معتزلہ کے اصول خمسہ
تاریخ اور بالخصوص اسلامی تاریخ بیان کرتے وقت ہمیشہ پاکستانی مصنفین کی جانب سے رومانیت کا عنصر غالب رہتا ہے۔ الفاظ کو جملوں کے پیرائے میں یوں باندھا جاتا ہے کہ احساس ہوتا ہے، میں کوئی مستند و معتبر تاریخ نہیں پڑھ رہا ہوں بلکہ میرے سامنے کوئی افسانہ پڑا ہے، جس کو نا جانے کیوں تاریخ نگاری کی فہرست میں ٹھونس دیا گیا ہے۔ اسی روش کی بنا پر میں پاکستانی مورخین اور خاص طور پر پاکستان کے اسلامی مورخین کی تاریخوں پر وقت غارت کرنے کے بجائے اصل ماخذوں یعنی ابن خلدون، طبری یا ابن سعد وغیرہم کی طرف ہی رجوع کرتا ہوں۔
البتہ، یہاں کوئی یہ الزام لگا سکتا ہے کہ ابن خلدون کے ماسوا تمام قدیم مورخین نے بھی تاریخ بیان کرتے وقت افسانہ طرازی ہی کی ہے اور بھلا کیا ہی کیا ہے؟ لیکن یہاں میں صرف یہی کہنا چاہوں گا کہ ان تواریخ میں رومانیت یا ماضی کی پوچا کے عناصر غالب نہیں ہوا کرتے ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں ان کے سوا بہت کم ہی کچھ ہوا کرتا ہے۔
بہرحال، یہاں پاکستانی حضرات کی تاریخ نگاری پر نکتہ چینی کرنا قطعاً ہمارا موضوع بحث نہیں بلکہ ہمیں تو اسلامی تاریخ کے ایسے بد نام زمانہ گروہ کے متعلق ورق گردانی کرنی ہے جن کا ذکر آج کل ہر کسی کی زبان پر ہے یعنی معتزلہ۔ ان دنوں معتزلہ پر بہت کچھ لکھا اور کہا جانے لگا ہے۔ فلسفی، ادیب، شاعر، کالم نگار، صحافی، طلباء الغرض ہر کوئی ان کے متعلق مزید جاننے کی کھوج میں ہے۔ اسی ضرورت کو بھانپتے ہوئے یہ مضمون لکھنے کی سعی کی گئی ہے کیونکہ میں صرف ضرورت کے تحت ہی لکھتا ہوں۔ ان کی طرح نہیں جو صرف اس لیے لکھتے ہیں کہ دنیا کو بتا سکیں کہ ہم لکھ بھی سکتے ہیں۔
کسی زمانے میں جب فلسفہ اور علم کلام میرے لیے نئے موضوعات ہوتے تھے (اور آج بھی میں کچھ زیادہ جاننے کا قائل نہیں) تب معتزلہ سے میرا پہلا باضابطہ واسطہ علامہ شبلی نعمانی کی کتاب علم الکلام و الکلام کے مطالعہ سے پڑا۔ اور میری کئی راتیں اس کتاب کے ورق الٹنے میں ہی صرف ہوئیں۔ معتزلہ کی عقلیت پسندی کا ذکر سن کر میں بھی جو ان دنوں عقل و منطق کے سوا کچھ کہنا نہیں چاہتا تھا، ایک عجب سی وحشت (وحشت سے مراد عقیدت ہے) طاری ہوئی اور معتزلہ پر عربی، اردو اور انگریزی میں لکھی گئی، کئی کتابوں، رسائل اور مضامین کا مطالعہ کر ڈالا۔
جیسے جیسے معتزلہ کے متعلق میری معلومات میں اضافہ ہوتا رہا، ویسے ویسے میری ان کے تئیں وحشت میں کمی آتی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں معتزلہ کو انقلابی نہیں بلکہ ری ایکشنری خیال کرتا ہوں کیونکہ ان کی تمام عقل و منطق یونانی فلسفہ سے ماخوذ ہے اور اسی محدودیت میں انہوں نے اسلامی عقائد کی تعبیر کی ہے۔ اور اکثر یونانیت کی شدید مرعوبیت میں کچھ ایسے تصورات و مفروضات تراشے ہیں جن کی نہ تو عقل کو منطق کی روشنی میں اور نہ ہی نقل میں کوئی گنجائش ہے۔
یہاں مزید اور صرف یہ گزارش کرنا چاہوں گا کہ میرا قدریہ وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں اس لیے خواہ مخواہ مجھے عقل دشمنی کے کٹہرے میں مورد الزام نہ ٹھہرایا جائے۔ البتہ، یہ المیہ بھی اپنی جگہ درست ہے کہ معتزلہ کے متعلق معلومات کی تفریط ہے اور ہم جو کچھ بھی معتزلہ کے بارے میں جانتے ہیں وہ ان کے دشمنوں کی کتابوں کی بدولت ہی جانتے ہیں۔ لیکن صرف اس بنیاد پر ہی ان پر تنقید سے دریغ گوئی نہیں کی جا سکتی ہے کیونکہ کسی بھی شخص یا گروہ کو مقدس جاننا خود معتزلی عقائد کے بھی خلاف ہے۔
معتزلہ کا ذکر کرتے وقت کبھی کبھار ہمارے منجھلے فلاسفہ اور دانشور ایسے خیالات کو بھی ان سے منسوب کر دیتے ہیں جو کبھی بھی معتزلی فکر کا حصہ نہیں رہے۔ ایک جانب تو معتزلہ کی طرف آسمان و زمین کی قلابیں ملائی جاتی ہیں تو دوسری جانب انہیں پھر ان کی قبور سے نکال کر جلوانے کے ”قصیدے“ الاپے جاتے ہیں۔ بہر حال، معتزلہ کے اصول خمسہ درج ذیل ہیں۔
پہلا اصول یعنی توحید ہے۔ معتزلہ کا موقف ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی جملی صفات کو لغوی معنی میں ہی صحیح تصور نہیں کیا جا سکتا ہے بلکہ ان کی تاویل ہونی چاہیے۔ یعنی اگر قرآن کریم میں یہ ارشاد ہے کہ اللہ دیکھتا، سنتا اور بولتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اللہ کی آنکھیں، کان یا منہ ہے جس سے وہ دیکھتے، سنتے اور بولتے ہیں۔ کیونکہ پھر یہ صفات انسانوں سے بھی ہم مشابہ ہوجائیں گی اور یوں شرک فی الصفات کا احتمال پیدا ہو گا۔ معتزلہ کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی صفات کی تاویل ناگزیر ہے۔
دوسرا اصول یعنی عدل ہے۔ معتزلہ کا موقف ہے کہ انسان اپنے اعمال و اطوار کا ازخود خالق و عامل ہے اور انسانی عقل شریعت سے ماورا بھی حسن و قبح کا ادراک کر سکتی ہے اور اچھے، برے اعمال سر زد کر سکتی ہے جن کا اللہ تعالیٰ سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ اور یوں وہ اللہ کو شر کا خالق تسلیم نہیں کرتے۔ اس تصور کو علم کلام کی اصطلاح میں تفویض کہا جاتا ہے۔ معتزلہ کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی ذات عدل مجسم ہے اور اللہ کبھی بھی کسی بھی قسم کا ظلم نہیں کر سکتے ہیں۔ انسان اپنے افعال و اعمال کا خود ذمہ دار ہے اسی لیے وہ سزا و جزا کا موجب ہے۔ یہی عدل ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا یعنی اشاعرہ وغیرہ کی طرح انسان مجبور ہوتا تو محشر میں سزا و جزا ظلم عظیم ہوتا۔
تیسرا اصول یعنی وعد و وعید ہے۔ معتزلہ کا موقف ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ وعد (یعنی ثواب کا وعدہ) اور وعید (یعنی عتاب کا وعدہ) پر کاربند ہے۔ عدل کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے وعدوں کی تکمیل کرے اس لیے کوئی بھی مومن جہنم میں اور کوئی بھی گناہ گار جنت میں نہیں جاسکتا ہے کیونکہ عقل و عدل کا تقاضا یہ ہے کہ وعد و وعید کی تکمیل بہر طور ہو۔ جبکہ اشاعرہ وغیرہ کا معاملہ الگ ہے وہ کہتے ہیں خدا جس کو چاہے جنت میں داخل کرے اور جسے چاہے جہنم کا ایندھن بنائے۔ اللہ کسی کا پابند نہیں۔
چوتھا اصول یعنی المنزلتہ بین المنزلتین ہے۔ معتزلہ کا موقف جو سب سے پہلے معتزلہ کے بانی وصل ابن عطا نے پیش کیا تھا اور دراصل معتزلہ کا اصول اول گردانا جاتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب نہ تو مومن ہے اور نہ ہی کافر بلکہ وہ المنزلتہ بین المنزلتین ہے یعنی وہ ایمان و کفر کے درمیان میں کھڑا ہے اور اگر وہ توبہ کیے بغیر مرتا ہے تو وہ جہنم واصل ہو گا اور یہ عذاب دائمی ہو گا۔
پانچواں اصول یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔ معتزلہ کا موقف ہے کہ امر بالمعروف یعنی خیر کی ترویج اور نہی عن المنکر یعنی برائی کا سد باب مذہب اسلامی کا لازمی حصہ ہے۔ معتزلہ کے نزدیک امر بالمعروف اور نہی عن المنکر واجب کفائی ہے۔ اور خاص شرائط کے ساتھ مشروط ہے۔ زمخشری کا الکشاف میں بیان ہے کہ معتزلہ کے مطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا شدید ترین رتبہ قتال ہے جو اسلامی حکومت و ریاست پر فرض بلکہ انتہائی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
بہر کیف، یہ وہ اصول ہیں جن کو ماننے والا معتزلی ہے جبکہ ان میں سے کسی کا بھی انکاری متعزلہ میں شامل نہیں ہو سکتا۔

