مراد علی شاہ سے وابستہ امیدیں
سندھ کے تیسری مرتبہ بننے والے وزیراعلی سید مراد علی شاہ، سندھ اسمبلی میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں۔ اور کمال کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ جب پہلی مرتبہ 2002 میں ایم پی بنے تھے تو وہ اسمبلی مٰیں سب سے زیادہ ٹیکنیکل سوالات کرنے والے میں سے تھے۔ اس وقت اس کے پاس ایک بلیک بیری اسٹک کے ساتھ ہوا کرتی تھی اور وہ اسمبلی کے اجلاس کے دوران اس بلیک بیری میں مشغول ہوا کرتے تھے۔ ان کی سیٹ جام تماچی کے ساتھ ہوتی تھی اور ان کے ساتھ مرحوم ڈاکٹر سکندر میندھرو بھی برابر میں بیٹھتے تھے۔
اس وقت پیپلز پارٹی اپوزیشن میں ہوا کرتی تھی۔ اور اسپیکر سید مظفر حسیسن شاہ ہوا کرتے تھے۔ مراد علی شاہ اسپیکر سے بہت سوال کرتے تھے اور اسپیکر اکثر پریشان نظر آتے تھے۔ جیسا کہ پرانی اسمبلی میں وی آئی پی گیلری اسمبلی میں اسپیکر کے ساتھ ہوا کرتی تھی تو میں اکثر اسمبلی کے اجلاس اٹینڈ کرتا تھا۔ میں نے آج تک سید مراد علی شاہ کو جذباتی ہوتے نہیں دیکھا۔ وہ اتنے سادہ انسان ہیں کہ 2003 میں، میں ان کے گھر کسے کام سے گیا۔ اس نے مجھے ایک چھوٹے کمرے میں بٹھایا جہاں بہت ساری کتابیں نظر آ رہی تھی اور مراد علی شاہ اس وقت ایم پی اے تھے لیکن اپنے ہاتھوں سے چائے لے کر آئے تھے۔
جب پہلی مرتبہ قائم علی شاہ کی جگہ مراد علی شاہ کو وزیر اعلی بنایا گیا، اس وقت اس نے اسمبلی میں کمال کی تقریر کی تھی، اس نے ساری شعبوں کی بات کی تھی اور کہا تھا کہ میں خود ان چیزوں کو دیکھوں گا۔ اس میں کوئی شک نہیں مراد علی شاہ نے کافی چیزوں کو بہتر بھی کیا لیکن کچھ چیزوں پر ان کی کوئی خاص توجہ نہیں رہی۔ اس میں تعلیم بھی ہے۔ سیلاب کی تباہی میں جو اسکول تباہ ہو گئے اس پر کام نہٰیں ہو سکا اور اس پر کوئی خاص توجہ بھی نہیں دی گئی۔
اسکول اسپسفک بجٹ جو تقریباً 6 بلیں سالانہ تھی وہ مسلسل لیپس ہوتا رہا اور اسکولوں پر کام نہیں ہو سکا۔ ہر ریجن پر 40 سے پچاس ملین اسکولوں کے فرنیچر کا ہر سال بجٹ آتا رہا لیکن وہ بھی لیپس ہوتا رہا، اور کہیں کہیں تھرڈ کلاس فرنیچر آیا اور اس پر کسی نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ اسکولوں میں ایس ایم سی کی مد میں ہر سال ڈیڑھ ارب سے زیادہ پیسے دیے جاتے ہیں لیکن 90 ٪ اسکولوں میں ایس ایم سی کا وجود ہی نہیں۔ وہ پیسہ ہیڈ ماسٹر یا ایس ایم سی کے چیئرمین کھا جاتا ہے۔ تعلیم کی حوالے سے میں اس لیے لکھ ریا ہوں، کیوں کہ مراد علی شاہ اپنی پہلی تقریر میں تعلیم کا بہت ذکر کیا تھا لیکن ان کی حکومت کے پورے عرصے میں وہ تعلیم پر توجہ نہیں دے سکے۔
اسی طرح سندھ کے ضلع ہیڈ کواٹرز میں کوئی خاص ترقیاتی کام نہیں ہوسکا، میونسپل ادارے غیر فعال رہے۔ شہر کے اندر کے راستے نہیں بن سکے۔ سی سی روڈ بھی ان کو دیے گے جن کا کسی ڈی سی یا چیرمین کے ساتھ کوئی واسطہ تھا۔ سندھ میں کراچی کے علاوہ کسی شہر میں کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ ان شہروں کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ گٹر ابل رہے ہیں، کوئی سڑک نہیں بن سکی۔ شہر کی رہائشی کالونیوں پر کوئی توجہ نہیں دی۔ بلڈرز کو کام کرنی کی اجازت مل جاتی ہے، لیکن شہری حکومت وہاں کوئی کام نہیں کرتی، نہ پانی ملتا ہے نہ گٹر نالے بنتے ہیں، نہ کوئی صفائی کرنے والا ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ مراد علی شاہ کے دور میں لا اینڈ آرڈر کی حالت اچھی نہٰیں رہی۔ اپر سندھ میں قبائلی جنگ چلتی رہی، قبائلی لڑائی میں جانوں اور مال کا نقصان ہوا۔ سندھ میں ڈاکوں کے خلاف آپریشن ہوتے رہے لیکن ڈاکو بھی اپنا کام کرتے رہے۔ مجھے اب بھی یاد ہے 2016 میں مجھے ڈاکوں نے سکھر جاتے ہوئے بہریا شہر سے اغوا کر لیا تھا اور مجھے لگ رہا تھا ڈاکو مجھے پولیس کے پہرے میں اغوا کر کہ لے جا رہے ہیں۔ راستے میں بہت جگہ پر پولیس نے ڈاکوں کی گاڑی کو روکا لیکن پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ جب اپر سندھ میں ڈاکو راج ہوتا ہے وہاں پر کوئی کام نہیں ہوتا۔ چھوٹے تاجر بھی بھاگ جاتے ہیں۔
مراد علی شاہ کی پچھلے دور میں ہندو لڑکیوں کی فورس کنورژن ہوئی لیکن سندھ حکومت خاموش رہی۔ 18 سال سے کم عمر کی بچی کو مسلمان کرنے کے خلاف قانون بنانے کی کوشش کی گئی مگر مولانا فضل الرحمن ناراض ہو گئے۔ اور سندھ حکومت نے وہ قانونی مسودہ واپس لے لیا۔
سندھ کے لوگ امید کرتے ہیں اگر اس دفعہ وزیراعلی مراد علی شاہ نے تعلیم، میونسپلٹی سروس اور لا اینڈ آرڈر پر توجہ دی تو سندھ کی گورننس بہت اچھی ہو سکتی ہے۔


