تھے اور چند روپوں میں بک کر لوگوں کی سائیکلوں اور موٹر سائیکلوں کے کیریئر کی زینت بن رہے تھے۔
اچانک مجھے ہلکے سرخ رنگ کی ایک نیکر نظر آئی، مشہور برانڈ، جینز کا مٹیریل اور سائز بھی بالکل ٹھیک، فوراً خان سے اس کا سودا کیا اور تقریباً دو ملک شیک کے پیسوں کے عوض میں نے لنڈا لوٹ لیا، میں بہت ایکسائٹڈ تھا، اتنی اچھی چیز تو کبھی سپورٹس شاپ سے بھی نہیں ملی تھی، سارے رستے اپنے آپ کو داد دیتا آیا کہ آج تو کمال ہی کر دیا، اسے پہن کر گراؤنڈ میں بھاگتے ہوئے اپنے اپ کو وییولائز کرتا رہا۔
ایک مرحلہ تو طے ہو گیا، دوسرا مرحلہ بہت اہم تھا، یعنی نیکر کی صفائی۔
لنڈے کو لے کر بہت سی تواہمات سن رکھی تھیں، بے شمار کہانیاں کہ گورے نہاتے نہیں، باتھ روم کے بعد صفائی نہیں کرتے، لنڈے کے کپڑوں میں بے شمار بیماریاں ڈال کر بھیج دیتے ہیں، لنڈا مسلم امہ اور خاص طور پر پاکستان کے خلاف ایک سازش ہے وغیرہ وغیرہ۔
گھر آتے ہی ایک بالٹی میں پانی بھرا، سرف ڈالا، جھاگ بنا کر اس میں نیکر کو پھینک دیا، تاکہ تمام بد مذہب اور اخلاق باختہ ”پاک دھرتی میں گھس بیٹھیے“ جراثیم کا خاتمہ کیا جا سکے اور گوروں کی بیماریاں پھیلانے کی ”بیرونی سازش“ کو مکمل ناکام بنایا جائے۔
گھر والوں کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے، کئی گھنٹوں کے بعد اسے اچھی طرح مل مل کر دھونے کے بعد سوکھنے کو ڈال دیا، بے چینی سے اس کے سوکھنے کا انتظار کرتا رہا کہ کب وہ موقع آئے کہ میں اسے پہن کے محسوس کر سکوں، اگلے دن صبح صبح گراؤنڈ میں پہنچ کر باقی کھلاڑیوں سے بھی داد وصول کروں کہ کیا کمال کی چیز ماری ہے، متعدد بار چھت پر جا کر اسے دیکھا لیکن جینز کا کپڑا سوکھنے میں ٹائم لیتا ہے، خدا خدا کر کے اب وہ مرحلہ آیا کہ میں اسے پہنوں۔
جلدی سے اسے لے کر اپنے کمرے کی طرف بھاگا، دروازے بند کر کے بڑے اہتمام کے ساتھ ٹانگوں میں ڈال کر اسے اوپر کی طرف کھینچا، ہلکی سی ٹائٹ تھی لیکن ”چلے گی“ ۔
پہننے کے بعد مجھے کچھ مختلف محسوس ہو رہا تھا، سب کچھ نارمل نہیں تھا، لیکن کیا ابنارمل تھا؟ مجھے یہ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا، بہرحال میں نے اسے اتار کر چیک کرنے کی کوشش کی تو مجھے لگا کہ یہ نکر ”آسن“ کے بغیر ہے، یعنی دونوں ٹانگوں کے بیچ کسی قسم کا کوئی بٹوارہ نہیں،
بہت حیرانی اور پریشانی ہوئی، عقل کے گھوڑے دوڑائے، پی ٹی وی پر چلنے والی انگلش ڈرامہ سیریز ذہن میں چلائیں، بے چینی میں اسے دوبارہ چڑھانے کی کوشش کی، عقل و شعور کے تمام روشندان کھولنے کے بعد ایک شاک کے ساتھ میں اس نتیجے پر پہنچا کہ بظاہر نکر نظر آنے والی یہ چیز دراصل ”منی سکرٹ“ ہے۔
تمام خواب چکنا چور ہو گئے، پتہ نہیں کس گوری، بلکہ بڈھی گوری کی سکرٹ تھی اور اس نے کن حالات میں پہنی اور ”اتاری“ ہوگی؟
اب میں سرخ رنگ کی منی سکرٹ ادھی ٹانگوں میں پھنسائے اپنے بیڈ پر بیٹھا صدمے اور شرمندگی کے ملے جلے جذبات لیے سوچ رہا تھا کہ اسے کیسے ٹھکانے لگایا جائے کہ کسی کو کان و کان خبر نہ ہو۔
خواب، خواہش اور ارمان، عزت کے سیاہ شاپنگ بیگ میں لپیٹ کر کمرے سے نکلا تو گھر والوں نے پوچھا کہ تم بالٹی میں کیا دھو رہے تھے؟ میں نے کہا کچھ نہیں جرابیں وغیرہ، انہوں نے کہا کہ ٹوکری (ہیمپر) میں پھینک دیتے، مشین لگتی اور دھل جاتے، کیا جلدی تھی؟


