خصوصی نشستوں کا معاملہ: حکومت سیاسی وسیع القلبی سے کام لے
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خصوصی نشستوں کی تقسیم کے معاملہ میں سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ کے فیصلہ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پارلیمان کی قانون سازی کے اختیار کے معاملے میں امتناع کے حکم سے احتراز برتا جانا چاہیے تھا‘ ۔ حالانکہ سپریم کورٹ میں اس معاملہ کی سماعت کے دوران میں اہم ترین سوال ہی یہ رہا ہے کہ کیا کسی سیاسی پارٹی کو اس کی نمایندہ حیثیت سے زیادہ نشستیں دی جا سکتی ہیں۔
اسی حوالے سے یہ سوال بھی زیر بحث آیا کہ کیا کسی ایک پارٹی کے ارکان کو کسی بھی وجہ سے ان کے مینڈیٹ سے محروم کیا جاسکتا ہے۔ اسی پہلو پر ابتدائی غور کے بعد جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں قائم سہ رکنی بنچ نے سنی اتحاد کونسل کی پٹیشن کو سماعت کے لیے منظور کر لیا بلکہ یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب آئین یہ قرار دیتا کہ معاملات عوامی امنگوں کے مطابق طے کیے جائیں گے تو مخصوص نشستیں جیتی ہوئی نشستوں کے تناسب کے علاوہ کسی دوسرے اصول کے تحت کیسے تقسیم ہو سکتی ہیں؟ بنچ کے سربراہ جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ ’یہ تو مانا جا سکتا ہے کہ پارٹیوں کو جیتی ہوئی نشستوں کے مطابق خصوصی سیٹوں میں حصہ ملے لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ دوسروں کے حصے کی سیٹیں بھی انہیں دے دی جائیں‘ ۔ بنچ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ بھی شامل ہیں۔
سماعت کے دوران میں وفاقی حکومت کی جانب سے بھی تین رکنی بنچ پر اعتراض کیا گیا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے کہا کہ یہ اپیلیں لارجر بنچ ہی سن سکتا ہے۔ عدالت نے بنچ پر پر اعتراض مسترد کرتے ہوئے جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ابھی تو ابتدائی سماعت ہے۔ اگر اپیلیں قابل سماعت قرار پائیں تو کوئی بھی بنچ سن لے گا۔ اس سٹیج پر تو دو رکنی بنچ بھی سماعت کر سکتا ہے۔ حکومت اس تنازعہ پر طویل مدت گزرنے اور معاملہ کی سیاسی حساسیت سے قطع نظر ابھی تک اسے قانونی موشگافیوں سے حل کرنا چاہتی ہے۔ بظاہر اس کی حکمت عملی یہی دکھائی دیتی ہے کہ بنچ کی ساخت پر قانونی سوال اٹھا کر معاملہ میں تاخیر کی جائے اور اس دوران میں متنازعہ طریقے سے ملنے والی اضافی نشستوں کو اہم قانون سازی کے لیے استعمال کیا جائے۔ حکومت کا یہ طرز عمل غیر جمہوری اور مشکل سیاسی صورت حال میں اصولی فیصلوں سے گریز اختیار کرنے کا طریقہ ہے۔
اس وقت حکومت کو سیاسی وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس اصول کو مان لینا چاہیے کہ تحریک انصاف کی حمایت سے 90 سے زائد لوگ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ گو کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی بنیاد پر انتخابی نشان نہ ملنے کی وجہ سے ان ارکان نے آزاد حیثیت میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ یہ تمام ارکان تحریک انصاف کے حامی ووٹروں کی وجہ سے قومی اسمبلی میں پہنچے ہیں۔ ایسی صورت میں محض قانونی و تکنیکی بنیاد پر ملک کی سب سے بڑی پارٹی کو اس کے سیاسی نمائندگی کے حق سے محروم نہیں کرنا چاہیے۔ حکومت اور اس میں شامل تمام سیاسی پارٹیوں کو پی ٹی آئی دشمنی ظاہر کرنے کی بجائے، اس اصول پر اتفاق کرنے کی ضرورت تھی کہ حق دار کو اس کا حق ملنا چاہیے۔
تحریک انصاف نے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لئے ایک غیر معروف سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے کا فیصلہ کر ہی لیا تھا تو اس پر اعتراض کرنے کی بجائے، اسے تحریک انصاف کا حق مان لینا چاہیے تھا کیوں کہ یہ حق نمائندگی اسے عوام نے عطا کیا تھا۔ اس حق سے انکار کر کے حکومت درحقیقت عوامی نمائندگی یا آئین کے ابتدائیہ میں درج ’عوامی امنگوں کے عکاس‘ فیصلوں کے اصول سے گریز کر رہی ہے۔ دھاندلی کے الزامات، شہباز حکومت کی ساخت اور اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی سے اقتدار سنبھالنے کے افسوسناک ماحول میں اس معاملہ پر حکومت متوازن سیاسی رویہ اختیار کر کے ایک طرف ملک میں مثبت جمہوری روایت کو مستحکم کر سکتی ہے تو دوسری طرف تحریک انصاف کو مفاہمت کا ٹھوس پیغام بھیجا جاسکتا ہے۔
مخصوص نشستوں پر تحریک انصاف کے حق سے انکار کر کے اور خود ان سیٹوں پر قبضہ کر کے حکومت ایسے لوگوں کو بھی شبہ میں مبتلا کرے گی جو 8 فروری کے انتخابات کو مکمل دھاندلی شدہ سمجھنے کی بجائے، یہ مانتے ہیں کہ اس روز سامنے آنے والی بے قاعدگیاں کسی منظم اسکیم کا حصہ نہیں تھیں بلکہ ناقص انتظامی ڈھانچے کی وجہ سے کچھ غلطیاں سرزد ہوئیں جن کے نتیجہ میں انتخابات پر سوالیہ نشان اٹھائے جا رہے ہیں۔
حکومت کے پاس اب بھی یہ موقع موجود ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی اس تجویز کو قبول کرے کہ انتخابات میں دھاندلی کے معاملہ کی تحقیقات کروا لی جائیں تاکہ سب کے اطمینان کے مطابق انتخابات کی غیر جانبداری پر اٹھنے والے سوالوں کے جواب سامنے آجائیں۔ گو کہ پاکستان میں سیاسی رائے کی بنیاد پر تقسیم کا جو شدت پسندانہ ماحول راسخ کیا گیا ہے، اس کی موجودگی میں سب پارٹیاں کبھی بھی مکمل طور سے کسی ایک رائے پر متفق نہیں ہوں گی لیکن قابل اعتبار تحقیقات کے نتیجہ میں شبہات کی شدت میں کمی ضرور واقع ہو سکتی ہے۔ اسے بھی شہباز حکومت کی کمزوری ہی سمجھا جائے گا کہ وہ اس اہم مطالبے کو بدستور نظر انداز کر رہی ہے اور معاشی اصلاح کی آڑ میں انتخابی دھاندلی کے مسئلہ کو ’غیر اہم‘ بتایا جا رہا ہے۔
اسی طرح تحریک انصاف سے انٹرا پارٹی انتخابات کو درست ثابت کرنے میں ناکامی پر یا ان میں غیر ضروری تاخیر کی وجہ سے انتخابی نشان واپس لیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن کا یہ موقف درست ہو سکتا ہے کہ بیرسٹر گوہر علی کو چیئرمین بنوانے کے لیے ہونے والے پارٹی انتخابات ’جعلی‘ تھے اور پارٹی عہدیداروں کے لئے درحقیقت نامزدگیاں کی گئی تھیں۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی پاکستانی سیاست کی بھیانک سچائی ہے کہ یہاں کام کرنے والی تقریباً تمام سیاسی پارٹیاں چند افراد کے قبضے میں ہیں۔ صرف یہ کہہ دینے سے پوری سچائی بیان نہیں ہو سکتی کہ تحریک انصاف پر صرف عمران خان کا حکم چلتا ہے حالانکہ پارٹی انتخاب کو ارکان کی مرضی کا عکاس ہونا چاہیے۔
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں بھی یہی صورت حال ہے۔ ان دونوں پارٹیوں میں بھی بالترتیب شریف خاندان یا آصف و بلاول زرداری کی مرضی کے بغیر کسی شخص کو کوئی پارٹی عہدہ نہیں مل سکتا۔ ملک میں جمہوری کلچر کے فروغ کے نقطہ نظر سے سب پارٹیوں کو یہ صورت حال تبدیل کرنی چاہیے تاکہ پارٹیوں اور ملکی سیاست میں کارکنوں کی اہمیت و طاقت میں اضافہ ہو اور اس طرح جمہوری طریقے متعارف ہو سکیں اور فرد واحد کو عقل کل مانتے ہوئے تمام فیصلے اسی کے اشاروں پر نہ کیے جائیں۔ تحریک انصاف کے معاملہ میں الیکشن کمیشن کے اعتراضات کے بعد سب پارٹیوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں تھے۔ تاکہ ایک برے رواج سے نجات حاصل کی جا سکے۔ تاہم دیکھا جاسکتا ہے کہ اس واقعہ سے سبق سیکھنے کی بجائے مخالف سیاسی عناصر الیکشن کمیشن یا سپریم کورٹ کے فیصلہ کی آڑ میں تحریک انصاف کو نشانہ بنانے پر مصر ہیں۔ حالانکہ یہ حقیقت بھی سب پر عیاں ہے کہ عمران خان کی شخصی مقبولیت ہی تحریک انصاف کی اصل طاقت ہے۔ کوئی اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ عمران خان کے نامزد کیے ہوئے کسی شخص کو پارٹی کارکن ماننے سے انکار کر دیں۔ جب یہ سچائی اس حد تک واضح ہے تو اصلاح احوال سے پہلے اسے قبول کرنا عوامی رائے کا احترام کرنے کے مماثل ہو گا۔
مخصوص نشستوں کے حوالے سے بھی حکومت کا مقدمہ کمزور اور غیر جمہوری ہے لیکن اس کے نمائندے اس سچائی کو ماننے پر تیار نہیں ہیں کیوں کہ موجودہ طریقہ تسلیم کر لینے کی صورت میں حکمران جماعتوں کو چند فالتو نشستیں مل جائیں گی۔ قومی اسمبلی کی مخصوص نشستوں میں سے مسلم لیگ (ن) کو 16، پیپلز پارٹی کو 5 اور جمعیت علمائے اسلام کو 4 فالتو نشستیں حاصل ہوئی ہیں جو سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی دائر پٹیشن کے مطابق درحقیقت اس کا استحقاق تھا کیوں کہ تحریک انصاف کی حمایت سے منتخب ہونے والے 90 سے زائد آزاد ارکان نے سنی اتحاد کونسل میں شرکت اختیار کی تھی۔ الیکشن کمیشن کے فیصلہ میں یہ سقم موجود تھا کہ اس نے نہ صرف تحریک انصاف یا سنی اتحاد کونسل کو یہ سیٹیں دینے سے انکار کیا بلکہ ان مخصوص نشستوں کو دوسری پارٹیوں میں بانٹ دیا۔ اب یہی سوال سپریم کورٹ کے فاضل ججوں نے اٹھایا ہے کہ کیا کسی ایک پارٹی کا مینڈیٹ کسی دوسری پارٹی کو دیا جاسکتا ہے؟ سپریم کورٹ قانونی و آئینی میرٹ پر اس کا فیصلہ کرے گی لیکن حکومت کو اس سے پہلے ہی اس بارے میں سیاسی موقف اختیار کرنا چاہیے۔
موجودہ صورت حال میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا یہ موقف کمزور ہے کہ ’سپریم کورٹ کو ایسے حکم جاری کرنے میں احتیاط برتنی چاہیے جن سے منتخب رکن کے قانون سازی کے اختیار پر زد پڑتی ہو۔ ایسے معاملہ میں تو زیادہ احتیاط برتی جاتی ہے۔ آرٹیکل 67 واضح ہے کہ رکن کی طرف سے کی گئی قانون سازی قانونی نا اہلیت کے باوجود برقرار رہتی ہے‘ ۔ البتہ یہ دلیل دیتے ہوئے وہ اس سچائی کو مکمل طور سے نظر انداز کر رہے ہیں کہ تحریک انصاف کے ارکان عوامی ووٹ لے کر اسمبلیوں کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ آئینی اسکیم کے تحت انہیں مخصوص نشستوں میں حصہ ملنا چاہیے۔ کجا حکومتی پارٹیاں بندر بانٹ کے ذریعے اس حصے پر قابض رہنا چاہتی ہیں۔
حکومت کی بنیادی پریشانی یہ ہے کہ تحریک انصاف یا سنی اتحاد کونسل کو نشستیں واپس کرنے کی صورت میں اسے پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت حاصل نہیں رہے گی بلکہ کسی بڑی آئینی اصلاح کے لئے تحریک انصاف کو بھی ساتھ ملانا پڑے گا۔ تاہم اس معاملہ کو اگر وسیع جمہوری تناظر میں دیکھا جائے تو سب پارٹیوں کے رائے سے ہونے والی آئینی ترمیم غیر متنازعہ اور قابل قبول ہوگی۔ اگر بڑی اپوزیشن پارٹی کا حق غصب کر کے آئین سے چھیڑ چھاڑ کی گئی تو یہ ایک وسیع البنیاد سیاسی و آئینی تنازعہ کا سبب بنے گی۔


