صلیبیں اپنی اپنی (7)
”میں تیرے کام اور تیری مشقّت اور تیرا صبر تو جانتا ہوں اور یہ بھی کہ تُو بدوں کو دیکھ نہیں سکتا اور جو اپنے آپ کو رسول کہتے ہیں اور ہیں نہیں، تُونے اُن کو آزما کر جھوٹا پایا۔ اور تُو صبر کرتا ہے اور میرے نام کی خاطر مصیبت اٹھاتے اٹھاتے تھکا نہیں۔“ مُکاشِفہ 2 : 2۔ 3
پادری پال کے گھر کے دروازے پر کنڈی میں ایک موٹا سا زنگ آلود تالا لٹک رہا تھا۔ انہوں نے جیب سے چابی نکال کر تالا کھولا اور جیسے ہی گھر میں داخل ہوئے، مرغیوں کے کڑکڑانے کی آواز آئی۔ اندر کوئی درجن بھر مرغیاں تھیں جن کی بیٹ پورے صحن میں پھیلی ہوئی تھی۔
”تم وہیں ٹھہرو، میں ذرا یہ ان کی کارستانی صاف کردوں،“ انہوں نے مُڑ کر میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
سامنے صحن میں ایک نل تھا جس کے گرد سیمنٹ کی فصیل بنی ہوئی تھی۔ وہیں پانی سے بھری ہوئی ایک بالٹی رکھی تھی اور اس کے نزدیک دیوار سے ٹکی ہوئی ایک جھاڑو تھی۔ معلوم ہوتا تھا کہ وہ صبح کو یہ انتظامات کر کے جاتے ہیں۔ انہوں نے بالٹی میں مگ ڈبو ڈبو کر فرش پر پانی ڈالا اور جھاڑو سے صاف کرنے لگے۔ مرغیاں ادھر ادھر کڑکڑاتی پھر رہی تھیں۔
”پادری پال، آپ ان مرغیوں کو ڈربے میں بند کیوں نہیں کر جاتے تاکہ یہ صفائیاں نہ کرنی پڑیں،“ میں نے پوچھا۔
”میاں، دراصل بات یہ ہے کہ خدا نے ان کو جو آزادی دی ہے، اسے سلب کرتے ہوئے میرا ضمیر ملامت کرتا ہے۔“ انہوں نے جواب دیا۔
” مگر آپ اتنی ساری مرغیوں کا کیا کرتے ہیں، آپ کے لیے تو ایک دو ہی کافی ہیں۔“
”دراصل ان سے مجھے روزانہ آٹھ دس انڈے مل جاتے ہیں اور میں وہ اڑوس پڑوس میں بیچ دیتا ہوں۔ اب تو پڑوس کے بچے بھی مجھے انڈے والے دادا کہتے ہیں۔“
پادری پال آنگن دھونے میں لگے رہے اور میں ان کے مکان کا جائزہ لینے لگا۔ یہ ایک کمرے کا مکان تھا جس کے صحن میں ایک جانب چھوٹی سی جگہ پر چھت ڈال کر باورچی خانہ بنا دیا گیا تھا۔ اسی طرح دروازے کے قریب چھوٹا سا بیت الخلا تھا۔ میں نے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا تو کمرے میں دو بستر بچھے ہوئے تھے اور سامنے کی دیوار پر پادری پال اور ان کی بیوی کی فریم کی ہوئی بلیک اینڈ وہائٹ تصویر تھی۔ وہ بڑی دبلی پتلی اور طویل القامت تھیں۔ آنکھوں پر تار کا گول چشمہ پہنا ہوا تھا۔ پہلی نظر میں مجھے خیال آیا کہ اگر گاندھی جی پر قائد اعظم کا چہرہ فٹ کر دیا جائے تو وہ پادری پال کی بیوی بن جائیں گے۔
انہوں نے پورا آنگن دھو کر کمرے کے سامنے دو کرسیاں بچھا دیں اور مجھے بیٹھنے کا اشارہ کر کے خود دوبارہ فرش کی دھلائی میں لگ گئے۔
”پادری پال، آپ کے کتنے بچے ہیں؟“ میں نے پوچھا۔
”نہیں، ہمارے بچے نہیں ہوئے،“ پادری پال نے کہا۔ مجھے افسوس کے ساتھ شرمندگی بھی ہوئی۔ میں نے سوچا کہ مجھے اتنا ذاتی سوال نہیں پوچھنا چاہیے تھا۔
”اگر آپ برا نہ مانیں تو ایک بات پوچھوں؟“ میں نے کچھ توقف کے بعد پوچھا۔
”پوچھو۔“
”کیا چرچ سے ملنے والی تنخواہ میں آپ کا گزارہ نہیں ہوتا؟“
” چرچ سے ملنے والی تنخواہ؟“ انہوں نے میری طرف دیکھا۔ ان کے ایک ہاتھ میں جھاڑو تھی اور دوسرے میں پانی کا مگ تھا، ”بھئی میں چرچ سے کوئی تنخواہ نہیں لیتا بلکہ ان مرغیوں کے انڈے بیچ بیچ کر چرچ چلا رہا ہوں۔“
”تو پھر آپ کا گزارہ کیسے ہوتا ہے؟“
”میری بیوی نرس ہے۔ وہ سول اسپتال میں کام کرتی ہے اور اسی کی تنخواہ سے یہ گھر چلتاہے۔“
”آنٹی کام پر گئی ہوئی ہیں؟“ میں نے پوچھا۔
”جی، آج وہ ڈبل ڈیوٹی کر رہی ہے،“ انہوں نے جواب دیا۔ ”بے چاری بہت کام کرتی ہے۔“
”اب تک وہ ریٹائر نہیں ہوئیں؟“
”ہو گئی تھی۔ پھر اسپتال والوں نے کنٹریکٹ پر بلا لیا۔ بس اسے کام کرنے کا خبط ہے۔“
”اچھی بات ہے۔ گھر بیٹھنے سے تو بہتر ہے کہ کچھ کرتے رہیں۔“
”وہ میرا بڑا خیال رکھتی ہے۔ ہماری شادی کو پچاس برس سے زیادہ ہو گئے مگر کبھی اس نے مجھے گھر کے کام کاج میں ہاتھ نہیں بٹانے دیا۔“
”ظاہر ہے کہ آپ بھی آنٹی کا خیال رکھتے ہوں گے۔“
”میں نے آج تک ایک پائی نہیں کمائی۔ زندگی بھر چرچ میں ہی لگا رہا۔ گھر کا خرچ بھی وہی چلاتی ہے بلکہ مجھے جیب خرچ بھی دیتی ہے۔“
”ویسے یہ زیادتی ہے کہ چرچ کی طرف سے آپ کو کوئی تنخواہ نہیں ملتی۔ کمیونٹی والوں کو کم ازکم چرچ کے اخراجات تو اٹھانے چاہئیں۔“
”میاں، دراصل ہماری کمیونٹی غریب ہے مگر میں ہمیشہ ان سے تاکید کرتا ہوں کہ وہ دہ یکی دیا کریں اور اپنی آمدنی کا دس فی صد خداوند کے لیے مخصوص کر دیا کریں۔“
”مگر اتنی محدود آمدنی میں سے دس فی صد نکالنا بہت مشکل ہے۔“
”کوئی مشکل نہیں، یہ صرف سوچنے کا انداز ہے۔ میری بیوی کی تنخواہ دو سو روپے مہینہ ہے اور وہ بیس روپے مہینہ چرچ کو دیتی ہے۔“
”میں مانتا ہوں۔ لوگ اگر دس فی صد نہیں تو کچھ تو دیا کریں۔“
”نہیں، میں لوگوں کو تنبیہ کرتا ہوں کہ دس فی صد ہی دیا کریں۔ پرانے عہد نامے میں جگہ جگہ تنبیہ کی گئی ہے کہ دہ یکی شریعت کا حصہ ہے۔ تم احبار میں پڑھ لو، گنتی میں پڑھ لو، تواریخ میں پڑھ لو۔ ہر جگہ تمہیں مل جائے گا کہ بنی اسرائیل اپنی فصل اور اپنے پالتو جانوروں کا دسواں حصہ دہ یکی کے طور پر خداوند کو دیتے تھے۔“
”مگر نئے عہد نامے میں تو دس فی صد کی کوئی قید نہیں ہے۔ دوسری کرینتھیوں میں لکھا ہے کہ جو کلیسیا کو جتنا دے سکے دے کیوں کہ خدا خوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے۔“
پادری پال نے جھاڑو ایک طرف رکھی اور مجھے گھورتے ہوئے بولے، ”اکثر و بیشتر میں انگشت بدنداں رہ جاتا ہوں۔ تم نے بائبل کا اتنا عمیق مطالعہ کیا ہے مگر پھر بھی اب تک تم نے مسیحیت کو نہیں اپنایا۔“
”دراصل مسیحیت میں میری دل چسپی قطعاً علمی ہے۔ میرے کافی دوست مسیحی ہیں اور میں ان کے مذہب کے متعلق جاننا چاہتا ہوں۔ ان میں سے اکثر دوست اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں۔“
”آج کل کی نسل میری سمجھ سے بالا تر ہے۔ خدا بھی ان کے لیے صرف علمیت کا حصہ رہ گیا ہے۔“
”ایسی کوئی بات نہیں۔ آج کل کی نسل بھی روحانیت میں دل چسپی لیتی ہے۔ دراصل ہم لوگ تبلیغ نہیں کرتے۔ ہم لکم دینکم ولی دین پر عمل کرتے ہیں۔“
”بہرحال میں تمہارے انتظار میں چشم براہ رہوں گا۔“
”کیوں نہیں، آپ کا نام ہی منتظر ہے،“ میں نے ہنس کر کہا۔
”دراصل میں مسیح کی آمد ثانی کا منتظر ہوں،“ انہوں نے اوپر انگلی اٹھاتے ہوئے جواب دیا۔
”اچھا پادری پال، مجھے اجازت دیں کیوں کہ میں ایک کام سے نکلا تھا،“ میں نے گھڑی دیکھ کر کہا۔
”ہاں بھئی، میں نے تمہارے لیے ایک کتاب رکھی تھی، وہ لیتے جاؤ،“ وہ اٹھے اور کمرے سے ایک کتاب لاکر میرے ہاتھ میں دے دی۔ اس کی جلد سیاہ رنگ کی تھی اور سنہری حروف میں ٹائیٹل تھا ”مقدس تُوما رسولِ ہند“ ۔ میں نے سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھا۔
”تُوما یسوع مسیح کے بارہ رسولوں میں سے ایک ہے۔“
”دل چسپ کتاب معلوم ہوتی ہے۔ یہ رسولِ ہند کا خطاب سمجھ میں نہیں آیا،“ میں نے پوچھا۔
”اسے ہندوستان جاکر تبلیغ کرنے کے لیے کہا گیا۔ پہلے تو اس نے انکار کیا مگر جب خداوند اس سے ملا تو اس نے عہد کیا کہ وہ خداوند کے لیے جان تک دے دے گا اور ہندوستان آ گیا۔“
”تعجب ہے کہ لوگ اس زمانے میں بھی ہندوستان سے واقف تھے۔“
”بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ تُوما پاکستان آ گیا کیوں کہ اس نے ٹیکسلا میں آ کر تبلیغ کی اور ٹیکسلا کے راجہ گندا فورس کے لیے بڑے بڑے کام کیے۔ “
تُوما حضرت عیسیٰ کے بارہ رسولوں میں سے ایک تھا۔ انجیل میں رسول کا لفظ سفیر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ جس طرح نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کرام تھے جن کا کام اسلام کا پیغام دور دور تک پھیلانا تھا اسی طرح حضرت عیسیٰ کے بارہ شاگردوں کا کام اُن کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانا تھا چناں چہ انہیں رسول کہا جاتا تھا۔ تُوما کو شکّی مزاج رسول بھی کہتے ہیں کیوں کہ وہ ہر بات میں شک کرتا تھا۔ واقعہ صلیب کے بعد جب شاگردوں نے اسے بتایا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ کو زندہ دیکھا ہے تو اس نے ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ جب تک وہ اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لے تب تک اسے یقین نہیں آئے گا۔ آخر جب اس نے حضرت عیسیٰ کو خواب میں دیکھا کہ وہ اسے ہندوستان جانے کی تلقین کر رہے تھے تو اسے یقین ہو گیا۔
ایک روایت کے مطابق راجہ گندا فورس نے توما کو ایک عالی شان محل تعمیر کرنے کے لیے رقم دی جو اس نے غربا میں تقسیم کر دی۔ راجہ نے ناراض ہو کر اسے قید کر دیا۔ اسی رات راجہ کا بھائی فوت ہو گیا اور مرنے کے بعد اس نے ایک عالی شان محل دیکھا جو توما نے راجہ کے لیے تعمیر کیا تھا۔ اس میت نے دوبارہ زندہ ہو کر راجہ کو تمام قصہ سنایا تو راجہ اور اس کی تمام رعایا نے عیسائیت قبول کر لی۔ بعد میں کسی نے مدراس کے ایک مقام پر توما کو نیزہ مارکر شہید کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ دوسری یا تیسری صدی کے آغاز میں اس مقام پر توما کی خانقاہ بنا دی گئی۔


