مولانا کا چیلنج، بیرسٹر صاحب کی گنتی اور شریفوں کی خوشی
دونوں طرف سے دھاندلی کے الزامات کے جلو میں مسلم لیگ (ن) نے ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ مل کر اقلیتی حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے۔ مسلم لیگ (ق) اور استحکام پاکستان پارٹی بھی شہباز شریف کو وزارت عظمی کے لیے اعتماد کا ووٹ دیں گی۔ لاہور میں چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر اس اعلان کے موقع پر آصف زرداری سمیت تمام ’ہم خیال‘ پارٹیوں کے رہنما موجود تھے۔
سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے معاون چیئرمین آصف علی زرداری نے تو پریس کانفرنس میں یہی کہا کہ سب پارٹیاں مل کر اتحادی حکومت بنائیں گی۔ بلکہ انہوں نے یہ اضافہ بھی کیا کہ تحریک انصاف سے بھی رابطہ کیا جائے گا تاکہ قومی اعتماد سازی کا کام شروع ہو اور سیاسی استحکام اور معاشی بحالی کا مقصد حاصل کیا جا سکے۔ گو کہ بلاول بھٹو زرداری علیحدہ اپنی پریس کانفرنس میں کابینہ میں شامل نہ ہونے کا اعلان کر رہے تھے۔ لگتا ہے کہ تعاون و اشتراک کی باتیں کرنا جتنا آسان ہے، پاکستان کے معروضی حالات میں انہیں حاصل کرنا اتنا ہی مشکل ہے۔ یہی دیکھ لیا جائے کہ اگر عمران خان مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو کے ساتھ بات ہی نہیں کرنا چاہتے تو مواصلت کیسے شروع ہوگی اور کن سیاسی نکات پر مفاہمت کی بنیاد رکھی جائے گی۔
عمران خان نے سیاست کو کفر و باطل کی جنگ بنایا ہوا ہے۔ انتخابی نتائج کے بعد انہیں لگتا ہے کہ تصادم اور للکارنے کی حکمت عملی عوام میں مقبول ہے لہذا سیاسی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے اسے جاری رکھنا اہم ہے۔ ایسے میں وسیع تر قومی مفاد کے لیے مفاہمت بے مقصد لفظ بن کر رہ جاتا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ دو سال کے دوران میں سازش کا منترا بیچنے کے بعد یوں بھی عمران خان کے پاس اب کسی بڑے مقصد کی کوئی گنجائش باقی نہیں بچی۔ ان کے لیے سب سے بڑا مقصد یہ دعویٰ کرتے رہنا ہے کہ دھاندلی سے انہیں ہرایا گیا ہے۔ وہ یہ کام کسی حد تک کامیابی سے 2013 سے کرتے آرہے ہیں۔ البتہ 2018 کی دھاندلی کو شفافیت کہہ کر ہضم کر لینا بھی انہی کی خوبی ہے۔ انتخابی بے قاعدگیوں کی ضرور تحقیقات ہونی چاہئیں لیکن کسی انتخاب کے بعد اگر ہر پارٹی اپنی اپنی مرضی کے نتائج پر اصرار کرے گی تو اس کا نتیجہ جوتوں میں دال بٹنے کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔
اب ایک طرف تحریک انصاف کے ’نام نہاد‘ چیئرمین بیرسٹر گوہر علی قومی اسمبلی کی 170 سیٹوں پر کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ وہ ایک روز بعد وزیر اعظم کے لیے پی ٹی آئی کے امیدوار کا اعلان کریں گے تو دوسری طرف جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے ’دھاندلی شدہ‘ انتخابات کو یکسر مسترد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ’لگتا ہے فیصلے ایوان میں نہیں میدان میں ہوں گے‘ ۔ اگرچہ انہوں نے دھاندلی کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہونے اور اپوزیشن میں بیٹھنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ جمعیت کو کل چار نشستیں حاصل ہوئی ہیں اور خیبر پختون خوا میں اسے زبردست ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس پر مولانا کا غصہ بجا ہو سکتا ہے۔ البتہ مولانا فضل الرحمان کو ’ہوشمند و زیرک‘ سیاست دان سمجھا جاتا ہے۔ وہ عمران خان کی طرح محض جذبات یا یک طرفہ سیاسی تفہیم کے مطابق بیان بازی نہیں کرتے بلکہ متوازن طرز عمل اختیار کرتے ہیں اور اپنے اختلاف کو دلیل سے واضح کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ اس لیے ایک ایسے موقع پر جب ان کی ساری ’اتحادی‘ پارٹیاں حکومت سازی پر اتفاق کر رہی ہیں، ان کی طرف سے یک طرفہ احتجاج معنی خیز ہونا چاہیے۔
آج کی پریس کانفرنس میں مولانا فضل الرحمان کا لب و لہجہ غیر مفاہمانہ اور سخت تھا اور انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو اقتدار سنبھالنے کی بجائے، ان کے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھنے کا مشورہ دیا ہے۔ مولانا کا یہ احتجاج یوں بھی معنی خیز ہوجاتا ہے کہ وہ ابھی تک نام نہاد ’پاکستان جمہوری تحریک‘ کے صدر ہیں۔ اس میں مسلم لیگ (ن) بھی شامل ہے۔ اس لیے سوچنا چاہیے کہ وہ دھاندلی کا الزام کس پر عائد کر رہے ہیں۔ اگر ان کے نشانے پر الیکشن کمیشن اور فوج ہیں اور وہ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کی پارٹی کو ’وعدے‘ کے مطابق حصہ نہیں دیا گیا تو ان کی اس دلیل سے تحریک انصاف کے موقف کی تائید ہوگی کہ انتخابات کے نتائج کا پہلے سے فیصلہ کر لیا گیا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ نے الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کے ساتھ مل کر پی ٹی آئی کی جیتی ہوئی سیٹوں پر اپنی پسندیدہ پارٹیوں کے امیدواروں کو جتوا دیا۔ اسی لئے عمران خان صرف مسلم لیگ (ن) ہی نہیں بلکہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کو بھی اپنی پارٹی کے ووٹ چوری کرنے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ان تین پارٹیوں سے تو کسی صورت بات نہیں ہو سکتی۔
مولانا فضل الرحمان کو ہو سکتا ہے کہ اس بات پر ’غصہ‘ ہو کہ عمران خان نے جن پارٹیوں کو مخالف کے طور پر نامزد کیا ہے، ان میں ان کی پارٹی کا نام کیوں شامل نہیں کیا گیا۔ لیکن مولانا نے ’ایوان کی بجائے میدان‘ میں فیصلہ کی جو بات کی ہے، اس سے قومی سیاست میں ایک نئے انتشار کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ یا تو مولانا حکومت کی تائید کے لیے اپنے پارلیمانی حجم سے زیادہ حصہ چاہتے ہیں۔ یا پھر تحریک انصاف کی طرف سے احتجاج کے بالواسطہ اشاروں کا جواب دینے کے لیے اس دعوے کے ساتھ میدان میں اترے ہیں کہ ’اصل دھاندلی‘ تو خیبر پختون خوا میں ہوئی ہے جہاں جمعیت علمائے اسلام اپنی روایتی نشستیں بھی نہیں جیت سکی۔ البتہ یہ شکوہ تو تحریک انصاف پارلیمنٹیرنز کے قائد پرویز خٹک کو بھی ہونا چاہیے جنہیں ہر جگہ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
بہتر تو یہی ہو گا کہ تحریک انصاف سمیت ہر پارٹی بیان بازی اور ’میدان میں فیصلے‘ کرنے کا اعلان کرنے کی بجائے، انتخابی بے قاعدگیوں کے خلاف قانونی راستہ اختیار کرے۔ پی ٹی آئی کے متعدد لیڈر یہ بیان دیتے رہے ہیں کہ ریٹرننگ افسروں کے مرتب کیے ہوئے بیشتر فیصلے عدالتوں میں تبدیل ہوجائیں گے کیوں کہ ان میں کی جانے والی بے قاعدگیوں کے دستاویزی شواہد موجود ہیں۔ ایسی صورت میں عمران خان یا مولانا کو غصہ کرنے کی بجائے عدالتوں کے فیصلوں کا انتظار کرنا چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں شہباز شریف اعتماد کا ووٹ لے کر وزیر اعظم بن جائیں لیکن اگر عدالتوں نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے تحریک انصاف کے ’حصے‘ والی سیٹیں واپس لے لیں تو ان کا یہ اقتدار عارضی بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ تب تحریک انصاف اپنی دو تہائی اکثریت والی حکومت بنا کر ملک کا حلیہ بگاڑنے اور دشمنوں کا ’منہ کالا‘ کرنے کا شوق پورا کر لے۔ البتہ مولانا فضل الرحمان کے چیلنج سے یہ اندیشہ بھی پیدا ہو گیا ہے کہ اگر میزان عدل پر خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی بے مثال کامیابی بھی جعلی اور دھاندلی زدہ نکلی اور اس سے جیتی ہوئی سیٹیں بھی واپس لے لی گئیں تو تحریک انصاف کیا سیاسی موقف اختیار کرے گی۔ یہ اندیشہ بے بنیاد ہو سکتا ہے لیکن سیاست کی طرح اس بارے میں بھی کچھ نہیں جاسکتا کہ عدالت میں کیا ہو گا۔
بیرسٹر گوہر علی نے آج قومی اسمبلی کی 170 سیٹیں جیتنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل کے ’وزیر اعظم‘ کا نام جمعرات کو بتایا جائے گا۔ لگتا ہے بیرسٹر صاحب قانون ہی نہیں ریاضی میں بھی ہونہار ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ تحریک انصاف کو شاید مخصوص نشستوں میں حصہ نہ مل سکے۔ ایسی صورت میں انہیں پہلے سے قومی اسمبلی میں اکثریت کا ’اہتمام‘ کر لینا چاہیے۔ واضح رہے حکومت بنانے کے لیے قومی اسمبلی میں 169 ارکان کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہو گا۔ بیرسٹر صاحب نے اگر اجلاس منعقد ہونے پر اپنے نمبر ’ثابت‘ کر دیے تو مخصوص سیٹوں کے بغیر بھی تحریک انصاف تن تنہا حکومت بنا لے گی۔ بس اتنا عرض کرنا ضروری ہے کہ 92 سیٹوں میں تبدیلی کے مشن پر روانہ ہونے سے پہلے تحریک انصاف کے لیڈر اپنے سارے ’آزاد‘ ایک جگہ جمع کر کے ان کی گنتی پوری کر لیں۔ ایک تو الیکشن کمیشن ’ناقابل اعتبار‘ ہے، دوسرے خبروں کے مطابق پی ٹی آئی کی حمایت سے سیٹیں جیتنے والے متعدد ارکان مسلسل ’گھر واپسی‘ کے لیے بے چین دکھائی دیتے ہیں۔ پہلے یہ خبریں لاہور سے ہی آ رہی تھیں جہاں اب مسلم لیگ (ن) کا دعویٰ ہے کہ کئی آزاد ارکان کی شمولیت کے بعد اب پارٹی کو پنجاب اسمبلی میں اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔ البتہ تازہ ترین خبروں کے مطابق کراچی میں بھی بعض آزاد ارکان کو اپنا اصل گھر پیپلز پارٹی کی صورت میں دکھائی دینے لگا ہے۔
دھاندلی کا قضیہ طے کروانے کے اس ہنگامے کے دوران میں چھوٹے میاں صاحب نے وزارت عظمی کے لیے اپنا نام پکا ہونے کے بعد سکھ کا سانس لیا ہے اور بڑے میاں صاحب کے ساتھ ملاقات میں وزیروں کے نام فائنل کیے ہیں۔ وزارت عظمی کے نشے میں ابھی انہیں یہ احساس نہیں ہو پا رہا کہ پیپلز پارٹی نے کابینہ میں شامل ہونے سے معذرت کی ہے۔ وہ صدر سمیت ’محض‘ آئینی عہدے لینے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ اس طرح مسلم لیگ (ن) کو اگرچہ ایم کیو ایم پاکستان (پانچ وزارتوں کے بدلے ) کی حمایت حاصل ہوگی یا مسلم لیگ (ق) اور استحکام پاکستان پارٹی ایک ایک دو دو وزارتیں لے کر اعتماد کا ووٹ دے دیں گی لیکن حکومت کی ناکامیوں کا سارا بوجھ شہباز شریف کے شوق اقتدار میں مسلم لیگ (ن) کو اٹھانا پڑے گا۔ کیا رخش اقتدار کی آخری سواری لینے کے بعد مسلم لیگ (ن) یا کم از کم شریف خاندان سیاست تج دینے کا ارادہ رکھتا ہے؟
بصورت دیگر بپھری ہوئی اپوزیشن، بے دل ہمراہی اور اسحاق ڈار جیسے ’مسیحا‘ کی موجودگی میں معیشت کے موجودہ بحران کا بوجھ پاکستانی عوام کی طرف منتقل کیا جائے گا۔ مسلم لیگ (ن) کے اس معاشی نابغے کے پاس قومی آمدنی بڑھانے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ آئی ایم ایف کو اس سے غرض نہیں کہ حکومت وسائل کہاں سے لاتی ہے، اسے اپنا قرض واپس ملنے کی ضمانت درکار ہوگی۔ امیروں کی حکومت امیروں کو زیر بار کرنے کا سوچے گی تو اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین وقت سے پہلے ہی سرک جائے گی۔
شہباز شریف شاید فوج سے متھا لگانے کی پاداش میں برطرف نہ ہوں لیکن معاشی عفریت ان کے اقتدار کو اسمبلی کی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی ہڑپ کر جائے گا۔ اس کے باوجود اگر ہاؤس آف شریفس میں گھی کے چراغ جلائے جا رہے ہیں تو ان کی مرضی۔


