شیث خان اور نیلم محل

ایک زمانے میں دلارے میاں بارہ گاؤں کے مالک تھے۔ دولت کی ریل پیل تھی، کوٹھی پر ملازمین کی فوج تعینات تھی اور دوستوں پر پیسہ پانی کی طرح بہاتے تھے۔ خدا غریق رحمت کرے، تھے بڑے ٹھسّے کے بزرگ۔ بقول شخصے ناک پہ مکھی نہیں بیٹھنے دیتے تھے۔ سج دھج اور وضع قطع کے لحاظ سے ان کے احباب میں کوئی ان کا ثانی نہیں تھا۔ سفید بَگ بَگا، کلف دار کرتہ پائجامہ، اس پر ٹسر کی بادامی اچکن، سر پر چنا ہوا پلّر، پاؤں میں باٹا کے پمپ، جن میں دیکھنے والا اپنا منہ دیکھ لے۔

Read more

سنہ 50 کی دہائی میں بچوں کا ادب

جب میری فیس بُک پر جناب اعظم طارق کوہستانی کی جانب سے دوستی کی درخواست موصول ہوئی تو میں نے اُن کے صفحے پر جاکر دیکھا تاکہ ان کے متعلق مزید معلومات حاصل کروں۔ میں صرف ان لوگوں سے دوستی کی درخواست کرتا ہوں جن کے مشاغل اور مصروفیات میں میرے یا ان کے لئے کوئی دلچسپی ہو۔ اسی طرح جب مجھ سے کوئی دوستی کی درخواست کرے تو میں بھی جاننا چاہتا ہوں کہ اس سے دوستی میں کوئی باہمی لچسپی ہوسکتی ہے یا نہیں۔ اگر اس کے صفحے پر صرف اس کی تصاویر ہوں یا ادھر اُدھر کے ویڈیو شیئر کیے ہوں تو مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہوسکتی۔

Read more

سرحد کھل گئی ہے

زمانہ بیت گیا، بال سفید ہو چکے اورچہرے پر بڑھاپے کی جھریاں ابھر آئیں، مگر وہ کچَی سڑک آج بھی آسیب کی طرح ذہن سے چپکی ہوئی ہے جس پرامی جان دیوانہ وار دوڑ رہی تھیں۔ ان کی پوری زندگی کی متاع وہ ٹاٹ کی بوری تھی جو انہوں نے سر پر اٹھا رکھی تھی۔ چلتے وقت جو کچھ ان کے ہاتھ پڑا، وہ انہوں نے بوری میں بھر لیا تھا۔ ایک چمٹا، ایک پھونکنی، ایلومینم کی کچھ دیگچیاں جو سال ہا سال کے استعمال سے سیاہ ہو چکی تھیں اور بس۔

وہ بار بار رک کر پلٹتیں اور مجھے آواز دیتیں۔ ”بیٹے! آپ ذرا تیز چلیں“۔ امی جان مجھے ہمیشہ ”آپ“ کہہ کرمخاطب کیا کرتی تھیں۔ اب مزید دوڑنے کی طاقت مجھ میں نہیں تھی۔ میری عمر ہی کیا تھی، یہی کوئی چار پانچ سال۔ ”امی جان! آپ زرا آہستہ چلیں“۔ مگر وہ پھر دوڑنا شروع کر دیتیں۔

Read more

شرافت یا جنسی بزدلی

ڈاکٹر خالد سہیل نے میرے ناول اے تحیر عشق کے کرداروں کاجنسیاتی تجزیہ کیا ہے۔ خالد سہیل اور میری دوستی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ہمارے نظریات میں 180 درجے کا تضاد ہونے کے باوجود نہ کبھی لڑائی ہوتی ہے اور نہ کبھی ایک دوسرے کو تبلیغ کرتے ہیں کیونکہ ہم دونوں لکم…

Read more

ٹیوشن فیس کے نادہندہ وکیل صاحب

گھر پہنچتے پہنچتے آج مجھے کچھ زیادہ ہی دیر ہوگئی تھی۔ عموماً مغرب تک پہنچ جاتا تھا۔ کالج تو چار بجے ختم ہو جاتا تھا مگر اُس کے بعد ٹیوشنیں پڑھانے کے لئے سیدھا وہیں سے چلا جاتا تھا۔ ایک ٹیوشن تو ہیرآباد میں کالج کے نزدیک ہی تھی جہاں میں تین لڑکوں کے ایک گروپ کو کیلکیولس پڑھاتا تھا۔ دوسری ٹیوشن کے لئے مجھے میمن محلّے میں جانا پڑتا تھا جو شہر کے دوسرے کنارے پر تھا۔ اُس گروپ میں چار لڑکے تھے جنہیں کیمسٹری پڑھاتا تھا۔

دونوں ٹیوشنوں سے مل ملا کر سو سوا سو روپیے مہینہ بن جاتے تھے جن میں سے اسّی روپیے اپنی والدہ کو دے دیتا اور باقی اپنے جیب خرچ کے لئے رکھ لیتا تھا۔ سب سے پہلی ٹیوشن مجھے اُس وقت ملی تھی جب میں آٹھویں کلاس میں پڑھتا تھا۔ ایک بچے کو الف بے پے سے شروع کیا تھا اور روزانہ گھنٹہ بھر پڑھاتا جس کے مجھے پانچ روپیے مہینہ ملتے تھے۔ اُس کے بعد سے اب تک بے شمار بچوں کو پڑھا چکا تھا، مگر ایک وکیل صاحب کے بچّے کی ٹیوشن ہمیشہ یاد رہتی ہے۔

Read more

جبّار دادا

مشکل یہ تھی کہ شاہی بازار میں داخل ہونے کے لئے گھنٹہ گھر سے گزرنا ضروری تھا کیونکہ شاہی بازار شروع ہی وہاں سے ہوتا ہے جبکہ تقریباً دو کلو میٹر لمبے اِس بازار کا دوسرا سرا پکّے قلعے کے سامنے ہے۔ وہاں سے گزرتے ہوئے میں جھجھکتا اِس لئے تھا کہ گھنٹہ گھر کے نیچے جبار دادا پلاؤ کی دیگ لگایا کرتے تھے۔ میں جب بھی وہاں سے گزرتا تو انہیں سلام ضرور کرتا، ”سلامالیکم جبار دادا! “ وہ ہاتھ ہلا کر مجھے بلا لیتے، ”آجا بیٹا، پلاؤ کھالے، “ اور میرے ہاتھ میں پلاؤ کی پلیٹ تھما دیتے۔

Read more