وفاقی حکومت کے لیے کرنے کے کچھ کام
خیبر پختون خوا کے نومنتخب وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے سول سیکرٹریٹ میں اپنی کابینہ کے پہلے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بحیثیت ایک غریب ملک ہم سابق وزرائے اعلیٰ کو سہولتیں و مراعات فراہم کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ یہ تمام سہولیات، بشمول گارڈز اور سرکاری گاڑیاں اُن سے واپس لی جا رہی ہیں۔ تمام تر ذاتی یا سیاسی اختلافات کے باوجود امین گنڈا پور کا یہ فیصلہ وفاقی حکومت کے علاوہ باقی صوبوں کے لیے بھی قابل تقلید ہونا چاہیے۔
اس وقت ملک اپنی تاریخ کے بدترین بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف خود اعتراف کرچکے ہیں کہ وفاقی حکومت کے اخراجات، قرض سے پورے ہو رہے ہیں۔ یہ صورت حال جہاں ٹھوس اور پائیدار معاشی منصوبہ بندی کا تقاضا کرتی ہے تو اس کے ساتھ ہی حکومت کو متعدد ایسے چھوٹے چھوٹے اقدام کرنے چاہئیں جن سے ملک کے عام شہریوں کو یہ باور کروایا جا سکے کہ موجودہ مالی بحران میں تمام تر بوجھ محض بالواسطہ ٹیکس ادا کرنے والے عوام پر ہی نہیں لادا جا رہا بلکہ پہلے سے مراعات یافتہ طبقہ کو بھی اس قومی ذمہ داری میں شراکت پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں سیاسی یا آئینی عہدوں پر فائز رہنے والے تمام لوگوں کی مراعات ختم کر کے اس حوالے ایک ٹھوس اور دکھائی دینے والا قدم اٹھایا جاسکتا ہے۔
اس کے علاوہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں، سرکاری افسروں اور دیگر ایسے اہلکاروں کو ملنے والی مراعات کا بھی از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خبروں میں جو اطلاعات سامنے آتی ہیں، ان کے مطابق ہائی کورٹ و سپریم کورٹ کے ججوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پنشن اور سہولتوں کی مد میں کثیر رقوم دی جاتی ہیں۔ اس سہولت کا ایک عذر شاید یہ ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں جج کے منصب پر فائز رہنے کے بعد کوئی شخص وکالت کو ذریعہ آمدنی نہیں بنا سکتا، اس لیے اسے معقول پنشن دینا ضروری ہے تاکہ ان کے مالی خسارے کی تلافی ہو سکے۔ یہ دلیل اسی صورت میں قابل غور ہو سکتی ہے، اگر ملکی معیشت ایسے سرکاری اخراجات کی متحمل ہو سکتی ہو۔ موجودہ حالات میں تو حکومت کو ایک ایک روپیہ بچانے اور غیر پیداواری سرکاری اخراجات کم کرنے کی ضرورت ہے۔ جج کے عہدے پر فائز ہونے والے افراد اپنی خوشی سے یہ عہدہ قبول کرتے ہیں۔ وہ ملک میں سرکاری افسروں کی ریٹائر منٹ کے لیے مقررہ عمر سے زیادہ مدت تک عہدے پر کام کرتے ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال ہے جو باقی سرکاری ملازمین کے پنشن پر جانے کی عمر سے زیادہ ہے۔
پنشن پانے کے بعد ججوں اور اعلیٰ سرکاری افسروں کو ملنے والی سہولتیں بھی دیگر اہلکاروں کے مقابلے میں غیر ضروری طور پر زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ دوران ملازمت انہیں حکومت کی طرف سے نہایت کم داموں پر پلاٹ لینے کی سہولت بھی حاصل ہے۔ یہ سہولت چونکہ تمام سرکاری ملازمین کو دستیاب نہیں ہے لہذا ججوں و اعلیٰ سرکاری ملازمین کو ایسی اضافی رعایت دینا نا انصافی ہے۔ ان عہدوں پر فائز افراد تو پہلے ہی تنخواہ، الاؤنسز اور مراعات کی مد میں کثیر رقوم حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ جبکہ سرکاری مشینری میں نچلی سطح پر کام کرنے والے افراد ان مالی سہولتوں کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اس لیے اضافی طور سے انہیں سرکاری زمینوں میں سے پلاٹ تقسیم کرنے کی روایت ناجائز اور ناروا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف ایسی علتیں پہلی فرصت میں ختم کریں۔
حکومت اگر سول بیورو کریسی اور ججوں کی مراعات اور دوران ملازمت اور پنشن پانے کے بعد ملنے والی مالی سہولتوں پر نظر ثانی کرے تو اگلے مرحلے میں فوج اور خود مختار طور سے کام کرنے والے دیگر اداروں سے بھی تقاضا کیا جاسکتا ہے کہ دوران ملازمت تنخواہ اور دیگر مراعات کے علاوہ پلاٹ، مکان، یا زرعی زمینیں دینے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے تاکہ ان وسائل کو قومی تعمیر کے مقصد سے صرف کیا جا سکے۔ حکومت کو موجودہ سنگین مالی صورت حال میں دفاعی بجٹ کے حوالے سے بھی سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ دیکھا جا سکے کہ اس میں کون سے مصارف افسروں کو آسائشیں فراہم کرنے پر صرف ہو رہے ہیں تاکہ ان میں کمی کی منصوبہ بندی ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے پارلیمنٹ کو دفاعی اخراجات کی اسکروٹنی کا حق ملنا چاہیے۔ انٹرنل آڈٹ کا موجودہ طریقہ ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے فوجی معاملات میں شفافیت دیکھنے میں آئے گی جس سے عام لوگوں میں فوج کی عزت و وقار میں اضافہ ہو گا۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ کی خودمختاری و اختیار میں اضافہ ہو گا۔ آئینی انتظام اور انتخابی طریقہ کار کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ عوام کے منتخب نمائندوں کو قومی زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں فیصلے کرنے اور ان کی نگرانی کرنے کا حق حاصل ہو۔ ملک کا دفاع ان اختیارات سے ماورا نہیں ہو سکتا ۔
دفاعی اخراجات میں متعدد مدات شامل ہیں۔ ان مدوں پر پارلیمنٹ میں بحث و مباحثہ سے واضح ہو سکے گا کہ کون سے اخراجات کا تعلق براہ راست ملکی دفاع سے ہے اور کون سے وسائل محض افسر شاہی برقرار رکھنے پر صرف ہوتے ہیں۔ یہ تاثر بھی عام ہے کہ فوجی افسروں و اہلکاروں کو ادا کی جانے والی پنشن اور دیگر مراعات دفاعی بجٹ کا حصہ نہیں بلکہ انہیں سرکاری ملازمین کو دی جانے والی پنشن کے بجٹ میں ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔ یہ ابہام بھی اسی صورت میں رفع ہو سکے گا اگر دفاعی بجٹ پر دیگر سرکاری اخراجات کی طرح پارلیمنٹ میں غور و خوض ہو سکے۔ اب ملک و قوم کو یہ دہلیز عبور کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر دفاعی اخراجات پر کھل کر بات کی گئی تو اس سے فوج کا مورال پست ہو گا۔ دنیا بھر کی پارلیمنٹ میں دفاعی اخراجات پر بات چیت ہوتی ہے اور سرکاری تجاویز کے برعکس تجاویز بھی زیر غور آتی ہیں۔ کہیں کسی فوج کو یہ اعتراض نہیں ہوتا کہ اس طریقہ سے فوج کی کارکردگی متاثر ہونے کا امکان ہے۔ پاکستان میں بھی اس اصول کو اپنانے کی ضرورت ہے۔
لمحہ موجود میں یہ گفتگو اس لیے اہم ہے کہ ملک کو اس وقت جن معاشی اندیشوں کا سامنا ہے، وہ اس سے پہلے کبھی درپیش نہیں تھے۔ دفاعی اخراجات قومی بجٹ کی دوسری بڑی مد ہے جس پر پارلیمنٹ کا براہ راست کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ یہ طریقہ قومی معاشی اصلاح کا منصوبہ کامیاب بنانے کے لیے تبدیل ہونا ضروری ہے۔ اسی طریقے پر چلتے ہوئے اگلے کسی مرحلے میں عسکری اداروں کے زیر انتظام چلنے والے کاروباری منصوبوں کو بھی سول انتظام میں لانے کی ضرورت ہوگی۔ ملک میں ریٹائر فوجیوں کو سہولتیں دینے کے نام پر ہاؤسنگ اسکیمیں شروع کی گئی تھیں لیکن چند دہائیوں کے دوران میں انہیں بیش قیمت کمرشل انٹرپرائز بنایا جا چکا ہے۔ اسی طرح شہدا فاؤنڈیشنز کے زیر اہتمام تجارتی و صنعتی منصوبوں کو ملنے والی مراعات یا سبسڈی کا خاتمہ بھی ضروری ہے تاکہ یہ منافع بخش ادارے ملکی خزانے پر بوجھ بننے کی بجائے قومی آمدنی میں حصہ دار بن سکیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور حکمران اتحاد میں شامل سب سیاسی پارٹیاں اب تحریک انصاف کو تمام معاشی خرابیوں کا ذمہ دار قرار دے کر نعرے بازی کی سیاست ترک کریں۔ اب ملک انتخابی ماحول سے باہر آ چکا ہے۔ عبوری حکومتوں کی بجائے منتخب حکومتیں کام کر رہی ہیں۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی سربراہی کرنے والے لیڈروں کو یقینی بنانا چاہیے کہ اختیار ات، مخالف آوازیں دبانے کا نام نہیں ہے بلکہ عوام نے یہ اختیار قومی فلاح اور عوامی بہبود کے منصوبے مکمل کرنے کے لیے دیے ہیں۔ موجودہ حکومت چونکہ معاشی اصلاح کے بنیادی ایجنڈے پر اقتدار میں آئی ہے، اس لیے فوری طور سے ان اصلاحات کا ڈھانچہ سامنے لایا جائے جس کی بنیاد پر شہباز حکومت ملکی معیشت کو خود مختاری کی طرف لے جائے گی۔ اب دس سال پہلے کے واقعات و حالات کا ذکر کرنے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ اس کے لیے رہنما اصول طے کرنے کے بعد ان پر عملی اقدامات کرنے سے ہی ملک کا اقتصادی ڈھانچہ مستحکم ہو سکے گا۔
فی الوقت متعدد صوبائی حکومتوں نے رمضان پیکیج کے نام سے غریبوں کو مراعات دینے کا اعلان کیا ہے۔ یا ان کی مدد کے لیے مختلف مالی منصوبے شروع کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ ملک میں غریب کے مسائل دو ہی صورتوں میں کم ہوسکتے ہیں۔ ایک آبادی میں اضافہ کے حساب سے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا کوئی طریقہ اختیار کیا جائے۔ دوسرے ملک کے مالدار طبقے کو قومی خزانے میں زیادہ حصہ ادا کرنے کا پابند کیا جائے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران میں آئی ایم ایف کی طرف سے ہر حکومت پر قومی آمدنی بڑھانے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا رہا ہے لیکن ناقص منصوبہ بندی یا کمزور سیاسی ارادے کی وجہ سے ایسے کسی منصوبہ پر عمل نہیں ہوسکا جس کے تحت معاشی طور سے مستحکم لوگ زیادہ ٹیکس ادا کریں۔ ملک میں انکم ٹیکس کا نظام انتہائی ناقص ہے۔ کوئی بھی حکومت ٹیکس نیٹ ورک بڑھانے میں کامیاب نہیں ہوتی کیوں کہ کوئی نہ کوئی گروہ سیاسی دباؤ کے ذریعے ایسی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیتا۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ اگر اب بھی حکومت نے کمزوری اور کم ہمتی کا مظاہرہ کیا تو ناکامی کے سوا اسے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ وزیر اعظم کے لیے قومی آمدنی میں اضافہ کا ہدف سیاسی لحاظ سے ہی اہم نہیں ہے بلکہ ملک کا مستقبل بھی اسی صورت میں محفوظ ہو سکتا ہے جب ضروری فیصلے کیے جائیں اور پھر ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
حکومت مالی بیل آؤٹ کے لئے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حکمران سیاست دانوں اور اعلیٰ افسروں کو معلوم ہے کہ وہاں سے مزید مالی پیکیج دینے کے لیے کیا مطالبہ کیا جائے گا۔ قبل ازیں ایسے مالی فیصلوں کا سارا بوجھ عام شہریوں کی طرف منتقل ہوتا رہا ہے۔ اب ملک کے مالدار طبقات کو ٹیکس و محاصل میں حصہ دینے، غیر پیداواری سرکاری اداروں سے جان چھڑانے اور سرکاری انتظام میں بدعنوانی کے راستے بند کیے بغیر معاشی اصلاح کا مقصد حاصل کرنا ممکن نہیں ہو گا۔


