سکول کے بعد بچوں کو کیوں پڑھا رہے ہیں؟


جدید دنیا کی ترقی اور استحکام میں تعلیم کا بڑا کلیدی کردار رہا ہے۔ تعلیم انسان کو تہذیب، ترتیب اور ہنر سکھاتی ہے۔ گزشتہ لوگوں کے تجربہ اور مشاہدہ سے روشناس کرتی ہے۔ مستقبل کے امکانات کا پیش خیمہ بنتی ہے۔ اس لیے ترقی یافتہ دنیا میں تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دی جاتی ہے اور سب سے زیادہ سرمایہ کاری تعلیم کی میدان میں کی جاتی ہے۔ پاکستان میں برٹش ہندوستان میں رائج کردہ لارڈ میکالے کی منشی بناؤ ترتیب و ترکیب کو ہم نے تعلیم سمجھ کر آزادی کے بعد بھی قبول کیا اور تاحال اسی کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔

انگریزوں کا مقصد ہندوستانیوں کو تعلیم کے ذریعہ تمدن و ترقی یافتہ بنانا نہیں تھا بلکہ وہ اپنے لیے ایٹیکیٹ کے ساتھ فرمان بردار ملازمین و مصاحب پیدا کرنا چاہتے تھے۔ وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے۔ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں ایسی نسلیں تیار ہوئیں جو انگریز فوج میں خدمات انجام دیتی رہیں۔ ہندوستان پر انگریزوں کے قبضہ کو مضبوط اور مستحکم بنانے میں ان کی معاون و مددگار بنے۔

انگریزوں کا مقصد ایک ایسی نسل تیار کرنا تھا جو ان سے انگریزی میں بات کرسکے۔ ان کے لکھے ہوئے کو پڑھ سکے اور بوقت ضرورت ان کو کچھ لکھ کر بھیج سکے۔ انگریزوں کے بنائے ہوئے رجسٹروں میں اندراج کرسکے۔ اور روزنامچے لکھ سکے۔ انگریزی لباس زیب تن کرسکے۔ ان کاموں میں جو زیادہ مہارت حاصل کرتا تھا اسے اچھی تنخواہ ملتی تھی اور وہ انگریز افسروں کے بعد ہندوستانیوں کو راہ راست پر رکھنے پر مامور کیا جاتا تھا۔ اس لیے سکولوں میں پاس ہونے کے لیے ایک تہائی نمبر لینے کے بعد بھی طالب علم کو کامیاب قرار دیا جاتا تھا۔

ہم نے اس نظام سے چھٹکارا حاصل نہیں کیا۔ اب بھی پاکستان کے سکولوں میں وہی نظام تعلیم رائج ہے۔ ہم نے گزشتہ سات آٹھ دہائیوں میں کبھی بھی خود سے اپنی ضروریات اور صلاحیتوں کا تعین ہی نہیں کیا اور اس کے حساب سے نظام تعلیم ترتیب ہی نہیں دیا۔ چونکہ ملک میں وہی بابو سسٹم رائج ہے جو انگریزوں کے دور میں تھا۔ پہلے ایک انگریز چند بابوؤں کی مدد سے سارا نظام چلاتا تھا۔ اب دیسی بابوؤں کی پوری فوج نظام چلانے میں کامیاب نہیں ہو رہی اس لیے کہ انگریز جو سربراہی کرتا تھا وہ حقیقی معنوں میں تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ تھا۔

جبکہ یہاں سربراہی کرنے والے بابوؤں سے بھی نالائق ہیں۔ انگریزوں کے دور میں امتحانوں کا نظام بہتر تھا اس لیے ہندوستانی امتحان کے لیے محنت کرتے تھے۔ انگریزی زبان پر عبور حاصل کرنے لیے جتن کرتے تھے اور لباس اور ایٹیکیٹس کا خیال رکھتے تھے۔ اب انگریز نہیں ہیں تو ان سب کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ نقل کر کے، سفارش کر کے اور زیادہ سے زیادہ رٹا لگا کر امتحان پاس کر لیا جاتا ہے۔ اب تعلیم ایک انڈسٹری بھی ہے جہاں سیٹھوں نے دکانیں کھولی ہوئی ہیں، جو زیادہ اچھی انگریزی سکھاتا ہے وہ اتنے زیادہ پیسے کماتا ہے۔

لیکن اس تعلیم کے بطن سے ایسا کچھ جنم نہیں لے رہا جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ اس کا کوئی فائدہ ہو گا۔ نوے فیصد بچے جو میٹرک کرتے ہیں وہ لکھ نہیں سکتے۔ باقی ماندہ دس فیصد کو جغرافیہ، تاریخ اور ریاضی کا عملی استعمال نہیں آتا۔ جو کتاب میں ہے اسے رٹ کر یہ بچے کامیاب ہوتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہزاروں کی تعداد میں ٹیوشن سینٹر اور اکیڈیمیاں گلی گلی کھلی ہوئی ہیں۔ جہاں وہ سب افراد جو خود تو اس تعلیم کی بنیاد پر کوئی کام یا روزگار حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے وہ دوسروں کے بچوں کو مستقبل میں کامیاب ہونے کے ہنر سکھاتے ہیں۔

لیکن اصل مذاق ان بچوں کے ساتھ انٹر کرنے کے بعد شروع ہوتا ہے جب یہ بچے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلہ لیتے ہیں۔ اس لیے کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ دنیا بھر میں چند برس کے بعد جدید تقاضوں اور ضروریات کے مطابق بدلتا جاتا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ ترقی یافتہ دنیا میں ہوتا ہے۔ پاکستان میں تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں میں جو نصاب پڑھائے جاتے ہیں وہ چالیس برس سے زیادہ پرانے ہیں۔ جبکہ ہارورڈ اور دیگر یونیورسٹیوں میں ہر برس نصاب تبدیل ہوتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے وہاں جو اساتذہ ہیں وہ مسلسل نئے علوم اور علوم کی نئی تشکیل کے لیے ریسرچ اور ٹریننگ کرتے ہیں۔ وہ ہر سمیسٹر کے بعد ریفریشر کورس کرتے ہیں۔ وہ اپنے سابقہ حاصل کردہ علم کو جدید علم اور ترقی کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہیں۔ یوں وہ دنیا کی ترقی میں حصہ بھی ڈالتے ہیں اور مستقبل کے نئے امکانات بھی تلاش کرتے ہیں۔ پاکستان میں کسی بھی کالج یا یونیورسٹی میں اس طرح کا کوئی نظام نہیں ہے اور نہ ہی کوئی استاد خود سے اس سلسلے میں کوئی محنت کرتا ہے۔

کوویڈ جب آیا تو دنیا کی یونیورسٹیوں نے اپنے آن لائن ریسورسز اور کورسز پوری دنیا کے لیے مفت دستیاب کر دیے تھے۔ آپ کو سن کر حیرت ہوگی کہ پاکستان میں ان کورسز سے صرف سات ہزار لوگوں نے فائدہ اٹھایا جن میں اساتذہ کی تعداد چارسو کے قریب ہے۔ یہ وہ کورسسز ہیں جن کو عام حالات میں ہزاروں ڈالر کی فیس دے کر لوگ کرتے ہیں اور ان کورسسز میں داخلہ مل جانا بھی ایک بڑی کامیابی تصور کی جاتی ہے۔ یہ پاکستانیوں کو مفت میں دستیاب تھیں مگر کسی نے ان کی طرف توجہ ہی نہیں دی اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ پڑھانے والوں کو اس کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔

وہ جو کچھ پڑھاتے ہیں ان کورسز سے ان میں کوئی فائدہ ملنا نہیں تھا یعنی ہمارے ہاں سارے کورسز آؤٹ اف ڈیٹیڈ ہیں۔ جبکہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے لاکھوں شہریوں نے اس سے فائدہ اٹھا یا۔ بنگلہ دیش کے تمام یونیورسٹی اساتذہ کے لیے ان کورسز میں سے دو کورس کرنے کو لازمی قرار دیا گیا۔ جس کا ان کو جو فائدہ ہوا ہے اس کا بیان کرنا مشکل ہے۔ وہ یک دم سے دنیا کے ہم پلہ ہو گئے۔ وہ ان کورسز کے بعد دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چلنے لگے ہیں۔

پاکستان میں کمپیوٹر سائنس میں جو چیزیں پڑھائی جا رہی ہیں وہ دنیا میں کب کی متروک ہو چکی ہیں۔ بزنس ایجوکیشن یا کامرس میں جو کچھ پڑھایا جا رہا ہے وہ دنیا میں کب کے ختم ہو چکی ہیں۔ دنیا اب اے آئی کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ ہماری یونیورسٹیوں میں زوالوجی، باٹنی، کیمسٹری اور سائنس کے جو دیگر مضامین پڑھائے جا رہے ہیں۔ ترقی یافتہ دنیا ان کو آج سے کئی دہائی پہلے چھوڑ چکی ہے۔ پورے پاکستان میں اطلاقی ریاضی کہیں بھی نہیں پڑھائی جاتی۔

ایسے میں اگر اپنے بچوں کو سکول ایجوکیشن کے بعد ان اداروں میں پڑھاتے ہیں تو اپنا کثیر سرمایہ ضائع کرتے ہیں۔ اپنے بچوں کو ناکارہ بنا رہے ہیں۔ ان کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ ان کا مستقبل تباہ کر رہے ہیں۔ دنیا میں یہ وقت ہے کہ اپنے بچوں کو ہنر سکھائیں۔ انہیں مستقبل کے علوم کے لیے تیار کریں۔ پاکستان میں اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے پاس وہ صلاحیت اور نظام ہی نہیں ہے جو مستقبل کی ضروریات کے مطابق آپ کے بچوں کو تیار کرسکیں۔

اب انگریزی زبان پر عبور و قدرت بھی کسی کام کی نہیں ہے اس لیے کہ اے آئی نے انگریزی کی افادیت اور ضرورت کو ختم کر دیا ہے۔ اب دنیا میں انسان کوئی بھی زبان بولتا ہو وہ ایک کلک سے اسے انگریزی اور دنیا کے کسی بھی زبان میں منتقل کر سکتا ہے۔ اس کے لیے اسے سولہ برس پڑھنے کی ضرورت نہیں رہی۔ اگر آپ کا بچہ کوئی کاروبار کرنا چاہتا ہے تو جو تعلیم پاکستان میں اس سلسلے میں دی جا رہی ہے وہ کسی بھی جگہ اس کے کام نہیں آئے گی۔

اس لیے کہ دنیا اور اس کا نظام ان بوسیدہ کتابوں اور نوٹس میں موجود ترتیب و طریقہ کار سے کہیں آگے جا چکی ہے۔ ہماری حکومتیں اندھی ہیں انہیں کل نظر ہی نہیں آ رہا۔ بنگلہ دیش اور ہندوستان ہم سے بہت آگے نکل گئے ہیں۔ وہاں نظام تعلیم ان چند برسوں میں جس تیزی کے ساتھ تبدیل ہوا ہے آپ اس کا تصور تک نہیں کر سکتے۔ بنگلہ دیش نے ہماری طرح کے روایتی نظام تعلیم کو خیر باد کہنا بھی شروع کر دیا ہے۔ وہ زمانے کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وہ اپنے نظام کو آئی ٹی پر منتقل کر رہے ہیں اور سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تھیوریٹکل تعلیم کی جگہ عملی تعلیم کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس کام کے لیے انہوں نے اساتذہ کی تربیت گزشتہ ایک دہائی سے شروع کی ہوئی ہے۔ جس کی وجہ سے وہاں بے روزگاری میں بہت زیادہ کمی واقع ہو گئی ہے۔ دس برس پہلے وہاں کی پچاس فیصد آبادی خط غربت سے نیچے تھی جسے وہ اب دس فیصد تک لے کر آ گئے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ اگلے دس برسوں میں وہ اسے زیرو پر لے کر آئیں گے۔

دنیا کی آئی ٹی مارکیٹ میں بنگلہ دیشیوں کا حصہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ بنگلہ دیشیوں کو گزشتہ دس برسوں میں کاٹیج انڈسٹری میں تربیت دے کر روزگار کا موقع فراہم کیا گیا ہے جس میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔ اب وہاں ہر گھر میں خواتین اور مرد چھوٹی چھوٹی فیکٹریاں بنا کر ملبوسات اور دیگر اشیا تیار کر رہے ہیں اور بنگلہ دیش ان چیزیں کو پوری دنیا میں بیچ کر زرمبادلہ کما رہا ہے۔ جی ڈی پی کے مستحکم ہو جانے سے بنگلہ دیش کے شہروں اور دیہات کی شکل و صورت تبدیل ہو رہی ہے۔

وہاں ترقی لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ ان کی زندگی میں سہولتیں آ رہی ہیں۔ خوشحالی آ رہی ہے اس لیے کہ انہوں نے لارڈ میکالے کے نظام تعلیم کو خیر باد کہہ کر اپنے لیے اپنے فائدہ کا نظام تعلیم ترتیب دیا ہے۔ پاکستان میں ایک نسل تیار ہو رہی ہے جن کا کام حکومت کرنا ہو گا۔ ایک نسل تیار ہو رہی ہے جس کا کام اس نسل کے لیے نعرے لگانے کا ہو گا۔ اور باقی لوگوں کو آزاد چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ چاہیں تو مجاہد بنیں، غازی بنیں، سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے ورکر بنیں۔

یا پھر ڈاکو بنیں۔ سمگلر بنیں یا جواری بنیں۔ اس وقت پاکستان کی ساٹھ لاکھ سے زیادہ نوجوان روز انٹر نیٹ پر جوا کھیلتے ہیں اور روزانہ ڈالر ہار جاتے ہیں۔ کرنسی ٹریڈنگ اور اس سے ملتے جلتے ناموں سے دنیا بھر کے ٹھگ انہیں ٹھگتے ہیں۔ مگر حکومت کی کان پر جون تک نہیں رینگتی۔ تعلیم کے موثر نہ ہونے کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ پاکستان کے نظام میں اختیار رکھنا والا ہر شخص کرپٹ ہے۔ یہ کرپشن پولیس کے سپاہی سے لے کر عدالتوں کے ججوں تک پھیلی ہوئی ہے۔

یہ نظام اس بوسیدہ تعلیم کی مرہون منت ہے۔ چونکہ اس بوسیدہ نظام کی وجہ سے کچھ حلقوں کا کاروبار چل رہا ہے اس لیے وہ اسے دوام دے رہے ہیں۔ اور اس کے بدلنے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اس ملک میں اچار سے لے کر سولر پلیٹس تک ایران سے سمگل ہو کر آرہے ہیں۔ جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو اس لیے بھرتی کیا گیا ہے کہ وہ اس ملک میں سمگلنگ روکیں گے، مگر وہ اپنے حصہ کا بھتہ لے کر اس کام میں سمگلروں کی معاونت کرتے ہیں اور انہیں سہولیات فراہم کرتے ہیں۔

اس ملک میں بھکاریوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چار کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس میں وہ مذہبی بھکاری شامل نہیں ہیں جو مدرسوں کے نام پر چندے لیتے ہیں۔ بنگلہ دیش سعودی عرب کو آئی ٹی ایکسپرٹ دے رہا ہے اور ہمارے ہاں سے ہزاروں کی تعداد میں بھکاری وہاں اپنی خدمات پیش کرنے جاتے ہیں۔ اپنے بچوں کو سکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ان اداروں میں پڑھانے کی جگہ ان کو کوئی ہنر سکھائیں۔ زیادہ بہتر ہو گا کہ جدید ہنر سکھائیں۔

انہیں کمپیوٹر کا استعمال سکھائیں، انہیں کوڈنگ سکھائیں، انہیں اے آئی میں تربیت فراہم کریں۔ وہ گھر بیٹھے دنیا بھر سے کما کر آپ کو کھلائیں گے۔ وہ موجودہ نظام تعلیم میں کالجوں اور یونیورسٹیوں سے بی ایس اور ایم ایس کرنے کے بعد نہ دنیا کے کسی کام کے ہوں گے اور نہ ہی آپ کے کسی کام آئیں گے۔ یہ ان اداروں میں جاکر چار چھ برس آپ کے لاکھوں روپے ضائع کریں گے۔ اپنا وقت ضائع کریں گے۔ اور پھر مستقل میں آپ کے لیے درد سر بنیں گے۔ اس لیے کہ اب ڈگریوں کا دور گزر گیا ہے۔ اب ہنر کا دور ہے۔ وہ ہنر جو مستقل کے نظام کے ساتھ چل سکے، حکومت کو تو اس کی سمجھ نہیں آئے گی۔ آپ والدین ہیں آپ ہی اپنے بچوں پر رحم کریں!

 

Facebook Comments HS