ہمارے معاشی مسائل کا واحد حل۔ کاربن کریڈٹس


کاربن کریڈٹس، وہ طریقہ کار ہے جو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے اور موسمیاتی/ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث پیدا ہو نے والے اس سسٹم کی جڑیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کو کم کرنے سے منسلک ہیں۔ مثلاً کسی پروجیکٹ میں اگر کاربن کا انبار کم ہو رہا ہو جیسا کہ جنگلوں میں شجر کاری یا صفائی پروجیکٹ وغیرہ، تو اس پروجیکٹ کو معیاری اصطلاح میں کاربن سیکوئسٹریشن ”Carbon Sequestration“ کہتے ہیں۔

اس پروجیکٹ سے حاصل ہونے والے کاربن کریڈٹس کا حامل فرد یا ادارہ (یعنی جو اس پروجیکٹ کا مالک ہو) ان کریڈٹس کو بیچ سکتا ہے۔ کاربن کریڈٹس کا فطری طور پر فکری اور معاشی منافع ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص یا ادارہ اپنی کاربن ڈائی ایموشنز کم کرتا ہے تو اسے کاربن کریڈٹس حاصل ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا منفرد طریقہ ہے جس سے مختلف صنعتوں اور شہروں کو اپنا کاربن خروج کم کرنے کا موقع ملتا ہے اور اس موثر ترتیب سے خطرناک ماحولیاتی تبدیلی روکنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ یہ نظام عام طور پر پیئر پولیوشن کم کرنے کی کوششوں میں بھی اضافہ کرتا ہے۔

مختلف کمپنیاں یا تنظیمیں ایسے منصوبے تشکیل دیتی ہیں جن کے نتیجے میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی واقع ہوتی ہے۔ یہ منصوبے مختلف اشکال پر مشتمل ہوسکتے ہیں جیسا کہ جنگلات کی بحالی، قابل تجدید انرجی کی پیداوار، توانائی کی کارکردگی میں بہتری اور لینڈ فل سائٹس سے میتھین گیس کے خروج پر گرفت مضبوط کرنا وغیرہ۔ مستند تنظیمیں کاربن اخراج میں کمی کے منصوبوں کی جانچ پڑتال، تصدیق اور سرٹیفیکیشن کرتی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ مخصوص معیار پر پورا اترتے ہیں یا نہیں، جن میں کلین ڈیویلپمنٹ میکانزم ، تصدیق شدہ کاربن اسٹینڈرڈز اور گولڈ اسٹینڈرڈز وغیرہ شامل ہیں۔

ایک مرتبہ جب کسی پروجیکٹ کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اسے کاربن کریڈٹس کی ایک خاص تعداد جاری کی جاتی ہے جس کی بنیاد پر اس کے اخراج کی مقدار کو کم کیا جاتا ہے یا اسے فضا سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ ایک کاربن کریڈٹ عام طور پر ایک میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ یا اس کے مساوی کی کمی یا ہٹانے کی نمائندگی کرتا ہے۔

کاربن کریڈٹس کی یہ منڈیاں اکثر حکومتوں یا بین الاقوامی معاہدوں کے ذریعے قائم کی جاتی ہیں۔ دوسری طرف رضاکارانہ مارکیٹس ان کمپنیوں یا افراد کے ذریعے چلائی جاتی ہیں جو ماحولیاتی یا سماجی ذمہ داری کی بنیاد پر رضاکارانہ طور پر اپنے اخراج کو ختم کرنے کا انتخاب کرتی ہیں۔ تاہم یہ نقطہ بھی انتہائی اہم ہے کہ بلاشبہ کاربن کریڈٹس موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں ایک قیمتی ہتھیار تو ثابت ہو سکتے ہیں لیکن یہ براہ راست ان کے اخراج میں کمی اور جامع موسمیاتی پالیسیوں کا متبادل نہیں ہیں۔

پاکستان کے ایک زرعی شہر ساہیوال میں حکومت کی جانب سے بننے والے اپنی نوعیت کے پہلے اور انوکھے ویسٹ سیگریگیشن، ٹریٹمنٹ اور ڈسپوزل پلانٹ پر روزانہ کی بنیاد پر 40 ٹن ویسٹ لایا جاتا ہے جسے مختلف مراحل سے گزار کر اس کی نوعیت کے اعتبار سے الگ الگ کیا جاتا ہے۔ یہی کوڑا کرکٹ اگر استعمال میں نہ لایا جائے تو اس ضائع شدہ کوڑے سے فضائی آلودگی میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے۔

اس پلانٹ پر آنے والا کوڑا 52 فیصد نامیاتی، 13 فیصد ریسائیکل ایبلز اور محض 35 فیصد ہی فالتو مواد پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگر حکومتی توجہ اس جانب مبذول کروائی جائے تو دستیاب 40 ٹن میں آدھے سے زیادہ ویسٹ آرگینک مرکبات پر مشتمل ہوتا ہے جس سے مستقل بنیادوں پر بنائی جانے والی سو فیصد خالص نامیاتی کھاد کو بیچ کر اچھا خاصہ زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس پلانٹ پر بننے والی آرگینک کمپوسٹ کو فروخت کر کے اس سے تقریباً 15 سے 20 لاکھ روپیہ ماہانہ آمدن حاصل کی جا سکتی ہے اور جسے بہترین حکمت عملی کے تحت 240 سے 260 کروڑ سالانہ تک بھی پہنچایا جا سکتا ہے۔

اس حکومتی ویسٹ سیگریگیشن، ٹریٹمنٹ اور ڈسپوزل پلانٹ سے حاصل ہونے والی نامیاتی کھاد اور ریسائیکل ایبلز کے علاوہ کاربن کریڈٹس کو بھی بین الاقوامی منڈی میں متعارف کروا کے بھرپور استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ کوڑے کرکٹ کے درست استعمال سے محفوظ کیے جانے والے کاربن کریڈٹس کو آف سیٹ کرنے یا NDC میں پیش کرنے سے پاکستان کو ناصرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے والے ممالک میں ایک ممتاز مقام حاصل ہو گا بلکہ اسے معاشی سطح پر بھی استحکام ملے گا۔

عالمی مارکیٹ میں ایک کاربن کریڈٹ کی کم از کم قیمت 3.5 ڈالر ہے اور اس قیمت کی بنیاد پر صرف ساہیوال STD سے سالانہ 1 کروڑ روپے تک کا زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے لیکن تھوڑی سی مزید محنت اور معمولی تبدیلیاں کر کے کاربن کریڈٹس کی رائج قیمت ( 17 ڈالر) سے بھی زیادہ قیمت کے عوض اسے فروخت کر کے 50 کروڑ سے بھی زیادہ کا زرمبادلہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان بھر میں روزانہ کی بنیاد پر کئی لاکھ ٹن کوڑا پیدا ہوتا ہے، اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اور طاس ماڈل پر سنجیدگی سے عمل پیرا ہو کر ناصرف ساہیوال بلکہ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی اس جیسے اقدامات اٹھانے کی بدولت ملکی معیشت کو بہتر سے بہترین بنایا جاسکتا ہے۔

Facebook Comments HS