جبّار دادا

مشکل یہ تھی کہ شاہی بازار میں داخل ہونے کے لئے گھنٹہ گھر سے گزرنا ضروری تھا کیونکہ شاہی بازار شروع ہی وہاں سے ہوتا ہے جبکہ تقریباً دو کلو میٹر لمبے اِس بازار کا دوسرا سرا پکّے قلعے کے سامنے ہے۔ وہاں سے گزرتے ہوئے میں جھجھکتا اِس لئے تھا کہ گھنٹہ گھر کے نیچے جبار دادا پلاؤ کی دیگ لگایا کرتے تھے۔ میں جب بھی وہاں سے گزرتا تو انہیں سلام ضرور کرتا، ”سلامالیکم جبار دادا! “ وہ ہاتھ ہلا کر مجھے بلا لیتے، ”آجا بیٹا، پلاؤ کھالے، “ اور میرے ہاتھ میں پلاؤ کی پلیٹ تھما دیتے۔

Read more