قومی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس’کون بچائے گا پاکستان، چور چور اور قیدی نمبر 804‘ کے نعروں کی نذر

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد


قومی اسمبلی اجلاس

پاکستان کی 16ویں منتخب قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات کو پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا تو اجلاس شروع ہونے سے پہلے ہی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت پارلیمنٹ ہاوس پہنچ چکی تھی جبکہ منتخب ارکان اسمبلی مرحلہ وار پارلیمنٹ ہاوس آتے رہے۔

بدھ کے روز صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی میں ارکان کے حلف اٹھانے کی تقریب میں جو بدنظمی ہوئی اس کو دیکھتے ہوئے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے مختلف ارکان اسمبلی کی درخواست پر جو پاسز جاری کیے تھے ان کو منسوخ کر دیا گیا۔ جس کی وجہ سے ایسے درجنوں مہمانوں کا پارلیمنٹ ہاوس پہنچنا تو دور کی بات انھیں پارلیمنٹ کے احاطے میں بھی داخل نہیں ہونے دیا گیا۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے اس اقدام کا مقصد یہ تھا کہ اسمبلی کے ڈیکورم کو برقرار رکھا جائے لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ جن مخصوص افراد کو پاسز جاری کیے گئے، وہ بھی اپنی اپنی جماعت کے حق میں اس وقت مہمانوں کی گیلری سے نعرے لگانا شروع کر دیتے جب ان کی جماعت کا حمایت یافتہ منتخب رکن حلف اٹھانے کے بعد ایم این ایز کی کتاب پر دستخط کرنے کے لیے سپیکر ڈائس پر جاتا۔

اور تو اور خود پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف اور آصفہ بھٹو بھی مہمانوں کی گیلری میں بیٹھ کر نعرے لگاتی رہیں۔

سابق وزیراعظم نواز شریف جب قومی اسمبلی ہال میں داخل ہوئے تو پی ٹی آئی ارکان جو اب سنی اتحاد کونسل کا حصہ بن چکے ہیں، نے نعرے لگانا شروع کر دیے۔

ایک رکن کہتا ’دیکھو دیکھو کون آیا‘ تو پی ٹی آئی کے دیگر ارکان کہتے ’چور آیا چور آیا‘ جبکہ اس کے جواب میں نون لیگی ارکان یہ نعرے لگاتے کہ ’دیکھو دیکھو کون آیا‘ تو باقی جواب دیتے کہ ’شیر آیا شیر آیا۔‘

قومی اسمبلی کا ہال دس منٹ تک ان ہی نعروں سے گونجتا رہا۔

حلف اٹھانے کے بعد پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ارکان اسمبلی نے سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو کر احتجاج کیا اور الزام عائد کیا کہ ان کا مینڈیٹ چوری کیا گیا۔

ان ارکان کے احتجاج کے باوجود سپیکر کی جانب سے ان ایم این ایز کو دستخط کے لیے بلایا جاتا رہا، جنھوں نے حلف اٹھایا تھا۔

حلف اٹھانے کے بعد سپیکر کی طرف سے حروف تہجی کی بنیاد پر نام پکارے جانے کی بجائے پہلے بڑی پارٹی کے رہنماؤں جن میں نواز شریف، آصف زرداری، بلاول بھٹو، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان شامل تھے، کو پہلے بلا کر ان کے دستخط کروائے گئے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کو جب دستخط کرنے کے لیے بلایا گیا اور جب وہ سپیکر ڈائس کے قریب پہنچے تو وہاں پر پہلے سے موجود سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے ’چور چور‘ کے نعرے لگانا شروع کر دیے۔

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ن لیگ کے ارکان اسمبلی نے بھی سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی اور وہ ’گھڑی چور‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

قومی اسمبلی اجلاس

بعد ازاں یہ ارکان آگے بڑھے اور نواز شریف کو حصار میں لے لیا اور ان کے ایم این ایز کی کتاب پر دستخط کروائے گئے اور پھر اس دروازے سے نواز شریف کو باہر نکالا جہاں پر حزب مخالف کے ارکان احتجاج کر رہے تھے۔

میاں نواز شریف جب رول آف ممبر کی کتاب پر دستخط کرنے جا رہے تھے تو انھوں نے سابق صدر آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے ہاتھ ملایا جبکہ انھوں نے مولانا فضل الرحمان، محمود خان اچکزئی اور اختر مینگل سے ہاتھ نہیں ملایا تاہم اس کے برعکس آصف زردرای اور بلاول بھٹو نے اپوزیشن بینچوں پر جا کر مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔

مولانا فضل الرحمان نے ایوان میں موجود پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ داوڑ کنڈی کو گلے لگایا جنھوں نے عام انتخابات میں ان کے بیٹے اسعد محمود کو شکست دی تھی۔

پی ٹی آئی کے آزاد ارکان جو اب سنی اتحاد کونسل کا حصہ ہیں، جب وہ رول آف ممبر کی کتاب پر دستخط کرنے کے لیے جاتے تو عمران خان کے پوسٹر اپنے ساتھ لے کر جاتے جو سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ سلطان نے اپنے ڈائس پر رکھے ہوئے تھے۔

یہ ارکان دستخط کرنے کے بعد نعرہ لگاتے کہ ’کون بچائے گا پاکستان‘ جس کے جواب میں کچھ عمران خان کا نام لیتے اور کچھ میاں نواز شریف کا نام لیتے۔

سنی اتحاد کونسل کے ارکان قیدی نمبر 804 کے حق میں بھی نعرے لگاتے رہے۔ واضح رہے کہ عمران خان کو یہ نمبر توشہ خانہ کیس میں سزا ملنے کے بعد اس وقت الاٹ کیا گیا جب انھیں اٹک جیل لایا گیا تھا۔

سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد سلطان جب رول آف ممبر کی کتاب پر دستخط کرنے کے لیے آئے تو نون لیگ سے تعلق رکھنے والے ارکان نے نعرے لگانا شروع کر دیے اور وہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ ’یہ اپنی پارٹی کا پہلا سربراہ ہے جو الیکشن جیت کر اپنی پارٹی میں شامل ہوا۔‘

واضح رہے کہ سنی اتحاد کونسل کے سربراہ نے 8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں آزاد حیثیت سے حصہ لیا تھا۔

استحکام پاکستان پارٹی کے صدر علیم خان جب دستخط کرنے کے لیے سپیکر ڈائس کی طرف جا رہے تھے تو پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے نعرے لگانا شروع کر دیے۔

اجلاس کے دوران نون لیگ کے رکن اسمبلی خواجہ آصف نے نقطہ اعتراض پر بات کرنے کی کوشش کی تو سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے ’چور چور‘ کے نعرے لگانا شروع کر دیے تو خواجہ آصف نے اپنے ہاتھ سے اپنی گھڑی اتار کر لہرائی تو ان کی جماعت کے ارکان نے ’گھڑی چور گھڑی چور‘ کے نعرے لگانا شروع کردیے۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو توشہ خانہ کیس کے مقدمے میں سزا سنائی گئی اور توشہ خانے سے جو انھوں نے تحائف لیے تھے ان میں سعودی ولی عہد کی طرف سے ملنے والی گھڑی بھی شامل تھی۔

اجلاس کے دوران ہی سپیکر قومی اسمبلی کے انتخاب لڑنے والے امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی بھی جمع کروائے۔

حکمران اتحاد کی طرف سے ایاز صادق اور سنی اتحاد کونسل کی طرف سے عامر ڈوگر امیدوار ہیں۔

حلف اٹھانے کے بعد پاکستان مسلم لیگ نون، پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کے ارکان ایک دوسرے سے ایسے مل رہے تھے، جن کو دیکھ کر گمان ہوتا تھا کہ شاید یہ سارے ایک ہی پیج پر ہیں۔

منتخب ارکان جب حلف اٹھانے کے لیے قومی اسمبلی کے ہال میں داخل ہو رہے تھے تو کچھ کے چہروں پر خوشی کے اثرات تھے جبکہ باقی سنجیدہ دکھائی دے رہے تھے تاہم پہلی مرتبہ مخصوص نشستوں پر قومی اسمبلی میں آنے والی خواتین اپنے موبائل سے سیلفیاں لیتی رہیں۔

اکثریت کے چہروں پر سنجیدگی دیکھتے ہوئے پریس گیلری میں موجود ایک صحافی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکمراں اتحاد والے اس لیے پریشان ہیں کہ اقتدار ملنے کے بعد وہ کیا کریں گے اور حزب مخالف والے اس لیے پریشان ہیں کہ وہ ایوان میں ہوتے ہوئے بھی عمران خان کو قید سے باہر نہیں نکال سکتے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 32469 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments