سرچ کمیٹی اور سندھ کی تعلیم
سندھ کے صوبائی وزیر سید سردار شاہ نے محکمہ تعلیم میں انتظامی عہدوں کے لیے ایک سرچ کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے، مگر ان سرچ کمیٹی کے چیرمین وزیر تعلیم خود ہوں گے۔ سندھ میں موجود سرچ کمیٹیز کافی بدنام ہو چکی ہے۔ سندھ کی یونیورسٹیوں میں سرچ کمیٹی کی سفارش پر وائس چانسلر لگائے جاتے ہیں۔ ابھی تک ایک بھی وائس چانسلر ایسا نہیں آیا جس نے سندھ کے یونیورسٹیوں میں تدریسی عمل بہتر کیا ہو۔ سرچ کمیٹی کی سفارش پر کچھ ایسے وی سی بھی لگائے گئے ہیں جن کا کردار بہت مشکوک تھا۔ ایک سابق سندھ یونیورسٹی کے وی سی کے آئے دن اسکینڈل آتے تھے۔ شاہ لطیف یونیورسٹی کا وائس چانسلر اب بھی لڑکیوں کے ساتھ اسکینڈل کا سامنا کر رہا ہے۔ حکومت نے اس وی سی کو زبردستی چھٹیوں پر بھیج دیا ہے۔ کرپشن کے کیس بھی سندھ کی یونیورسٹیوں میں وی سی سامنا کر رہے ہیں جن کو سرچ کمیٹی نے ہی رکھا تھا۔
سرچ کمیٹی میں اکثر رٹائرڈ افسران اور کچھ نام نہاد دانشور ہوتے ہیں۔ ان تک لوگوں کی پہنچ آسان ہوتی ہے، اور ان کے اپنے رشتے دار بھی اداری میں ہوتے ہیں۔ اور ان کی کوشش ہوتی ہے وہ اپنے کسی رشتے دار یا دوست یار کی سفارش کرے۔ بالکل ایسے ہی سندھ پبلک کمیشن کے ممبران ہوتے ہیں اور ان کے اپنے دوست اور رشتے دار سب کمیشن میں پاس ہو جاتے ہیں۔ باقی لوگوں کو وہ پیسوں پر پاس کرتے ہیں۔ ان کے ریٹ مقرر ہیں۔ تھیوری پاس کرنے کے وہ 20 لاکھ لیتے ہیں اور انٹرویو پاس کرنے کے وہ 60 سے 80 لاکھ تک لیتے ہیں۔ کوئی دو تین پرسنٹ میرٹ پر بھی نکال دیتے ہیں۔ کمیشن کے ممبر بھی اکثر سیاسی لوگ ہوتے ہیں۔ ان کے پاس کسی سبجیکٹ کی خاص تعلیم نہیں ہوتی۔ تعلیم والی سرچ کمیٹی سندھ پبلک سروس کمیشن کے ممبران سے مختلف نہیں ہوگی۔
سندھ کے تعلیم کے محکمے میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران اور ڈائریکٹرز بھی سیاسی پوسٹیں ہیں۔ میں نے چار سال سندھ ایجوکیشن سیکٹر پلان میں کام کرتے ہوئے، ڈی ای او اور ڈائریکٹرز کے ساتھ کام کیا ہے۔ بہت سے لوگ سفارش پر آتے ہیں، ان کے پاس کوئی کمپیوٹر سکل ہوتا ہے نٰہ کوئی نیومیریکل یا کوئی اینالاٹیکل سکل ہوتا ہے۔ وہ سب کے سب اپنے ایک پرسنل اسسٹنٹ پر یقین کرتے ہیں۔ وہ ہی ان کو چلاتا ہے۔ باقی پیسے کا لین دین یہ لوگ خود کرتے ہیں۔
ایک ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر جو سندھ کے کسی شہر سے کراچی آیا تھا، ان کے پاس تعلیم کا کوئی ڈیٹا نہیں ہوتا تھا جو میں اس سے مانگتا تھا۔ ایک دن میں نے اس سے پوچھا آپ ڈی ای او کیسے بن گئے ہیں۔ اس نے بتایا کہ میں ہمارے علاقے کے وزیر کے پاس گیا اور ان کے پاؤں میں گر گیا اور اس کو بولا کراچٰی میں ایک ڈی ای او کی پوزیشن وکینٹ ہے مجھے وہاں رکھوا دو۔ اس وزیر نے اسی وقت وزیراعلی کو فون کی اور کچھ دنوں میں میرا آرڈر ہو گیا۔
یہ کئی ڈی ای او اور ٹی ای او کی کہانی ہے۔ ایک دفعہ ریفارم آور سائٹ کمیٹٰی کی میٹنگ کسی ضلعے میں تھی۔ جس کو ڈی سی ہیڈ کرتا ہے، مین اس کمیٹی کا ممبر تھا تو میں بھی موجود تھا۔ وہاں سارے لوگ ڈی ای او کی شکایتیں کر رہے تھے کہ یہ پیسے لیتا ہے، میں نے سوچا اب یہ ڈی ای او نہیں رہے گا۔ جب میٹنگ ختم ہوئی اس ڈی ای او نے مجھے وزیر تعلیم کا میسیج دکھایا جس میں اس نے لکھا تھا، کتوں کو بھونکنے دو۔
ویسے تعلیم کے محکمے کے اکثر افسروں کے پاس کوئی نیومیریکل انالیسس نہیں ہوتا، نہ ان کو کچھ پتا ہوتا ہے، یہ لوگ صرف دستخط کرنے کی مشین ہوتے ہیں، کسی کی چھٹی، کسی کا تبادلٰہ، کسی کے پینشن کے کاغذات پر دستخط کرتے ہیں۔ یہ کوئی تعلیم کی پالیسی بھی نہیں بناتے۔ تعلیم کی پالیسی بھی محکمے کے کنسلٹنٹ ہی بناتے ہیں جن کو گراؤنڈ کی حقیقت کا کچھ معلوم نہیں ہوتا۔
اب ایسے لوگوں میں سے سرچ کمیٹی کیسے لوگ لے کر آئے گی۔ یہ سارے لوگ اکثر سنیارٹی پر آتے ہیں۔ بہت کم لوگ ہیں جو کمیشن پر سسٹم میں آ جاتے ہیں۔
ڈی ای اوز، ڈائریکٹرز اور ٹی ای اوز کی بھرتی کرنے کا آسان طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ آپ ان سے ایک امتحان لیں جس میں ان افسران سے ایک پلان بنوایا جائے کہ آپ چھ مہینے میں تعلیم کی بہتری کے لیے کیا کریں گے، آؤٹ آف اسکول بچے کیسے اسکول آئیں گے۔ معیاری تعلیم کو کیسے انشور کریں گے۔ ضلعی کے اسکولوں کا ڈیٹا بیس کیسے بنائے گے۔ جو یٰہ پلان اچھا بنا دیں ان کو آپ ڈی ای اوز، ٹی ای اوز اور ڈائریکٹر لگا دیں۔ ان لوگوں کو چھ مہینے سال کا ٹارگیٹ دیں، اگر پورا کریں تو ٹھیک ہے ورنٰہ کسی اور کو چانس دیں جو امتحان مٰیں دوسرے نمبر پر آیا ہو۔ آپ یہ ایکسر سائز پانچ سال کرین، آپ کے پاس بہت اچھے اور کامپیٹنٹ افسران بھی آ جائے گے اور سندھ میں تعلیم میں بہتری بھی آ جائے گی۔ باقی یہ سرچ کمیٹی محکمے کو اور بدنام کر دے گی۔


