لیبیا کے حالات حاضرہ


معمر قذافی لیبیا کے ایک مقبول عام قائد تھے، صحرائی ملک کی ترقی میں جو کردار ادا کیا وہ قابل فخر تھا اور عام شخص کی زندگی میں جو تبدیلیاں لائی گئی وہ قابل تقلید تھیں مگر عالمی سطح پہ جو کردار وہ ادا کرنا چاہ رہے تھے وہ دل یزداں میں مانند کانٹا کھٹکتا تھا۔ پھر وہی ہوا جو کک بک میں لکھی روایتی سازش والی تشخیص اور یوں انہیں محل سے نکال دیا گیا اور قوم گویا خزاں کے پتوں کی مانند بکھر گئی ہر ایک نے اپنا اپنا کونہ کھدرا پکڑ لیا اور یوں ہر طرف بدامنی اور بے یقینی کے ڈیرے ہیں۔

ملکی استحکام ایک سراب بن چکا ہے۔ عوام بددل اور بے چین ہیں۔ اگرچہ تیل کی پیداوار اور ترسیل آج بھی جاری ہے اور اندرونی سیاسی و قبائلی کشمکش قدرے تھم سی گئی ہے مگر بے یقینی کے بادل کہیں تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔ ذاتی و گروہی مفادات کے اسیر ملکی وحدت کے خلاف ہمہ وقت برسرپیکار نظر آتے ہیں۔ جس کا جتنا زور چلتا ہے اتنا وہ وہ مزید طاقتور گروہ بنتا جا رہا ہے۔ سیاسی عدم موجودگی کی یہی بڑی وجہ ہے کہ مفاد پرستی کو ملکی مفاد پہ ترجیع دی جا رہی ہے۔

کوئی مرکزی انتظامیہ تو ہے نہیں یا اگر کہیں ہے بھی تو درحقیقت اسے مفلوج کر دیا گیا ہے اور یہی غیر ریاستی خوفناک گروہ اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی تگ و دو میں شب و روز مصروف عمل ہیں۔ کئی برس سے عوام کو دن دھاڑے لوٹنے اور انہیں کوئی مناسب عوامی سیاسی حکومت دینے کے پرفریب نعروں سے بھلایا جا رہے ہے مگر یہ خواب تشنۂ تکمیل ہی ہے نیز عالمی طور پہ اب تک کسی خاص مدد کی امید نہیں۔ عوام تبدیلی کے نام پہ کب سے دھوکے کھا رہے ہیں مگر قذافی کے بعد اب تک صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی۔

ملکی دولت کے ساتھ جاری کھلواڑ جاری ہے جس سے عوامی جذبات خاصے برہم ہیں جو کسی طوفاں کا پیش خیمہ ہوسکتے ہیں۔ عوام کو روزمرہ کے مسائل میں الجھایا جا چکا ہے۔ بجلی، گیس اور پانی جیسی ضروری اشیا کی فراہمی ایک مشکل سہولت بن گئی ہے لوگوں کو ملازمتیں بھی میسر نہیں۔ ملکی بدامنی اور عدم استحکام نے لوگوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے اور مستقبل کے حوالے سے اس قدر بد یقینی ہے کہ لوگ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر کسی نہ کسی طور بہتر مستقبل کی خاطر ملک سے فرار ہونے کے لئے باہر بھاگ بھاگ کر جانے کی جستجو میں ہیں۔

ہزارہا افراد جسمانی اور ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہیں مگر اب انہیں طبی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ عوام کی بے بسی اس وقت پوری دنیا میں عیاں ہوئی جب پچھلے برس ایک خوفناک سیلاب کی وجہ سے ڈر نہ میں 5000 افراد لقمۂ اجل بن گئے اور ان کی دلجوئی کرنے والا کوئی نہ تھا۔ آئندہ نسلوں میں یہ بدامنی شدید صورتحال پیدا کر سکتی ہے جب نوجوان غلط ہاتھوں میں استعمال ہوسکتے ہیں اس سے پڑوسیوں مصر اور تیونس کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ دراصل ایک مقبول عام سیاسی جماعتوں پہ مشتمل جب تک حکومت سازی نہ کی جائے گی تب تک حالات میں سدھار نہیں آ سکتا ہے۔ وقت کی پکار تو یہی ہے۔ ہماری دعا ہے کہ لیبیا اپنا عالمی سطح پہ کھویا ہوا مقام جلد پا سکے اور عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔

Facebook Comments HS