صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 47 : نئی شناسائیاں

” میرا یہ حکم ہے کہ جس طرح میں نے تم سے محبت رکھی تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو۔ اس سے بڑی محبت کوئی نہیں کہ کوئی اپنی جان اپنے دوستوں کے لیے دے۔“ یوحنا 15 : 12۔ 13 پارٹی کو عادل کی کوٹھی پر ہی رکھا گیا تھا اور اُس کا مقصد عارف کے دوستوں سے مریم کا تعارف کرانا تھا۔ عارف نے مشورہ دیا کہ کھانا شنگری لا چائینیز ریسٹورنٹ سے لیا جائے مگر کریم چاچا

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 46 : شکستہ خواب

”کس کا آہ و نالہ ہے؟ کس کا افسوس؟ کس کے جھگڑے ہیں؟ کس کی شکایتیں ہیں؟ کس کے فضول زخم ہیں؟ کس کی دھندلی آنکھیں ہیں؟ ان کے جو دیر تک شراب میں بیٹھے رہتے ہیں، جو ملے جلے مشروب کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔ جب شراب سُرخ ہو، جب پیالے میں چمکے اور آسانی سے اُترے، تو اُسے نہ دیکھ۔ آخر میں وہ سانپ کی طرح کاٹتی ہے اور اَفعی کی طرح ڈنک مارتی ہے۔ تیری آنکھیں عجیب

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 45 : نئی زمیں، نیا آسماں

” شوہر بیوی کے ساتھ اپنی فرض شناسی پوری کرے اور بیوی بھی شوہر کے ساتھ ویسا ہی کرے۔ بیوی اپنے بدن کی مالک نہیں بلکہ شوہر ہے، اور اسی طرح شوہر بھی اپنے بدن کا مالک نہیں بلکہ بیوی ہے۔ “ 1۔ کرنتھیوں 7 : 3۔ 4 چٹاگانگ کے لیے پی آئی اے کی پرواز آدھے راستے سے زیادہ طے کرچکی تھی۔ عارف نے اپنے اور مریم کے لیے سب سے پچھلی قطار میں سیٹیں لی تھیں تاکہ پرائیویسی

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 44 : عہد و پیماں

” جو شخص اچھی بیوی پاتا ہے تو سمجھو اس کو اچھی چیز ملی۔ یہ خداوند کی طرف سے تحفہ ہے۔ “ امثال 18 : 22 پادری پال نے کئی ہفتے پہلے سے مریم کی شادی کے سلسلے میں انتظامات کرنے شروع کر دیے تھے۔ انکل شاہد اور آنٹی چاہتی تھیں کہ شادی کی رسومات سینٹ فلپس چرچ میں ہوں جو اُن کا فیملی چرچ تھا، مگر انہوں نے مریم کی خواہش کا احترام کیا، جسے پادری پال سے خصوصی

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 43 : لرزاں قدم

”خدا کا وعدہ ہے : میں تجھے ہرگز نہ چھوڑوں گا اور نہ کبھی ترک کروں گا۔ چنانچہ ہم دلیری سے کہہ سکتے ہیں : خداوند میرا مددگار ہے، میں نہیں ڈروں گا۔ انسان میرا کیا کر سکتا ہے؟“ عبرانیوں 13 : 5۔ 6 ڈئیر عادل، سلام اور خداوند یسوع مسیح میں محبت کے ساتھ، تمھارا خط دوستی کی اُس راہ سے آیا ہے جس پر برسوں کی رفاقت کے نشان ثبت ہیں۔ بچپن سے لے کر آج تک، ہم

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 42 : تسکینِ تلاطم

”بہتیرے کہتے ہیں کہ کون ہم کو کچھ بھلا دکھائے گا؟ اَے خداوند! تُو اپنی رُوشنی ہمارے اُوپر ظاہر کر۔ تُو نے میرے دل میں وہ خوشی بخشی ہے جو اُن کو اُن کے اناج اور مَے کی فراوانی کے وقت حاصل ہوتی ہے۔ میں امن سے لیٹوں گا اور سو جاؤں گا، کیوں کہ، اَے خداوند، تُو ہی مجھے اکیلا، سلامتی سے بسنے دیتا ہے۔“ زبور 4 : 6۔ 8 ڈئیر شاہد، بھئی سب سے پہلے تو میں تمہارا

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 41 : تذبذب

” تو مت ڈر کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں۔ ہراساں نہ ہو کیونکہ میں تیرا خدا ہوں، میں تجھ کو زور بخشوں گا۔ میں یقیناً تیری مدد کروں گا اور میں اپنی صداقت کے داہنے ہاتھ سے تجھ کو سنبھالوں گا۔“ یسعیاہ 10 : 41 مریم نے اپنے بستر کے برابر میز پر رکھی ٹائم پیس کے اندھیرے میں چمکتے ہوئے ڈائل پر نظر ڈالی تو ساڑھے تین بج رہے تھے۔ ایک رات چٹاگانگ سے واپسی کی نذر ہو گئی

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 40 : خدشات

” کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ ہر ایک بات میں تمہاری درخواستیں دعا اور منت کے وسیلہ سے شکرگزاری کے ساتھ خدا کے سامنے پیش کی جائیں۔ تو خدا کا وہ اطمینان جو سمجھ سے بالاتر ہے، تمہارے دلوں اور خیالوں کو مسیح یسوع میں محفوظ رکھے گا۔“ فلپیوں 4 : 6۔ 7 اگلے دن یومِ آزادی کی چھٹی تھی۔ پچھلی رات کو پوری فیملی تھکن سے چور تھی۔ عارف بھی اپنے والدین کے گھر رک گیا تھا

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 39 : رونمائی

” جب وہ اُسے پا لیتا ہے تو خوش ہو کر اُسے اپنے کندھوں پر اُٹھا لیتا ہے، اور گھر پہنچ کر دوستوں اور پڑوسیوں کو بُلا کر کہتا ہے، میرے ساتھ خوشی مناؤ کیونکہ میری کھوئی ہوئی بھیڑ مل گئی ہے! “ لوقا 15 : 6 مریم کو آئے ہوئے چوتھا دن ہوا تھا اور اگلے روز شام کو اس کی واپسی تھی۔ عارف سے اس کی ملاقات صرف رات کے کھانے کے وقت ہوتی تھی۔ دونوں باپ بیٹے

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 38 : محو حیرت

” مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ زندہ رہنے کے دوران خوش رہنا اور نیکی کرنا ہی بہترین ہے، اور ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ کھائے، پیے اور اپنی محنت کا لطف اٹھائے، کیوں کہ یہ سب خدا کی رضا میں شامل ہے۔ “ واعظ 3 : 12۔ 13 عادل کی کوٹھی کے آہنی گیٹ کی دونوں جانب سفید ستونوں پر پتھر سے تراشے ہوئے فطری جسامت کے دو شیر بیٹھے تھے جنہیں دیکھنے والے مجسمہ ساز کی صنّاعی

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 37 : بردکھاوا

” جو شخص خداوند کی طرف سے دولت، جائیداد اور اختیار کا تحفہ حاصل کرتا ہے اور اپنی محنت میں خوشی مناتا ہے، وہ واقعی خدا کا عطیہ ہے۔“ واعظ 5 : 19 عادل پیٹر کا شمار چٹاگانگ کے سربرآوردہ لوگوں میں ہوتا تھا۔ سرکاری اور تجارتی حلقوں میں شاید ہی کوئی اہم شخص ہو جو انہیں نہ جانتا ہو۔ وہ چٹاگانگ کے چیمبر آف کامرس کے صدر تھے اور لائنز کلب کے فعال ترین ممبر تھے۔ فلاحی کاموں میں

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 36 : بوئنگ707

” لیکن جو خداوند پر امید رکھتے ہیں وہ نئی طاقت پائیں گے ؛ وہ عقاب کی مانند پرواز کریں گے ؛ وہ دوڑیں گے اور تھکیں گے نہیں۔ “ یسعیاہ 40 : 31 اُس زمانے میں کراچی ائرپورٹ کے ڈیپارچر ہال کی چاروں دیواروں کے ساتھ دنیا بھر کی ائر لائنز کے چیک اِن کاؤنٹرز تھے۔ کے ایل ایم، لُفتھانزا، ائر فرانس، بی او اے سی، پین ایم، ایلیٹالیا، کوانٹس، ایم ای اے، غرض دنیا کی کوئی ایسی بڑی

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 35 : فرار

  ” وہ شخص مبارکباد کے قابل ہے جو آزمائش میں ثابت قدم رہتا ہے کیوں کہ جب مقبول ٹھہرا تو زندگی کا وہ تاج حاصل کرے گا جس کا خدا نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو اس سے محبت کرتے ہیں۔ “ یعقوب 1 : 12 میں نے کیفے جارج میں داخل ہوتے ہوئے گھڑی پر نظر ڈالی تو دس بج کر پانچ منٹ ہوچکے تھے۔ دائیں جانب سامنے ہی ہماری مخصوص میز پر دانی ایل بیٹھا

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 34 : احساسِ محرومی

” کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ ہر بات میں دعا اور منت کے ساتھ شکرگزاری کے ساتھ اپنی درخواستیں خدا کے سامنے پیش کرو، اور خدا کی سلامتی جو سمجھ سے باہر ہے، وہ تمہارے دلوں اور خیالات کی مسیح یسوع میں حفاظت کرے گی۔“ فلپیوں 4 : 6۔ 7 اگلے اتوار کو حسب معمول انکل شاہد، آنٹی اور بچوں کے ساتھ سینٹ فلپس چرچ روانہ ہو گئے۔ ان کے گھر سے چرچ کا آدھا گھنٹہ پیدل کا

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 33 : اعتراف

” سو جان لے کہ خداوند تیرا خدا ہی خدا ہے، وہ وفادار خدا ہے جو اپنے محبت کرنے والوں اور اپنے احکام ماننے والوں کے ساتھ ہزار پشت تک اپنا عہد قائم رکھتا اور ان پر رحم کرتا ہے۔“ استثنا 7 : 9 جب مریم نے سر اٹھایا تو اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں، چہرے پر شدید کرب کے آثار تھے۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ اس نے

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 32 : پچھتاوا

” خدا جو امید کا سرچشمہ ہے، تمہیں ہر طرح کی خوشی اور سکون سے بھر دے، تاکہ روح القدس کی قدرت کے وسیلے سے تمہاری امید زیادہ ہو جائے۔“ رومی 15 : 13 میں چھوٹکی گِٹّی کی طرف سے شاہی بازار میں داخل ہوا تو سامنے ہی مٹھائی کی دکان کے برابر دین دنیا بک ڈپو سے انکل شاہد نکل رہے تھے۔ اس سے پہلے کہ میں آگے بڑھوں، مٹھائی والے کی ایک بات بتاتا چلوں۔ حیدرآباد سندھ میں

Read more

صلیبیں اپنی اپنی (31)

” اپنے دل پر اور اپنے بازو پر مجھے نشان کی طرح رکھ، کیونکہ محبت موت سے بھی زیادہ پائے دار ہے۔ اس کی آگ ایسی شدید ہے کہ قبر بھی اسے نہیں روک سکتی۔ پانی کی بے شمار ندیوں سے بھی محبت بجھ نہیں سکتی، اور نہ ہی دریاؤں کا بہاؤ اسے ڈوبو سکے۔ اگر کوئی آدمی اپنی ساری دولت محبت کے بدلے دے دے تو یہ بے قدری سمجھی جائے گی۔“ سلیمان کا گیت 8 : 6۔ 7

Read more

صلیبیں اپنی اپنی (30)

”میں نے اس شخص کی طرف مُڑ کر دیکھا جس نے میرے ساتھ بات کی تھی۔ میں نے سات سونے کے چراغ دان دیکھے اور ان چراغ دانوں کے درمیان ایک شخص دیکھا جو ایک انسان کی طرح تھا۔ اس نے پاؤں تک کا ایک لمبا چوغہ پہن رکھا تھا اور اس کے سینے پر سونے کی پٹی بندھی ہوئی تھی۔ اس کا سر اور بال اون کی مانند سفید تھے جیسے برف۔ اس کی آنکھیں آگ کے شعلوں کی

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 29 : بازگشت

” خوشبو اور بخور دل کو خوش کرتے ہیں، اور دل سے دی گئی نصیحت دوست کی خوشی ہوتی ہے۔ “ امثال 27 : 9 1947 میں پاکستان بننے کے بعد کراچی میں سندھ یونیورسٹی قائم کی گئی، مگر چوں کہ کراچی وفاقی دارالحکومت تھا اور سندھ کا دارالحکومت حیدرآباد مقرر کیا گیا تھا، لہٰذا سندھ یونیورسٹی بھی حیدرآباد آ گئی۔ ٹھنڈی سڑک پر جس عالی شان عمارت میں یونیورسٹی کو منتقل کیا گیا اس میں پاکستان بننے سے پہلے

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 28 : خاموش سفر

” قیامت اور زندگی تو میں ہوں۔ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے گو وہ مر جائے تو بھی زندہ رہے گا۔ اور جو کوئی زندہ ہے اور مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ ابد تک کبھی نہ مرے گا۔“ یوحنا 11 : 25۔ 26 جب نیلوفر آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی تو اسے محسوس ہوتا جیسے کسی نے اسے تھپڑ مار دیا ہو۔ اس کی نظر سب سے پہلے اپنے جسم کے اس حصے پر پڑتی جو اس کی

Read more

صلیبیں اپنی اپنی (27)

”لیکن جو خداوند کا انتظار کرتے ہیں وہ نئی قوت پائیں گے ؛ وہ عقابوں کی مانند پرواز کریں گے، وہ دوڑیں گے اور تھکیں گے نہیں، وہ چلیں گے اور کمزور نہیں ہوں گے۔ “ یسعیاہ 40 : 31 سرجری سے ایک ہفتہ پہلے ڈاکٹر نور محمد نے نیلوفر اور کیتھرین سے ملاقات کی تاکہ اگر دونوں کے کچھ سوالات ہوں تو جواب دے سکیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ ممکن ہے کہ کینسر زدہ حصے کو

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 26 : شکستِ آرزو

” ڈرو مت، کیونکہ میں تمہارے ساتھ ہوں ؛ پریشان نہ ہو، کیونکہ میں تمہارا خدا ہوں۔ میں تمہیں تقویت دوں گا، میں تمہاری مدد کروں گا، اور میں اپنے راست باز دائیں ہاتھ سے تمہیں سنبھالوں گا۔“ اشعیا 41 : 10 نیلوفر لاہور میں مزنگ کے محلّے میں رہتی تھی جو اس زمانے میں ثقافتی لحاظ سے اہم محلہ تھا۔ وہاں کی تنگ گلیاں زندگی سے بھرپور تھیں، اور محلے کے چائے خانے دن رات آباد رہتے تھے۔ جِم

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 25 : آرزو

” کیوں کہ گزرے ہوئے وقت میں تم نے قوموں کی مرضی پوری کرنے میں بہت وقت گزارا ہے، جب کہ تم عیش پرستی، شہوت پرستی، شراب نوشی، نشے، عیاشی اور بت پرستی کے کاموں میں شامل رہے۔ “ 1 پطرس 3 : 4 مریم کا رُواں رُواں زندگی سے لبریز تھا۔ وہ زندگی کو چُسکیاں لے کر جُرعہ جُرعہ پیتی تھی اور اکثر کسی دانا کا قول دہراتی تھی کہ ”زندگی ایک پیاز کی طرح ہے۔ بس چھیلتے جاؤ

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 24 : اعتماد

”وہ اپنی بہتیری لچک دار باتوں سے اُسے بہکا لیتی ہے، اپنے لبوں کی چاپلوسی سے اُسے گمراہ کر دیتی ہے۔ وہ فوراً اُس کے پیچھے ہو لیتا ہے، جیسے کوئی بَیل ذبح ہونے جاتا ہے، اور جیسے کوئی ہرن جال میں پھنسنے کے لئے قدم بڑھاتا ہے۔“ امثال 7 : 21۔ 22 میں مریم کو خدا حافظ کہہ کر باہر نکلا تو انکل شاہد چائے پر میرا انتظار کر رہے تھے۔ آنٹی حسب معمول کوئی سوئٹر بُن رہی تھیں۔

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 23 : خوف

” محبت میں خوف نہیں ہوتا بلکہ کامل محبت خوف کو دور کر دیتی ہے، کیونکہ خوف میں سزا ہے اور جو شخص خوف کرتا ہے اس میں محبت کامل نہیں ہوئی۔“ یوحنا 4 : 18 سینٹ میریز کونوینٹ کی چہار دیواری کی ایک دیوار، گلی میں تھی جس کے نکّڑ پر کوڑے کا ڈھیر تھا، جسے محلے کے آوارہ کُتّے کریدتے رہتے تھے۔ کبھی کبھار دو ایک گدھ بھی وہاں خوراک کی تلاش میں آ جاتے اور جوں ہی

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 22 : فیصلہ

”لیکن روح کا پھل محبت، خوشی، اطمینان، تحمل، مہربانی، نیکی، وفاداری، حلم، اور پرہیزگاری ہے۔ ان باتوں کے خلاف کوئی قانون نہیں۔“ گلتیوں 5 : 22۔ 23 اُس زمانے میں متوسط طبقے کے لوگوں کے بیشتر گھروں میں ڈرائنگ روم نام کا کوئی کمرہ نہیں ہوتا تھا جہاں مہمانوں کی خاطر و مدارت کی جا سکے۔ بزرگوں کے مہمانوں کے لیے گھر کے دروازے کے باہر ہی کرسیاں بچھا دی جاتیں اور وہیں چائے بسکٹ پہنچا دیے جاتے۔ اسکول جانے

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 21 : انجم بھائی

”مجھے اپنے دل پر مہر کی طرح باندھ لے، اپنے بازو پر مہر کی طرح؛ کیونکہ محبت موت کی طرح طاقتور ہے، حسد قبر کی طرح بے رحم ہے۔ اس کی چمک آگ کی چمک کی مانند ہے، رب کی شعلہ زن آگ۔ بہت سا پانی محبت کو بجھا نہیں سکتا، اور نہ ہی سیلاب اسے بہا سکتا ہے۔“ غزل الغزلات 8 : 6۔ 7 گورا چِٹّا رنگ، بھاری بھرکم بدن، لمبی لمبی مونچھیں، کانوں کے سِروں سے نکلے ہوئے

Read more

انتظارِ اقرار: صلیبیں اپنی اپنی (20)

”اور اِس دنیا کے ہم شکل نہ بنو بلکہ اپنے ذہن کی تجدید سے بدلتے جاؤ، تاکہ تم خدا کی رضا کو ، یعنی اُس کے نیک اور پسندیدہ اور کامل ارادہ کو معلوم کر سکو۔“ رومیوں 12 : 2 حالاں کہ ابھی نومبر شروع ہوا تھا اور سوئٹر پہننے کا موسم نہیں آیا تھا مگر اچانک حیدرآباد میں کوئٹہ کی ہوا سردی کی لہر لے آئی۔ عموماً دسمبر سے پہلے یہ ہوائیں نہیں چلتیں مگر معلوم ہوتا تھا کہ

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 19 : اندیشۂ انکار

” اسی واسطے مرد اپنے باپ اور اپنی ماں کو چھوڑے گا اور اپنی بیوی کے ساتھ جا ملے گا اور وہ دونوں ایک جسم ہوں گے۔ یہ بھید بڑا ہے مگر میں مسیح اور کلیسیا کے بارے میں کہتا ہوں۔“ افسیوں 5 : 31۔ 32 حیدرآباد سندھ صدیوں سے مختلف تہذیبوں، سلطنتوں، اور حکمرانوں کا مرکز رہا ہے، جس کے نتیجے میں یہ شہر ایسی تاریخی عمارتوں سے بھرا پڑا ہے جو فنِ تعمیر کے عظیم نمونے ہیں۔ ایک

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 18 : جنم جنم کا ساتھ

”اے میری روح، تُو کیوں افسُردہ ہے؟ تُو کیوں میرے اندر اتنی بے قرار ہے؟ خُدا پر توکّل کر، کیوں کہ مَیں اُس کا شکر کرتا رہوں گا جو میرا نجات دہندہ اور میرا خدا ہے۔“ زبور 42 : 11 پادری پال کو اکثر اپنا آبائی گاؤں یاد آتا تھا جو لاہور سے 50 کلومیٹر دور ہے اور کلارک آباد کہلاتا ہے۔ ان کے دادا بتاتے تھے کہ وہ گاؤں کے سب سے پہلے چرچ کی تعمیر میں خود شامل

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 17 : اظہارِ عشق کا مسئلہ

”اور ہم نے محبت کو پہچان لیا اور اُس پر ایمان لائے جو خدا ہم سے رکھتا ہے۔ خدا محبت ہے اور جو محبت میں قائم رہتا ہے وہ خدا میں قائم رہتا ہے اور خدا اُس میں قائم رہتا ہے۔“ یوحنا 4 : 16 اس زمانے میں شاپنگ کا مرکز تلک چاڑھی ہی ہوتا تھا۔ جوتے، کپڑے، کتابیں غرض جو کچھ خریدنا ہو تلک چاڑھی پر مل جاتا تھا۔ اگر شاپنگ کرتے کرتے تھک جائیں تو کیفے یونٹی میں

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 16 : منگنی کی انگوٹھی

یسُوع نے جواب میں کہا، ”کیا تم نے نہیں پڑھا کہ جس نے ابتدا میں انسان کو بنایا، اُس نے اُنہیں مرد اور عورت بنایا؟ اور کہا، اس واسطے آدمی اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر اپنی بیوی کے ساتھ ملے گا اور وہ دونوں ایک جسم ہوں گے۔ پس وہ اب دو نہیں بلکہ ایک جسم ہیں۔ لہذا جسے خدا نے ملا دیا ہے، اُسے انسان جدا نہ کرے۔“ متی 19 : 4۔ 6 کیفے جارج میں کیشیئر کے

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 15 : بلیو ڈینیوب

”اور یوں ہوا کہ جب وہ واپس آ رہے تھے، جب داؤد فلستی کو مار کر لوٹ رہا تھا، تو اسرائیل کی عورتیں سب شہروں سے گاتے اور ناچتے ہوئے، دف اور خوشی کے گیتوں کے ساتھ، بربط بجا کر ساؤل بادشاہ کے استقبال کے لئے نکلیں۔“ سموئیل اول 18 : 6 چرچ خالی ہو چکا تھا۔ مریم ہال کے وسط میں ایک نشست پر جاکر بیٹھ گئی۔ دانی ایل نے دیوار پر لگے ہوئے روشنی کو کم کرنے والے

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 14 : خداوند میرا چرواہا

” مسیح کا کلام تمہارے اندر پوری طرح بسا رہے، اور تم ہر طرح کی حکمت میں ایک دوسرے کو تعلیم دو اور نصیحت کرو، اور شکر گزاری کے ساتھ اپنے دلوں میں خدا کے لئے زبور، حمد اور روحانی گیت گاؤ۔“ کولسیوں 3 : 16 نومبر کے گلابی جاڑے میں اتوار کی صبح کو ہلکی سی خنکی ہونے کے باوجود ٹھنڈک کا احساس نہیں ہو رہا تھا۔ ہولے ہولے چلنے والی ہوا کا کوئی ہلکا سا جھونکا رخسار کو

Read more

ملاقات: صلیبیں اپنی اپنی (13)

”محبت صابر ہے، محبت مہربان ہے ؛ محبت حسد نہیں کرتی، محبت شیخی نہیں مارتی، گھمنڈ نہیں کرتی۔ یہ بے حیائی نہیں کرتی، اپنا فائدہ نہیں ڈھونڈتی، غصہ نہیں کرتی، برائی کا حساب نہیں رکھتی؛ بدکاری سے خوش نہیں ہوتی بلکہ سچائی سے خوش ہوتی ہے۔ سب کچھ برداشت کرتی ہے، سب کچھ یقین کرتی ہے، سب کچھ امید کرتی ہے، سب کچھ سہتی ہے۔“ 1 کرنتھیوں 4 : 7۔ 13 راستے بھر میں دانی ایل کو سمجھاتا آیا تھا

Read more

(12) گرانڈ پیانو: صلیبیں اپنی اپنی

”تم بگل کی آواز کے ساتھ خداوند کی ستائش کرو۔ بربط اور ستار کے ساتھ اُس کی مدح سرائی کرو۔ دف کے ساتھ اور ناچتے ہوئے اُس کی ستائش کرو۔ تار دار سازوں اور بانسلی کے ساتھ اُس کی مدح سرائی کرو۔ بلند آواز والے جھانجھ کے ساتھ اُس کی ستائش کرو۔ اونچے آواز والے جھانجھ کے ساتھ اُس کی مدح سرائی کرو۔“ زبور 150 : 3۔ 6 پادری پال ان دنوں شیر خوار بچوں کی طرح قلقاریاں مار رہے

Read more

صلیبیں اپنی اپنی (11)

”یاد کر کے سبت کا دن پاک ماننا۔ چھ دن تک تو محنت کر کے اپنا سارا کام کاج کرنا، لیکن ساتواں دن خُداوند تیرے خُدا کا سبت ہے اس میں نہ کوئی کام کرے نہ تیرا بیٹا نہ تیری بیٹی نہ تیرا غلام نہ تیری لونڈی نہ تیرا چوپایہ نہ کوئی مسافر جو تیرے ہاں تیرے پھاٹکوں کے اندر ہو کیوں کہ خُداوند نے چھ دن میں آسمان اور زمین اور سمندر جو کچھ ان میں ہے وہ سب

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 10 : سسٹر میری

”اور وہاں کے بِیماروں کو اچھا کرو اور ان سے کہو کہ خُدا کی بادشاہی تُمہارے نزدِیک آ پہنچی ہے۔“ لُوقا 10 :‏ 9 پادری پال سے ملاقات ہوئے بغیر ایک ماہ سے زیادہ ہو گیا تھا۔ اس دوران پڑھائی کی مصروفیت خاصی تھی کیوں کہ امتحانات نزدیک تھے۔ تُوما رسول پر اُن کی دی ہوئی کتاب بھی واپس کرنی تھی۔ اسی لیے میں نے اپنی میز پر کتابوں کے اوپر ہی رکھ دی تھی۔ دل چسپ کتاب تھی۔ میں

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 9 : عشق کی بیل

بڑی سے بڑی پانی کی ندیاں محبت کو نہ بجھا سکیں گی اور نہ سیلاب اسے بہا لے جائے گا۔ اگر کوئی اپنی ساری دولت محبت کے بدلے دینا چاہے تو وہ بالکل حقیر سمجھی جائے گی۔ غزل الغزلات 8 : 7 میں نئے جوتے خریدنے کے لیے سرے گھاٹ پر ایک باٹا کی دکان پر سیلز مین سے باتیں کر رہا تھا کہ کسی نے پیچھے سے آ کر میرے کندھے پر ایک دھپ ماری۔ میں نے مڑ کر

Read more

صلیبیں اپنی اپنی (8)

”میں تمہیں ایک نیا حکم دیتا ہوں کہ ایک دوسرے سے محبت رکھو کہ جیسے میں نے تم سے محبت رکھی تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو۔ اگر آپس میں محبت رکھو گے تو سب جانیں گے کہ تم میرے شاگرد ہو۔“ یُوحناّ 13 : 34۔ 35 میں جیسے ہی انکل شاہد کی گلی میں مڑا، ان کے گھر سے شور کی آواز سنائی دی۔ جوں جوں میں نزدیک پہنچا، شور بڑھتا گیا۔ معلوم ہوتا تھا کہ بہت سے

Read more

صلیبیں اپنی اپنی (7)

”میں تیرے کام اور تیری مشقّت اور تیرا صبر تو جانتا ہوں اور یہ بھی کہ تُو بدوں کو دیکھ نہیں سکتا اور جو اپنے آپ کو رسول کہتے ہیں اور ہیں نہیں، تُونے اُن کو آزما کر جھوٹا پایا۔ اور تُو صبر کرتا ہے اور میرے نام کی خاطر مصیبت اٹھاتے اٹھاتے تھکا نہیں۔“ مُکاشِفہ 2 : 2۔ 3 پادری پال کے گھر کے دروازے پر کنڈی میں ایک موٹا سا زنگ آلود تالا لٹک رہا تھا۔ انہوں نے

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 6 : دعوت اسلام

”اپنے پڑوسی کے خلاف برائی نہ سوچو، جو تمہارے پاس اعتماد سے رہتا ہے۔“ امثال 3 : 29 غریب آباد کی بستی اسم با مسمیٰ تھی۔ جھگیوں کی اس بستی میں کچھ کچے پکے مکانات بھی تھے۔ ایک روز شام کو میں وہاں سے گزر رہا تھا کہ اچانک پادری پال سے مڈبھیڑ ہو گئی۔ سامنے سے سائیکل پر آرہے تھے۔ مجھے دیکھا تو اتر گئے۔ ”آؤ میرے ساتھ، میں نے تمہارے لیے ایک کتاب رکھی ہے،“ وہ میرے کندھے

Read more

صلیبیں اپنی اپنی

”مبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں کیونکہ وہ زمین ورثے میں پائیں گے۔ مبارک ہیں وہ جو راست بازی کی بھوک اور پیاس رکھتے ہیں، کیونکہ وہ سیر ہوں گے۔ “ متی 5 : 5۔ 6 میرا روزانہ کا معمول تھا کہ یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد انکل شاہد کے گھر جاتا تھا۔ جیسے ہی دروازے میں لگی ہوئی کنڈی بجاتا، کسی بچے کی آواز آتی، ”سر آ گئے۔“ حالاں کہ دروازہ کھلا رہتا تھا مگر میں انتظار کرتا

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 4 : قربان گاہ

”اور میں تجھ سے کہتا ہوں، تو پطرس ہے، اور اس چٹان پر میں اپنی کلیسیا بناؤں گا، اور موت کے دروازے اس پر غالب نہ آئیں گے۔“ متی 16 : 18 پادری پال کا چرچ کنٹونمنٹ کے علاقے میں ایک پہاڑی پر واقع تھا۔ اس کی 1870 میں تعمیر شدہ عظیم الشان مگر سال خوردہ عمارت عہد رفتہ کی طرف انگلی اٹھاتی تھی۔ اب تو خیر اس کے گرد مکانات بن گئے ہیں مگر ایک زمانے میں شام کو

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 3: انکل اور آنٹی

پھر اُس نے اپنے شاگردوں کی طرف نظر کر کے کہا، ”مبارک ہو تم جو غریب ہو کیوں کہ خدا کی بادشاہی تمہاری ہی ہے۔ مبارک ہو تم جو اب بھوکے ہو، کیوں کہ آسودہ ہو گے۔ مبارک ہو تم جو اب روتے ہو، کیوں کہ ہنسو گے۔“ لُوقا 6 : 20۔ 21 مجھے دانی ایل نے صرف اتنا بتایا تھا کہ روزانہ شام کو ایک گھنٹہ ہوم ورک کرنے میں بہت سے بچوں کی مدد کرنی ہے کیوں کہ

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 2 : آب زمزم سے بپتِسمہ

۔ تو یوحنّا نے اُن سے جواب میں کہا، ”میں تو تمہیں پانی سے بپتِسمہ دیتا ہوں مگر جو مجھ سے زورآور ہے وہ آنے والا ہے۔ میں اُس کی جوتی کا تسمہ کھولنے کے لائق نہیں۔ وہ تمہیں روح القدس اور آگ سے بپتِسمہ دے گا۔“ لُوقا 3 : 16 یہ اُس دور کی کہانی ہے جب پاکستان کو بنے ہوئے چودہ پندرہ برس ہی ہوئے تھے۔ زندگی بڑی سادہ تھی۔ کلومیٹر کی جگہ مِیل اور فرلانگ ہوتے تھے،

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 1 : بشیر چاچا

”یہ گرجے، یہ مسجدیں، یہ مندر تو صرف کچھ لوگوں کی روزی چلاتے ہیں ورنہ خدا کو کیا پڑی کہ وہ اس کا حساب رکھے کہ کون گرجا میں جاتا ہے، کون مسجد میں، اور کون مندر میں،“ جمعدار بشیر دین کہتے، ”میرا مذہب تو بس میرے اور خدا کے درمیان ہے۔ میں پچھلے بیس سال سے کسی چرچ میں نہیں گیا مگر میرا ایمان خداوند خدا اور یسوع مسیح پر لوہے کی طرح مضبوط ہے۔ کون مائی کا لال

Read more

دیوان جی کی سمادھی

رائے بہادر دیوان پربھداس شیوک رام آڈوانی کی سمادھی پر ایک سفید الو آنکھیں بند کیے بیٹھا بے ثباتی عالم پر غور کرتا رہتا ہے۔ اس کا رنگ بگلے جیسا ہے اور پروں پر جگہ جگہ گہرے کتھئی رنگ کے چھوٹے چھوٹے دھبے اس کی خوب صورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ عموماً وہ آنکھیں بند کیے گہری سوچ میں ڈوبا رہتا ہے لیکن اگر کوئی قریب سے گزرے تو وہ آہٹ پا کر اپنی بلی جیسی پیلی پیلی آنکھیں کھول

Read more

انمول ثقافتی ورثہ: کلہوڑہ، تالپور اور میروں کے قُبّے

ایک زمانے میں حیدرآباد سندھ میں جب کینٹونمنٹ کی طرف سے ہیرآباد کے لیے پہاڑی پر چڑھتے تھے تو ایک میدان آتا تھا جس میں میروں کے مقبرے تھے جنہیں قُبے کہتے ہیں۔ میرے ناول، اے تحیر عشق میں بلال اور اس کی کزن روبینہ کے رومان کی ابتدا اسی میدان میں میروں کے قُبّوں کے برابر سے گزرتے ہوئے ہوئی تھی۔ ان مقبروں کے اندر کی دیواریں مینا کاری اور خطاطی کا اعلیٰ نمونہ پیش کرتی ہیں اور جا

Read more

شیث خان اور نیلم محل

ایک زمانے میں دلارے میاں بارہ گاؤں کے مالک تھے۔ دولت کی ریل پیل تھی، کوٹھی پر ملازمین کی فوج تعینات تھی اور دوستوں پر پیسہ پانی کی طرح بہاتے تھے۔ خدا غریق رحمت کرے، تھے بڑے ٹھسّے کے بزرگ۔ بقول شخصے ناک پہ مکھی نہیں بیٹھنے دیتے تھے۔ سج دھج اور وضع قطع کے لحاظ سے ان کے احباب میں کوئی ان کا ثانی نہیں تھا۔ سفید بَگ بَگا، کلف دار کرتہ پائجامہ، اس پر ٹسر کی بادامی اچکن، سر پر چنا ہوا پلّر، پاؤں میں باٹا کے پمپ، جن میں دیکھنے والا اپنا منہ دیکھ لے۔

Read more

سنہ 50 کی دہائی میں بچوں کا ادب

جب میری فیس بُک پر جناب اعظم طارق کوہستانی کی جانب سے دوستی کی درخواست موصول ہوئی تو میں نے اُن کے صفحے پر جاکر دیکھا تاکہ ان کے متعلق مزید معلومات حاصل کروں۔ میں صرف ان لوگوں سے دوستی کی درخواست کرتا ہوں جن کے مشاغل اور مصروفیات میں میرے یا ان کے لئے کوئی دلچسپی ہو۔ اسی طرح جب مجھ سے کوئی دوستی کی درخواست کرے تو میں بھی جاننا چاہتا ہوں کہ اس سے دوستی میں کوئی باہمی لچسپی ہوسکتی ہے یا نہیں۔ اگر اس کے صفحے پر صرف اس کی تصاویر ہوں یا ادھر اُدھر کے ویڈیو شیئر کیے ہوں تو مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہوسکتی۔

Read more

سرحد کھل گئی ہے

زمانہ بیت گیا، بال سفید ہو چکے اورچہرے پر بڑھاپے کی جھریاں ابھر آئیں، مگر وہ کچَی سڑک آج بھی آسیب کی طرح ذہن سے چپکی ہوئی ہے جس پرامی جان دیوانہ وار دوڑ رہی تھیں۔ ان کی پوری زندگی کی متاع وہ ٹاٹ کی بوری تھی جو انہوں نے سر پر اٹھا رکھی تھی۔ چلتے وقت جو کچھ ان کے ہاتھ پڑا، وہ انہوں نے بوری میں بھر لیا تھا۔ ایک چمٹا، ایک پھونکنی، ایلومینم کی کچھ دیگچیاں جو سال ہا سال کے استعمال سے سیاہ ہو چکی تھیں اور بس۔

وہ بار بار رک کر پلٹتیں اور مجھے آواز دیتیں۔ ”بیٹے! آپ ذرا تیز چلیں“۔ امی جان مجھے ہمیشہ ”آپ“ کہہ کرمخاطب کیا کرتی تھیں۔ اب مزید دوڑنے کی طاقت مجھ میں نہیں تھی۔ میری عمر ہی کیا تھی، یہی کوئی چار پانچ سال۔ ”امی جان! آپ زرا آہستہ چلیں“۔ مگر وہ پھر دوڑنا شروع کر دیتیں۔

Read more

شرافت یا جنسی بزدلی

ڈاکٹر خالد سہیل نے میرے ناول اے تحیر عشق کے کرداروں کاجنسیاتی تجزیہ کیا ہے۔ خالد سہیل اور میری دوستی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ہمارے نظریات میں 180 درجے کا تضاد ہونے کے باوجود نہ کبھی لڑائی ہوتی ہے اور نہ کبھی ایک دوسرے کو تبلیغ کرتے ہیں کیونکہ ہم دونوں لکم دینکم ولی دین پر ایمان رکھتے ہیں، مگر چونکہ یکم مئی کے ہم سب میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں انہوں نے مجھے خلعت

Read more

ٹیوشن فیس کے نادہندہ وکیل صاحب

گھر پہنچتے پہنچتے آج مجھے کچھ زیادہ ہی دیر ہوگئی تھی۔ عموماً مغرب تک پہنچ جاتا تھا۔ کالج تو چار بجے ختم ہو جاتا تھا مگر اُس کے بعد ٹیوشنیں پڑھانے کے لئے سیدھا وہیں سے چلا جاتا تھا۔ ایک ٹیوشن تو ہیرآباد میں کالج کے نزدیک ہی تھی جہاں میں تین لڑکوں کے ایک گروپ کو کیلکیولس پڑھاتا تھا۔ دوسری ٹیوشن کے لئے مجھے میمن محلّے میں جانا پڑتا تھا جو شہر کے دوسرے کنارے پر تھا۔ اُس گروپ میں چار لڑکے تھے جنہیں کیمسٹری پڑھاتا تھا۔

دونوں ٹیوشنوں سے مل ملا کر سو سوا سو روپیے مہینہ بن جاتے تھے جن میں سے اسّی روپیے اپنی والدہ کو دے دیتا اور باقی اپنے جیب خرچ کے لئے رکھ لیتا تھا۔ سب سے پہلی ٹیوشن مجھے اُس وقت ملی تھی جب میں آٹھویں کلاس میں پڑھتا تھا۔ ایک بچے کو الف بے پے سے شروع کیا تھا اور روزانہ گھنٹہ بھر پڑھاتا جس کے مجھے پانچ روپیے مہینہ ملتے تھے۔ اُس کے بعد سے اب تک بے شمار بچوں کو پڑھا چکا تھا، مگر ایک وکیل صاحب کے بچّے کی ٹیوشن ہمیشہ یاد رہتی ہے۔

Read more

جبّار دادا

مشکل یہ تھی کہ شاہی بازار میں داخل ہونے کے لئے گھنٹہ گھر سے گزرنا ضروری تھا کیونکہ شاہی بازار شروع ہی وہاں سے ہوتا ہے جبکہ تقریباً دو کلو میٹر لمبے اِس بازار کا دوسرا سرا پکّے قلعے کے سامنے ہے۔ وہاں سے گزرتے ہوئے میں جھجھکتا اِس لئے تھا کہ گھنٹہ گھر کے نیچے جبار دادا پلاؤ کی دیگ لگایا کرتے تھے۔ میں جب بھی وہاں سے گزرتا تو انہیں سلام ضرور کرتا، ”سلامالیکم جبار دادا! “ وہ ہاتھ ہلا کر مجھے بلا لیتے، ”آجا بیٹا، پلاؤ کھالے، “ اور میرے ہاتھ میں پلاؤ کی پلیٹ تھما دیتے۔

Read more