پاکستانی الیکشن اور جمہوریت


امجد محمود چشتی صاحب نے اپنی کتاب ’سیاست کا جغرافیہ‘ میں پاکستانی جمہوریت کی کچھ ایسی تعریف بیان فرمائی کہ لنکن سمیت تمام گورے سہم گئے کہ ( 71 ) کا ٹوٹا ہوا ملک کہیں واقعی جمہوری دنیا کا ماہ کامل نہ بن جائے۔ وہ تحریف ملاحظہ ہو :

”Democracy is a government off the people, buy the people, far the people“ .

ظاہر ہے جتنے تجربات اور نت نئے طریقوں سے جمہوریت کو پاکستان میں اپنایا گیا اپنی مثال آپ ہے۔ مثلاً حالیہ الیکشن کو لے کے چند پڑھے لکھے حضرات جو اس بات پہ مصر تھے کہ الیکشن شفاف ہونا چاہیے، دھاندلی نہ ہو، نتائج مقررہ وقت تک شائع کر دیے جائیں یا گھوڑوں کی خریدوفروخت  نہ ہو وہ سراسر خشک طبعی اور بد ذوقی کا شکار واقع ہوئے ہیں۔ انہیں پتا ہونا چاہیے کہ جس ارض عظیم کے وہ باشندے ہیں یہاں نت نئی خرافات و اختراعات، رنگ و رس کی ہوس، رقیب و حبیب، گفت و شنید اور نشاط ثانیہ کا دور دورہ ہے اگر گوروں کی طرح چند گھنٹے میں الیکشن ختم کر دیا کہ فلاں جیتا، فلاں ہار گیا اور ہارنے والے نے فراخدلی سے یہ سب قبول بھی کر لیا تو بھئی یہ کیسا الیکشن ہوا یہ تو نری سلیکشن ہوئی۔

الیکشن تو وہ ہے جس کا مظاہرہ پاکستان میں کیا جا رہا ہے۔ بھئی پتا تو چلنا چاہیے کہ حکومت تبدل ہو رہی ہے کوئی ہلا گلا کوئی ہل چل، کوئی خریدو فروخت، کوئی گفت و شنید، کوئی لتر پولا، کوئی گہما گہمی، کوئی گرما گرمی تو ہو۔ ورنہ قوم اللہ کے فضل سے ایسی نازک اندام طبعیت کی مالک ہے کہ دو گام اگر کوئی اچھوتی خبر نہ ملے یا کوئی نیا موضوع سخن نہ ہو تو لوگ چڑ چڑے پن کا شکار ہو جاتے ہیں، چائے خانے اجڑ جاتے ہیں، ٹی وی چینلز پہ فوتگی کا سماں ہوتا ہے، دوست ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ جاتے ہیں کہ کوئی کچھ بولے اور تو اور حجام تک کی دکانوں پہ ہو کا عالم چھا جاتا ہے۔

یعنی دنیا کو جان لینا چاہیے کہ الیکشن کو حکومت منتخب کرنے کے علاوہ جن معاشی، معاشرتی اور نفسیاتی فائدوں کے لیے پاکستان میں استعمال کیا جا رہا ہے وہ قابل صد داد و تحسین ہے۔ آپ دیکھیں ناں اگر جھٹ سے الیکشن ہوتے اور پھٹ سے نئی حکومت بیٹھ جاتی تو قوم کی طبیعت پہ کس قدر گراں گزرتا کہ نہ کوئی مزہ نہ سواد، پیسہ برباد۔ لیکن اب جس طرز سے پیسے کا بخوبی استعمال کیا جا رہا ہے اور پل بھر میں جیسے بدلتے ہیں رشتے، ٹی وی چینلز پہ صحافی جس طرح اپنی گلہ پھاڑ پیشین گوئیوں کے پہاڑ کھڑے کر رہے ہیں یہ سب سو کالڈ شفاف الیکشنز میں کہاں ممکن ہوتا۔

ہمارے لوگ جو فطری طور پہ کم گو واقع ہوئے ہیں اور اپنے ذاتی معاملات بھی دوسروں سے شیئر کرنے سے گریز کرتے ہیں پچھلے چھ دن سے ایک دوسرے کی ذاتیات کے ایسے ایسے انگ کھول رہے ہیں کہ اش اش۔ تو یہ سب یقیناً پاکستانی جمہوریت کے ہی مرہون منت ہے کہ قوم کو تفریح کے ایسے اچھوتے زمانے میسر آئے۔ مزید برآں ہمارا الیکشن کمیشن اس بات پہ خاص پذیرائی کا حق دار ہے کہ حکام نے حکومت بدلی کے لئے بہار کے موسم کا ایسا انتخاب کیا کہ نئے رنگ، نئے چہرے، نئے شگوفے، نئے رشتے، نئی باس، اور نئے ذائقے باد بہاری میں اس نزاکت سے شامل کیے جائیں کہ چمن کے کسی مرغے یا مرغی پر گراں نہ گزرے۔

انگریز بلاشبہ جدید، پڑھے لکھے ترقی یافتہ اور یہ وہ ہیں پر جمہوریت سے جو حظ پاکستانی اٹھا رہے ہیں اس کا سواد ہی الگ ہے۔ یقین مانیں اس دور پر بہار میں ہمارے جدید شعرا بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ بجائے پرانے شاعروں کی طرح الیکشن کی شفافیت پہ سر ٹکرانے اور فوج کی مداخلت پہ دیوانہ وار مزاحمت کرنے کے ؛ آرام سے چائے خانوں اور جوس کارنرز پہ بمع دو چار خوبصورت شاعرات اور سگریٹ کے پیکٹ، کنوں مالٹے کے جوس اور گڑ والی چائے کے مزے لیتے ہوئے فطرت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں چوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی آئے یا جائے گلوں میں رنگ بھر چکا ہے اور گلشن کا کاروبار یونہی چلتا رہے گا ہے سو کسی دستور کو ماننے یا نہ ماننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

انت پہ اسلام آباد کے ایک سنکی پروفیسر ڈاکٹر تیمور الرحمن کا ذکر کرنا ضروری ہے جس نے ہماری پاک صاف فوج کو نشانہ بناتے ہوئے بیان دیا کہ عوام کے اصل دشمن وہ بندر نہیں جو پردے پہ رقصاں ہیں بلکہ وہ ہاتھ ہیں جن میں ان کی ڈوریاں ہیں اور جو نت نئے نمونوں کو نچا نچا کے ڈالر سمیٹ رہے ہیں۔ ایسے پرکیف دور میں اس طرح کے خشک پروفیسر یقیناً قابل سزا ہیں ممکن ہے کہ جلد ہی صاحب کو فہرست گمشدگیاں میں شامل کر لیا جاوے۔ خیر ہمیں کیا آئیں نئی نویلی جمہوری دلہن کے ساتھ باد نو بہار کے مزے لوٹتے ہیں۔

Facebook Comments HS