نئی مصنوعی دھاتیں میٹا میٹیریل ٹاپولوجیکل اور خدمت انسانیت
آج ایک نئی سائنسی دریافت بارے تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ جو آئندہ چند سالوں میں ہماری زنگی کے محور کو تبدیل کر کے رکھ دے گی۔ یہ ایک نئی مصنوعی ایجاد کردہ دھات (میٹامیٹیریل) ہے۔ جو سائنسی اصطلاح میں ٹاپولوجیکل (Topological) کہلاتی ہے۔ اس مصنوعی دھات (میٹیریل) میں سرعت کے ساتھ آواز کی لہروں کو کئی گنا زیادہ قوت سے پیدا کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ آواز پر تحقیق کرنے والے کئی ممالک کے سائنسدانوں نے مل کر اس دھات ( میٹا میٹیریل) کو ایجاد کیا ہے۔
سائنسدان بنیادی طور روشنی اور آواز کی لہروں پر تحقیق کر رہے تھے جو ان کے حساب سے ایک دوسرے سے مماثلت رکھتی ہوں۔ جب کہ وہ ان آواز کے الیکٹران بارے تحقیق کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ آواز کی سائنسی دنیا میں ایک خیالی ماڈل ”کیٹا ائیو“ زنجیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جو کسی بھی دھات کے الیکٹران کے جمگھٹے کی فزکس بارے مکمل موصلیت اختیار کیے ہوئے ہو یعنی کسی دھات میں صفر درجہ حرارت پر ہر قسم کی مزاحمت سے مبرا ہوتی ہے اور ان آواز کی لہروں میں پائے جانے والی روانی بے مثال ہوتی ہے۔ جس سے دھات کی مکینکل تھرتھراہٹ کو زیادہ طول دینے سے سینسر ٹیکنالوجی و معلوماتی آلات میں استعمال کیا جا سکے گا اور اس کے نتیجے میں نئی معیاری ایجادات کا سلسلہ چل نکلے گا۔
میٹا میٹیریل ٹاپولوجیکل (Metamaterial Topological) مصنوعی مصنوعات ہوتی ہیں جن میں انجنئیرنگ اور ٹاپولوجی کی تجرباتی ترکیب کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ مصنوعات عموماً دو عدد خواص کو ملا کر بنائی جاتی ہیں۔ پہلے ان کی میکانی خواص جو ان کی ساخت کے مواد پر مبنی ہوتی ہیں۔ اور دوئم ان کی ٹاپولوجیکل خواص جو ان کے ڈیزائن کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں۔
میٹامٹیریل ٹاپولوجیکل کو مختلف شعبوں میں استعمال کیا جا سکے گا۔ جیسے الیکٹرانکس، فوٹونکس، اور مادیاتی موجیات۔ اس کے استعمال سے غیر معمولی خواص حاصل کیے جا سکتے ہیں، جیسے غیر معمولی ٹاپولوجی، غیر معمولی طرز حرکت، اور غیر معمولی رفتار۔ میٹامٹیریل ٹاپولوجیکل کو مختلف شعبوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ٹاپولوجی کو ریاضی کی ایک شاخ بھی کہا جاسکتا ہے۔ جو دھاتوں کی سطحوں، اور ان کی خصوصیات کا مطالعہ کرتی ہے۔
اس کا استعمال مختلف شعبوں میں کیا جا سکتا ہے، مثلاً جیومیٹری، ریاضی فضائی تصورات، اور کمپیوٹر سائنس۔ انسانیت کے لئے اس کے مختلف شعبوں میں استعمال سے ٹاپولوجی کے مفاہمتی اور تجرباتی تکنیکس کا استعمال کر کے مختلف کام و فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور جیومیٹری میں ٹاپولوجی کے استعمال سے مختلف شکلوں اور فضائی ترتیب کی جزئیات کو حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس سے زمینی شکلوں جیسے جبہ، درہ اور پہاڑوں وغیرہ کا تفصیلی مطالعہ ممکن ہو سکتا ہے۔ اسی طرح کمپیوٹر سائنس میں ٹاپولوجی کی تکنیکیس اب کمپیوٹر، نٹ ورکس میں بھی استعمال ہو رہی ہیں۔ مختلف نیٹ ورکس کی حساسیت، موزونیت اور اجتماعی نیٹ ورکس کی ساخت کے لیے اس کا استعمال روز بروز بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔
روبوٹکس میں ٹاپولوجی کے تصور سے روبوٹ کی حرکت، انسانی حرکات کی ماڈلنگ، اور روبوٹ میں اس سے ماہرانہ طور بہتری کی طرف گامزن ہوا جا سکتا ہے۔
نئے مواد کی ترقی میں ٹاپولوجی کے تصورات اور ماڈلنگ کے ذریعے نئے مواد کی ترقی اور تجارتی انقلاب کا وقوع پذیر ہونا ممکن ہے، جیسے نئے میٹامٹیریلز اور نانو مواد کا ایجاد ہونا اور ان دھاتوں کا دستیاب ہونا ہے۔ بنیادی طور پرٹاپولوجی کے استعمال سے مختلف مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے گا اور اس سے مختلف شعبوں میں ترقی اور بنیادی انقلابی تبدیلیاں لائی جا سکیں گی۔
ٹاپولوجی کی مدد سے طبعی سائنس میں بھی انقلابی تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔ ٹاپولوجی کے تصورات اور تکنیکس طبعی سائنس میں مختلف شعبوں میں مدد فراہم کر سکتی ہیں، کوانٹم فزکس میں ٹاپولوجی کے تصورات کو کوانٹم کے میکانیات میں استعمال کیا جا رہا ہے، مثلاً ٹاپولوجیکل انسولیٹرز اور صوتی اثرات کے مخلوطی مواد۔ ان مواد کو استعمال کر کے انقلابی کوانٹم کمپیوٹنگ، کوانٹم کمیونیکیشن، اور قابل اعتماد کوانٹم حساب کی تکنیکیں تیار کی جا رہی ہیں۔
ٹاپولوجی کے تصورات اور اس کے تجرباتی اثرات مادیاتی سائنس میں بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ مثلاً، میٹامٹیریلز (Metamaterials) کی تیکنالوجی مختلف فوٹونکس اور الیکٹرانکس کے میدان میں انقلابی تبدیلیاں لا رہی ہے۔
ٹاپولوجی کے تصورات اور تکنیکس کو مختلف حوالوں سے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ مثلاً فضائی سفر مختلف میدانوں کی تحقیقات اور ان کا استعمال ٹاپولوجی کی روشنی میں ہو رہا ہے۔ ٹاپولوجی کے تصورات اور اس کے تکنیکس سے برقی اور مقناطیسی میدانوں میں بھی تحقیقات کا استعمال کیا جا رہا ہے جو کہ مختلف انحرافات، انسیولیٹرز، اور دیگر انقلابی تکنیکوں کی طرح ممکن ہیں۔ ٹاپولوجی کے تصورات اور اس کی تکنیکس طبعی سائنس میں انقلابی تبدیلیوں کے لیے ایک موثر ذریعہ بنتی جا رہی ہیں۔


