جی سی یونیورسٹی کے ایکٹنگ وی سی کے خلاف ڈینز اور ڈائریکٹر کا خط


جی سی یونیورسٹی لاہور میں ایکٹنگ وائس چانسلر احمد عدنان ملک کے اختیار سے تجاوز اور 9 جنوری کو ہونے والی سنڈیکیٹ میٹنگ میں بے ضابطگیوں پر یونیورسٹی کے ڈینز اور ڈائریکٹرز نے گورنر پنجاب جناب بلیغ الرحمن کو خط ارسال کر دیا۔

خط میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ آئندہ ہونے والے سنڈیکیٹ میں یونیورسٹی کے ڈین اور ڈائریکٹرز جو کہ سنڈیکیٹ کے مستقل ممبرز ہیں کو شامل نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان سے ایجنڈا شیئر کیا گیا ہے۔ کیونکہ ایکٹنگ وائس چانسلر اپنے من پسند فیصلے کروانا چاہتے ہیں۔ پچھلے منعقد ہونے والے سنڈیکیٹ میں جن اساتذہ کی تعیناتی ہوئی تھی جس کو اس سنڈیکیٹ کے ذریعے ختم کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ یہ معاملہ پہلے ہی لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ سنڈیکیٹ کے دو ڈین جو کہ سنڈیکیٹ کے ممبر نہیں ہیں ان کو چانسلر کی اجازت کے بغیر تعینات کیا گیا ہے جو کہ یونیورسٹی قوانین کے خلاف ہے، کیونکہ سنڈیکیٹ ممبرز کو وائس چانسلر تبدیل نہیں کر سکتا۔ مزید یہ کہ ایکٹنگ وائس چانسلر اساتذہ کی تقرری کے معاملے میں اپنا من پسند فیصلہ لینا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ تمام اصولوں کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کے اس فیصلے کا اثر براہ راست 70 اساتذہ پر پڑے گا جو کہ تین ماہ سے سیلری نہ ملنے کی وجہ سے پہلے ہی شدید مالی اور ذہنی مشکلات کا شکار ہیں۔

مزید یہ واضح بھی کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی قوانین کے مطابق ایک سنڈیکیٹ کے فیصلے کو دوسری سنڈیکیٹ کے ذریعے کینسل نہیں کروایا جا سکتا یہ اختیار صرف چانسلر کے پاس ہے۔ متاثرہ اساتذہ کی جانب سے بھی گورنر پنجاب کو اس معاملے کا نوٹس لینے کی استدعا کی گئی تھی جس پر گورنر پنجاب نے ایکٹنگ وائس چانسلر کو خط لکھ کر ان سے وضاحت طلب کر لی ہے۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ ایسے میں ایکٹنگ وائس چانسلر کا سنڈیکیٹ میٹنگ بلانا، اپنے پسندیدہ ارکان کو چانسلر کی اجازت کے بغیر ممبر بنانا اور ان سے من پسند فیصلہ لینے کی کوشش کرنا ان کی بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔

Facebook Comments HS