گلگامش، اب بھی سفر میں ہے


ڈاکٹر ثروت زہرا کی نئی نظموں کی کتاب کتنے یگ بیت گئے میرے ہاتھوں میں ہے اور نظم در نظم پڑھتا اور آگے بڑھتا جا رہا ہوں۔ ہر نظم، نظم انتخاب ہے لیکن جب میں نے نظم "گلگامش، اب بھی سفر میں ہے” پڑھی تو اس نظم پر کچھ لمحوں کے لئے رکا اور ساری نظمیں پڑھنے کے بعد تجزیے کے لئے واپس اس ہی نظم پر آیا۔

بنیادی طور پر یہ ایک آزاد نظم ہے اور اس کے ہم کہہ سکتے ہیں کہ پانچ بند ہیں۔ بند چونکہ معری نظموں میں ہوتے ہیں لیکن اپنے تجزیے اور سمجھنے کے لئے اور مصنفہ نے خود اس کو پانچ حصوں میں بڑے پر ترنم، روانی، تخیلی سادگی سے اور مشاہدے کے زور سے اس طرح تخلیقی بٹی کی تپش سے گزارا ہے کہ نظم کے کسی بھی گوشے میں کچا پن نظر نہیں آ رہا ہے اور سراپا ایک پکی ستھری اور علامات کا پیرہن اوڑھے ابلاغ سے بھرپور نظم ہے۔

اس نظم میں جو خدا کی علامت استعمال کی گئی ہے وہ اس دور کا وہ شخص ہے جو مجاز ہو کر بھی خدا بننے کی کوشش کر رہا ہے اور اپنے مخالف جنس کو آرزوؤں اور تمناؤں کی لوری سنا کر محتاجی کی نیند سلانا چاہتا ہے لیکن ان کا یہ گر نہ تب کامیاب رہا اور نہ اب اور لوری سننے والی مخالف جنس ایسی نیند کبھی سوئی ہی نہیں جو دوسروں کی خواہش پر ہو نیند وہ غلبہ ہے جو اندر سے حملہ آور ہوتا ہے اور تب اثر کرتا ہے جب خود بندہ سونا چاہے اور یہ جو اندر سے حملہ آور مزاحمت دہائی کی شکل میں نکلتا ہے تو پھر نیند نہیں صرف بیداری رہتی ہے۔

اور جب عورت رادھا اور آسماں کرشن بن کر تخلیقی منصب داری سے گزرتے ہیں تو بیچ کے اندھیرے چھٹ جاتے ہیں اور پھر وجود زیاں سے کن فکاں تک جہانوں کی دنیا گرفت میں آتی ہے کیونکہ زمین اور زن اطوار کے لحاظ سے ایک جیسی خاصیت رکھتی ہیں جو جہانوں کی جہاں یا دنیا تھام لیتی ہے اور زیست کو بجائے منجمند کرنے کی رواں دواں رکھتی ہے۔

عورت نے اگر ایک طرف ازل سے اپنی ہتھیلی پر سرسبز مہندی سجائی ہے لیکن ان کی تمنا میں سرخی کے اجلے لہو میں سراپا مزاحمت اور ہونے کی جستجو اور اپنی شناخت کو قائم دائم رکھنے کے پور پور نے رت جگا کیا ہے کبھی غنودگی یا غلبہ نیند سے مغلوب نہیں ہوئی۔

مزے کی بات یہ کہ اس پوری صورت حال میں اس حوا کی بیٹی نے خود کو سنبھالا ہے اور آسمانوں کی وسعتوں تک اپنے خوابوں اور خواہشوں کے کھیل کے مہروں کی علت یا اسباب سجائے لیکن یہ سب کچھ مسلسل جاگنے اور بیداری کی دہائی کے تسلسل سے ممکن ہوا اور کرشن کی مے نم نے جب رادھا کی پوروں میں خواہش کی کونپل سجانے کی جست لگائی تو ساری زمیں، حوا کی بیٹی باشکل رادھا سبزہ زار یا گل گزار ہو گئی اور ہر طرف ہریالی اور زندگی کی رونقیں جگمگائیں لیکن یہ سب صرف اور صرف مزاحمت، پیہم رواں، بیداری اور رت جگے کی طفیل ممکن ہوسکا ورنہ ان کو سلانے اور لوری سنانے کا جھانسہ جس شدت سے چلا آتا رہا ہے اتنی آسانی سے ممکن نہیں تھا۔

اس نظم میں جو تخلیقی زور ہے وہ صنفی تضاد کے مرہون منت ہے جو ان احساسات کے بغیر کسی بھی صورت اتنے احسن اور جاندار طریقے سے نظم ہو ہی نہیں سکتا تھا۔

جرات اظہار کے لئے سچے جذبات، کھرے مشاہدات اور مصدقہ تجربات کی ضرورت ہوتی ہے تب جا کر اظہار پر قدرت حاصل کی جا سکتی ہے اور صرف یہ بھی نہیں کہ قدرت کے حصول تک یہ بات بس ہے بلکہ اس کا اثر در اصل قاری کی رگ و پے میں سرایت خالص اس ہی صورت میں کرتا ہے اور ڈاکٹر ثروت زہرا کا جراءت اظہار اس نظم میں دہائی دے رہا ہے وہ ہر بنت حوا کی دہائی ہے اور ہر دور کے گلگامش کے لئے ایک چیلنج ہے بشرطیکہ کوئی اس کو صرف سماعت آشنا نہیں بلکہ ضمیر آشنا بھی بنائے تب جا کر کسی کو نیند کی لوری دینے کے بجائے جاگنے اور کھلی آنکھوں کی مرام یا منزل کا راستہ دکھا سکے جو سماج کا حقیقی اجتماعی ہدف ہے۔ لیکن۔ لیکن اس کے لئے اس نظم کو پورا پڑھنا اور سمجھنا پڑے گا۔

Facebook Comments HS