انڈیا کے اہم سرکاری امتحانات میں نقل کے خلاف سخت قوانین کے باوجود یہ رکنے کا نام کیوں نہیں لے رہی؟

نکھیلا ہنری - بی بی سی نیوز، دہلی


انڈیا کی پارلیمنٹ نے سرکاری ملازمتوں اور سرکاری کالجوں میں داخلوں کے امتحانات میں دھوکہ، نقل، فریب اور جعل کو روکنے کے لیے ایک نیا سخت قانون منظور کیا ہے۔

پارلیمان نے منگل کے روز پبلک اگزامینیشن (پریونشن آف انفیئر مینز) ایکٹ 2024 یعنی سرکاری امتحانات میں غیر منصفانہ طریقے کے استعمال کی روک تھام کے قانون کو منظور کیا ہے۔ اس کے تحت امتحانات میں نقل کروانے یا سہولت فراہم کرانے والوں کے لیے تین سے 10 سال کی جیل کی سزا کا انتظام رکھا گیا ہے۔

اس میں دس لاکھ سے ایک کروڑ روپے کے درمیان جرمانے کی بھی بات کہی گئی ہے۔

نیا قانون امتحان دینے والوں پر براہ راست جرمانے عائد نہیں کرتا ہے۔ اس کے بجائے ان کی سزاؤں کا تعین ان کے متعلقہ ٹیسٹنگ حکام کے وضع کردہ قوانین کے ذریعے کیا جائے گا۔

اس قانون کا اطلاق وفاقی حکومت اور اس کی جانچ ایجنسیوں کے ذریعے کرائے جانے والے زیادہ تر امتحانات پر ہوگا۔ تمام جرائم ناقابل ضمانت ہیں اور ان کی تفتیش سینیئر پولیس حکام کریں گے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے کہا ہے کہ یہ ایکٹ ‘زیادہ شفافیت، انصاف پسندی اور ساکھ’ کو قائم کرے گا کیونکہ یہ وفاقی سطح پر امتحانات میں بدعنوانی کو روکنے کے لیے لایا جانے والا پہلا قانون ہے۔

لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ صرف سخت سزا ہی اس مسئلے کو مؤثر طریقے سے حل نہیں کرے گی کیونکہ نقل کرنا یا دوسرے کی جگہ امتحان میں شامل ہونا پہلے سے ہی قابل سزا جرائم ہیں۔

امیدواروں کا مظاہرہ
امتحان کا پرچہ لیک ہونے پر امیدواروں کا مظاہرہ

ریاستی سرکاری ملازمتوں کے لیے لوگوں کو بھرتی کرنے والی سرکاری تنظیم کے سابق چیئرمین گھنٹا چکر پانی کہتے ہیں کہ ‘نیا قانون غیر موثر ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ کوچنگ سینٹرز طلباء کے ساتھ ملی بھگت کرتے ہیں تاکہ وہ داخلہ کا امتحان پاس کر سکیں۔’

سنہ 2022 میں انڈیا کی اعلیٰ تفتیشی ایجنسی سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے ایک روسی ہیکر کو انڈیا کے موقر تعلیمی ادارے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) میں داخلے کے لیے انٹرینس اگزام میں مبینہ طور پر دھاندلی کرنے کے لیے گرفتار کیا۔ ہیکر مبینہ طور پر ایک کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے لیے کام کرتا تھا۔

سرکاری ملازمتوں اور اعلیٰ کالجوں کے داخلہ ٹیسٹوں میں شدید مسابقتی نوعیت کی وجہ سے انڈیا میں نقل اور دھوکہ دہی کا رواج ہے۔ یہاں لاکھوں لوگ محدود ویکینسیوں کے لیے مقابلہ کرتے ہیں۔

ملک میں سرکاری ملازمت کے اعلی ترین امتحان یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) میں سول سروسز کی صرف 1,000 ملازمتوں کی آسامیوں کے لیے دس لاکھ سے زیادہ لوگوں نے درخواست دی تھی۔ اسی طرح آئی آئی ٹی سمیت بہترین انجینیئرنگ کالج میں داخلے کے مشترکہ داخلہ امتحان (جے ای ای) ہوتا ہے۔ اس کے لیے ہر سال دس لاکھ سے زیادہ طلبہ امتحانات میں شامل ہوتے ہیں جبکہ ان تعلیمی اداروں میں صرف تقریبا 15,000 نشستیں ہیں۔

امتحان میں ہیرا پھیری کو روکنے کے لیے کئی ریاستوں نے قوانین نافذ کیے ہیں۔ راجستھان نے دو سال قبل دھوکہ دہی کے خلاف ایک قانون نافذ کیا تھا، جبکہ جنوبی ریاست آندھرا پردیش اور شمالی ریاست اتر پردیش میں بالترتیب 1998 اور 1997 سے ایسے قوانین موجود ہیں۔ گذشتہ سال گجرات اور اتراکھنڈ نے بھی امتحانات میں نقل اور دھوکہ دہی کو روکنے کے لیے قوانین متعارف کروائے تھے۔

ان قوانین کی موجودگی کے باوجود ان ریاستوں میں سے ہر ایک میں جعل اور دھوکہ دہی کے واقعات جاری ہیں۔ ایسے میں مرکزی سطح پر پارلیمان کی جانب سے متعارف کرائے گئے قانون کے محدود اثرات ہی ظاہر ہوتے ہیں۔

انڈیا میں وقتاً فوقتاً امتحان کے سوال یا پرچے لیک ہونے کی بھی اطلاع ملتی ہے اور اس کی وجہ سے امتحانات منسوخ ہو جاتے ہیں۔ دی انڈین ایکسپریس اخبار کی تحقیقات میں پچھلے پانچ سالوں کے دوران 15 ریاستوں میں نوکریوں کی بھرتی کے امتحانات کے سوال کے پرچے لیک ہونے کے 41 دستاویزی کیس سامنے آئے ہیں۔

سابق اعلی پولیس افسر جیکب پننوز کہتے ہیں کہ اس سب کے باوجود ‘سزا کی زیادہ مقدار دھوکہ دہی کی لعنت کا پورا حل نہیں ہوسکتی ہے۔’

مسٹر پننوز کا کہنا ہے کہ امتحان کے مراکز پر سکیورٹی سخت کر کے دھوکہ دہی کو روکا جا سکتا ہے۔ ‘صرف امتحان دینے والے طلباء کی نگرانی کرکے دھوکہ دہی کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر نگرانی کی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال ممکن ہے۔’

مقابلہ جاتی امتحان سول سروسز کے امتحانات میں شامل ہونے والے امیدوار
مقابلہ جاتی امتحان سول سروسز کے امتحانات میں شامل ہونے والے امیدوار

بہر حال انڈیا میں نوجوان امیدواروں میں ایک ابھرتے ہوئے رجحان کا پتا چلتا ہے جو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے دھوکہ دہی اور نقل کے اختراعی اور شرارتی طریقے استعمال کرتے ہیں۔

راجستھان میں کچھ لوگوں نے امتحان ہال میں ایمبیڈڈ بلوٹوتھ ڈیوائسز والی چپلوں کا استعمال کیا جبکہ باہر ان کے ساتھی ٹیسٹ کے جوابات شیئر کرنے کے لیے تیار تھے۔ حال ہی میں 30 امیدواروں کو تمل ناڈو میں انڈین کسٹم سروس کے امتحان میں دھوکہ دینے کے لیے بلوٹوتھ ایئرفون استعمال کرنے پر گرفتار کیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک دھوکہ دہی کو نشانہ بنانے والے قوانین غیر موثر ثابت ہوئے ہیں۔ اس کی ایک وجہ ‘منظم مجرموں’ کے بااثر روابط ہیں جو امتحانات میں خلل ڈالتے ہیں۔ جو لوگ دھوکہ دہی یا نقل میں سہولیات فراہم کرتے ہیں ان کے اکثر سیاسی تعلقات ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر کرناٹک میں پچھلے سال پولیس بھرتی کے امتحان کی تحقیقات کی گئی تھی کیونکہ گورننگ پارٹی کے ایک لیڈر پر امتحان کے ایک مرکز میں بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کی سہولت فراہم کرنے کا الزام لگایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 65 سے زیادہ گرفتاریاں ہوئیں۔

انڈیا میں سرکاری ملازمتوں کے امتحانات کے نتائج پر تنازعات برسوں تک جاری رہ سکتے ہیں۔ دو سال قبل ریلوے بھرتی ٹیسٹ کے نتائج میں مبینہ غلطیاں ہونے پر پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے تھے اور اس کے نتیجے میں امتحان کو معطل کر دیا گیا تھا۔ ریلویز میں بھرتی کے امتحان کے لیے صرف 35,200 پوسٹوں کے لیے تقریباً 700,000 امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔

مسٹر چکرپانی کہتے ہیں کہ ‘نیا قانون دھوکہ دہی کو مشکل نہیں بناتا۔ یہ صرف پکڑے جانے والوں کو سخت سزا دینے کی بات کرتا ہے۔’


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 32026 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments