کیا غریب کی کوئی شناخت ہوتی ہے؟


سپاہی کی ہاتھ کے اشارے نے ڈرائیور کو گاڑی دس قدم کے فاصلے پر روکنے پر مجبور کر دیا۔ ڈرائیور نے آگے بڑھ کر خاتون کی تکلیف کے بارے میں بتانا چاہا۔ مگر اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ساتھ کھڑے سپاہی نے ڈرائیور کو چوکی کی طرف جانے کا حکم صادر دی۔ رات کے اس پہر کسی کو بغیر انٹری کے جانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی تھی۔ کیونکہ کچھ دن قبل کسی دہشت گرد کو علاج کے لئے اس راستے سے گزارا گیا تھا۔ اب کھڑے سپاہی کو مریضوں کی آہ و پکار سے زیادہ اپنے سینئر کی باتیں یاد آ رہی تھی۔

اور چوکی پر بیٹھے حوالدار نے ڈرائیور کے ساتھ، مریضہ کے شوہر کا نام پوچھا کیونکہ اس کی شناختی کارڈ ایمرجنسی میں اٹھانا کسی کو یاد نہیں رہا۔ کمانڈر یارو کا نام سن کر حوالدار اپنے سیٹ سے آٹھ کڑے ہوئے اور کچھ دیر انتظار کا کہے کر قلعے کے اندر چلا گے۔ کیونکہ اس کو مشکوک لوگ یا ان کے خاندان کی انٹری کا اجازت نہ تھی۔ اور کافی دیر انتظار کے بعد گاڑی میں بیٹھے دوسرے خاتون نے چلانا شروع کردی کہ ماخاتو کی جان نکل رہی ہے۔

حوالدار کی واپسی تک ماخاتو، کم شناخت علی کو اس دنیا میں چھوڑے کر چلی گئی تھی۔ کیونکہ علی کا ابو کمانڈر یارو اپنی بلوچیت کی شناخت بچاتے بچاتے جان سے گئے تھے۔ اور اس کی اماں یارو کی کمانڈری شناخت کی وجہ سے کئی سارے لوگوں کے درمیان بیچ سڑک پر جان سے گئی تھی۔ اور اب ڈرائیور علی اور اس کی پھوپھی کو ساتھ لے واپس گھر کو لوٹے اور گھر پہنچ کر، ان کو لاش اترانے میں مدد کی اور اشاروں کنایوں سے خاتون کو اگلے ماہ کرایہ لینے کا کہہ کر چھوڑ کر اپنے گھر کو نکل گیا۔

اب علی کی پھوپھی نے اپنے غربت کو بالائے طاق رکھ کر اس کو پالنا شروع کی۔ کیونکہ علی اس کے بھائی کی آخری نشانی تھا اور کچھ عرصہ بعد علی کے گاؤں تبلیغی جماعت کے لوگ آئے۔ اب پھوپھی کو علی کی جان کا خطر محسوس ہو رہا تھا۔ کیونکہ یارو نے اپنے جوانی میں قبائلی لڑائی میں کسی شخص کو مارا تھا۔ ان سے بچانے کے لئے پھوپھی نے علی کو ان تبلیغی لوگوں کے حوالے کیا۔ انہوں نے علی کو شہر کے ساتھ بنے اپنے مدرسہ میں داخلہ کریا۔ اب علی روز دوپہر سے لے کر رات نو بجے تک مدرسے میں حفظ کے ساتھ، فقہ کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔

اور اب کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اس قابل ہو گیا تھا کہ اپنے فقہ کی بحث میں کسی کو شکست دے سکتا تھا اور دن کو سکول بھی جاتا وہاں اس کو پاکستانیت کا درس دیا جاتا۔ اور اس کو محب وطن بنانے پر زور دیا جاتا۔ کیونکہ اساتذہ نے اس کے ابو کی موت کا قصہ سن رکھا تھا۔ اب وہ ایک سنی اور محب وطن بن چکا تھا۔ جب وہ اٹھارہ سال کے عمر تک پہنچ گیا۔ اور اس کو شہر میں کام نہیں ملنے کی وجہ سے وہ واپس گاؤں آنا پڑا جہاں اس کے چاچو نے کچھ زمینیں کاشتکاری کے لئے اس کو دینے کا کہا تھا۔

اب وہ گاؤں کے لوگ کے ساتھ زمینوں پر کاشت کاری کرتا اور ان کے ساتھ اٹھاتا بیٹھتا اور لوگ اس کو اس کے ابو کے قصہ سناتے اور اس کے دشمنوں سے ڈراتے۔ کیونکہ اب وہ کافی طاقت ور ہوچکے تھے۔ ایک دن علی پر حملہ آور ہوئے۔ مگر علی کے رشتہ دار اس کو بچانے میں کامیاب ہوئے۔ اب علی کو اپنے قبیلہ کی شناخت پر فخر ہونے لگا تھا۔ کیونکہ علی کے زندگی بچانے والے اب صرف وہ لوگ رہے گے تھے۔ اور ان کے کہنے پر علی نے جمعیت کے بجائے اپنے حلقے کے میر کو ووٹ دیا تھا۔

اب علی ایک سنی مسلمان ہونے کے ساتھ بگٹی ہونے پر فخر محسوس کرتا اور کبھی کبھار اپنے علاقے میں حکومتی لوگوں کی نا انصافیوں دیکھ کر اپنے قوم کی زندگی کے جانب غور کرتا۔ تو اس کی وجہ سے اس کے اندر بلوچیت بھی آ چکی تھی۔ ایک رات زمینوں پر کام کرتے علی کو سانپ نے ڈس لیا۔ اور علاج کے لئے شہر بھاگے مگر وہاں داخلے سے پہلے ڈاکٹر نے اس سے پیسہ مانگے جو اس کے پاس اس وقت نہیں تھے۔ مگر اس کے چاچو نے کچھ دیر بعد پیسہ ارینج کر کے لانے کا وعدہ بھی کیا۔

مگر نرس سٹاف نہ مانے۔ کیونکہ سانپ والا انجکشن کئی ہزار کا تھا۔ اور کچھ دیر کی درد کے بعد لاغر علی اپنے جسم اور جان کی اکٹھ کو برقرار رکھ نہ سکا اور اپنے تمام شناختوں کو ادھر ہی چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ کیونکہ علی کی طرح اس دنیا میں کسی غریب کا کوئی شناخت نہیں ہوتا سوائے اس کی غربت کے باقی سب اس کو اس کی غربت کی وجوت جاننے سے دور رکھنے کے ذریعے ہوتے ہیں۔ جو علی کی طرح کئی کروڑ غریب اس دنیا میں لے پھرتے ہیں۔

Facebook Comments HS