گھر پہنچتے پہنچتے آج مجھے کچھ زیادہ ہی دیر ہوگئی تھی۔ عموماً مغرب تک پہنچ جاتا تھا۔ کالج تو چار بجے ختم ہو جاتا تھا مگر اُس کے بعد ٹیوشنیں پڑھانے کے لئے سیدھا وہیں سے چلا جاتا تھا۔ ایک ٹیوشن تو ہیرآباد میں کالج کے نزدیک ہی تھی جہاں میں تین لڑکوں کے ایک گروپ کو کیلکیولس پڑھاتا تھا۔ دوسری ٹیوشن کے لئے مجھے میمن محلّے میں جانا پڑتا تھا جو شہر کے دوسرے کنارے پر تھا۔ اُس گروپ میں چار لڑکے تھے جنہیں کیمسٹری پڑھاتا تھا۔
دونوں ٹیوشنوں سے مل ملا کر سو سوا سو روپیے مہینہ بن جاتے تھے جن میں سے اسّی روپیے اپنی والدہ کو دے دیتا اور باقی اپنے جیب خرچ کے لئے رکھ لیتا تھا۔ سب سے پہلی ٹیوشن مجھے اُس وقت ملی تھی جب میں آٹھویں کلاس میں پڑھتا تھا۔ ایک بچے کو الف بے پے سے شروع کیا تھا اور روزانہ گھنٹہ بھر پڑھاتا جس کے مجھے پانچ روپیے مہینہ ملتے تھے۔ اُس کے بعد سے اب تک بے شمار بچوں کو پڑھا چکا تھا، مگر ایک وکیل صاحب کے بچّے کی ٹیوشن ہمیشہ یاد رہتی ہے۔
Read more