عام اے سی اور انورٹر اے سی میں کیا فرق ہے اور بہتر آپشن کیا ہے؟

عمیر سلیمی - بی بی سی اردو، اسلام آباد


اے سی
شدید گرمی کے موسم میں اکثر پنکھے کی ہوا بھی گرم ہی محسوس ہوتی ہے مگر ہم ایئر کنڈیشنر چلانے سے اس لیے کتراتے ہیں کہ اس سے ہمارا بجلی کا بِل کئی گنا بڑھ جائے گا۔

ماضی کے مقابلے اب صارفین ایئر کنڈیشنر خریدتے وقت اس چیز کا زیادہ خیال رکھتے ہیں کہ اس کی بجلی کی کھپت کتنی ہوگی اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ایسا اے سی خریدا جائے تو کم توانائی پر چلنے کے ساتھ ساتھ گھروں کو ٹھنڈا رکھ سکے۔

تاہم اے سی خریدتے وقت صارفین کے سامنے ’بی ٹی یو‘، ’ای ای آر ریٹنگ‘، ’ٹی تھری کمپریسر‘ سمیت ایسی اصلاحات آتی ہیں جن کے بارے میں وہ لاعلم ہوتے ہیں۔

ہم نے اس تحریر میں یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ پرانے ونڈو اے سی، سپلٹ اے سی اور انورٹر اے سی میں کیا فرق ہوتا ہے اور اے سی استعمال کرنے والے صارفین کو توانائی کی بچت کے اعتبار سے کن چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے۔

اے سی

پرفارمنس کے اعتبار سے ونڈو اے سی بہتر ہوتے ہیں مگر انھیں چلانے کے لیے زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے اور اس طرح بجلی کا بل زیادہ آتا ہے

پرانے ونڈو اے سی جن کی بجلی کی کھپت زیادہ ہوتی ہے

چاہے بات ونڈو ایئر کنڈیشنر کی ہو یا سپلٹ اے سی کی، ان سب میں کمپریسر، کنڈینسر اور کولنگ فین جیسے پارٹس مشترک ہیں اور ان کے کام کرنے کا طریقہ کم و بیش ایک ہی طرح کا ہوتا ہے مگر ان کے دام اور بجلی کی کھپت میں واضح فرق ہوتا ہے۔

کم قیمت میں دستیاب ونڈو اے سی میں تمام پارٹس (کنڈینسر، کمپریسر، ایویپوریٹر وغیرہ) ایک ہی یونٹ میں لگے ہوتے ہیں اور اسے عموماً کھڑکی میں نصب کیا جاتا ہے۔ پرانے ونڈو ای سی کا شور بھی زیادہ ہوتا ہے۔

ایئر کنڈیشنر کی مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق ونڈو اے سی کی قیمت کم ہے تاہم اسے چلانے کے لیے زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے کیونکہ اس کی انرجی ریٹنگ (ای ای آر) کم ہے۔ کسی بھی اے سی کے ای ای آر سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بجلی کی فی واٹ کھپت کے ساتھ کتنی ٹھنڈک دینے کی صلاحیت ہے۔

جتنی زیادہ ای ای آر ریٹنگ ہو گی، ایک اے سی اتنی ہی زیادہ بچت کرے گا۔ اس سے بجلی کا بل بھی کم آئے گا۔

اسی لیے اب پاکستان سمیت مختلف ملکوں میں اکثر گھریلو صارفین ونڈو اے سی کے استعمال سے اجتناب کرتے ہیں۔

ایئر کنڈشنر

انورٹر اے سی بنانے والی مختلف کمپنیاں جیسے ہائیر، ڈائیکِن، ٹی سی ایل سمیت دیگر کا کہنا ہے کہ جدید انورٹر ایئر کنڈیشنر میں توانائی کی بچت کے لیے کمپریسر کی موٹر کی رفتار کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جاتا ہے

’انورٹر ٹیکنالوجی‘ والے نئے سپلٹ اے سی کیسے بجلی کی بچت کرتے ہیں؟

اکثر گھروں میں اب ہمیں سپلٹ اے سی ہی نظر آتے ہیں جن کے اِن ڈور یونٹ میں ’ایویپوریٹر‘ جبکہ آؤٹ ڈور یونٹ میں کپمریسر اور کنڈینسر نصب ہوتے ہیں۔

سپلٹ اے سی کی مزید دو اقسام ہیں: انورٹر اور نان انورٹر۔

کمپریسر کو کسی بھی اے سی کا ’دل‘ سمجھا جاتا ہے۔ یہ کنڈینسر کے ساتھ مل کر آپ کے کمرے میں ٹھنڈی ہوا کا بندوبست کرتا ہے۔

انورٹر اے سی بنانے والی مختلف کمپنیاں جیسے ہائیر، ڈائیکِن، ٹی سی ایل سمیت دیگر کا کہنا ہے کہ جدید انورٹر ایئر کنڈیشنر میں توانائی کی بچت کے لیے کمپریسر کی موٹر کی رفتار کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔

مارکیٹ میں وہ انورٹر اے سی سب سے مہنگے ہیں جو سب سے زیادہ بجلی کی بچت کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان کی ای ای آر ریٹنگ سب سے بہتر ہوتی ہے۔ انھیں ’ویری ایبل سپیڈ کمپریسر‘ والے اے سی بھی کہا جاتا ہے۔

جبکہ اس کے مقابلے قدرے سستے نان انورٹر سپلٹ اے سی میں موٹر مسلسل ایک ہی رفتار سے چلتی رہتی ہے۔ اس سے بجلی کی کھپت زیادہ رہتی ہے۔ کیونکہ جب کمرہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے تو نان انورٹر اے سی کی کمپریسر موٹر بند ہوجاتی ہے۔ کمرے کو دوبارہ ٹھنڈا کرنے کے لیے اسے پھر چلانا پڑتا ہے اور اس پورے عمل میں نسبتاً زیادہ توانائی خرچ ہوتی ہے۔

کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ فُل انورٹر اے سی میں توانائی کا ضیاع کم ہوتا ہے۔ کمرے کو ٹھنڈا یا گرم کرنے کے لیے کمپریسر موٹر اپنی رفتار کم یا زیادہ کرتی رہتی ہے۔

اس کو سمجھنے کے لیے ہم کسی بھاگتے ہوئے شخص کی مثال لے سکتے ہیں۔ نان انورٹر کے کیس میں، یہ شخص فُل سپیڈ پر بھاگتا ہے اور تھک جانے پر آرام کرنے لگتا ہے اور پھر بھاگنے لگتا ہے۔

مگر انورٹر کے کیس میں یہ شخص اپنی رفتار کم یا زیادہ کرتا رہتا ہے تاکہ اسے رُکنا نہ پڑے، یعنی یہ اپنی توانائی کو بچاتا رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اے سی

کمپریسر کو کسی بھی اے سی کا ’دل‘ سمجھا جاتا ہے۔ یہ کنڈینسر کے ساتھ مل کر آپ کے کمرے میں ٹھنڈی ہوا کا بندوبست کرتا ہے

آپ کے لیے کون سا اے سی بہتر رہے گا؟

سید وجیہہ الدین کراچی میں کئی سال سے اس شعبے سے وابستہ رہے ہیں۔ بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ پرفارمنس کے اعتبار سے ونڈو اے سی بہتر ہوتے ہیں مگر انھیں چلانے کے لیے زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے اور اس طرح بجلی کا بل زیادہ آتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ نان انورٹر اے سی ان علاقوں کے لیے بہتر ہیں جہاں ان کا استعمال کم ہو۔ ’اگر آپ کا استعمال سات سے آٹھ گھنٹوں سے زیادہ نہیں وہاں نان انورٹر موثر ثابت ہوتے ہیں۔‘

تاہم ’انورٹر (اے سی) وہاں لگائے جاتے ہیں جہاں آپ کا استعمال زیادہ ہے یعنی کم از کم آٹھ یا 10 گھنٹے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’زیادہ گرم علاقوں میں انورٹر اے سی چلانا بہتر ہے کیونکہ اس کی بجلی کی کھپت کم ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ انورٹر اے سی کمرے کا درجہ حرارت کم کرنے کے بعد ’اپنے امپیئر ڈراپ کرتا ہے۔۔۔ ضروری ہے کہ انورٹر اے سی کو 26 ڈگری سیلیئس پر چلایا جائے کیونکہ یہ ڈیزائن ہی اس درجہ حرارت پر چلانے کے لیے ہوا ہے۔‘

وجیہہ الدین نے کہا کہ ’اگر انورٹر اے سی کو اس سے کم درجہ حرارت پر چلایا گیا تو وہ کولنگ تو اچھی کرے گا مگر امپیئر ڈراپ نہیں کرے گا‘ یعنی اس سے بچت نہیں ہو پائے گی۔

ایئر کنڈشنر

اے سی کے ’بی ٹی یو‘ اور ’ای ای آر ریٹنگ‘ کیا ہیں؟

جب بھی آپ اے سی خریدنے جائیں تو عموماً آپ کو وہاں ’ایک ٹن‘، ’دو ٹن‘ یا ’ڈیڑھ ٹن‘ کے حساب سے مختلف سائز کے اے سی نظر آئیں گے۔

ایئر کنڈشنر کی درجہ بندی ’برٹش تھرمل یونٹ‘ (بی ٹی یو) میں کی جاتی ہے جس سے مراد ہے کہ وہ فی گھنٹہ کتنی گرمی دور کر سکتے ہیں۔

ایک ٹن سے مراد 12 ہزار بی ٹی یو ہے۔ امریکی محکمۂ توانائی کے مطابق ایک مربع فٹ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے 20 بی ٹی یو درکار ہوتے ہیں۔

وجیہہ الدین کہتے ہیں کہ کئی صارفین کمرے کی لوڈ کیلکولیشن صحیح طریقے سے نہیں کر پاتے، اس لیے ضروری ہے کہ کمرے کے حساب سے اے سی لگایا جائے۔ ’اگر بڑے کمرے میں چھوٹے سائز کا اے سی ہوگا تو اے سی کمرے کا درجہ حرارت کم نہیں کر پا رہا ہوگا اور اس کے امپیئر نیچے نہیں آئیں گے۔‘

امریکی محکمہ توانائی کے مطابق صارف کے لیے یہ مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ کمرہ کتنا بڑا ہے، یہاں کتنی کھڑکیاں ہیں، کیا یہ دھوپ سے محفوظ ہے، دیوار اور چھت سے کس حد تک گرمی رُک رہی ہے، باہر سے کتنی ہوا اندر آ رہی ہے وغیرہ۔

اس کے مطابق ہر ای سی کی ’انرجی ایفیشنسی ریٹنگ‘ (ای ای آر ریٹنگ) ہوتی ہے اور ای ای آر ریٹنگ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ایک اے سی بجلی کی فی واٹ کھپت کے ساتھ کتنی ٹھنڈک پیدا کرسکتا ہے۔

اے سی

ای ای آر ریٹنگ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ایک اے سی بجلی کی فی واٹ کھپت کے ساتھ کتنی ٹھنڈک پیدا کرسکتا ہے

زیادہ گرمی والے علاقوں میں ’ٹی تھری کمپریسر‘ والے اے سی کا مشورہ کیوں؟

ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ آیا آپ زیادہ گرمی والے علاقے میں مقیم ہیں۔

جورجیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں مکینیکل انجینیئرنگ کے پروفیسر سرینواس گرمیلا کے مطابق گرمی بڑھنے کے ساتھ بعض اے سی کمرے کو ٹھنڈا نہیں کر پا رہے ہوتے کیونکہ درجہ حرارت بڑھنے سے ان کے کمپریسر کی کارکردگی متاثر ہوچکی ہوتی ہے۔

یعنی اس طرح ان کی بجلی کی کھپت بڑھ جاتی ہے اور کمرے بھی پہلے جیسے ٹھنڈا نہیں ہو پا رہے ہوتے۔

سید وجیہہ الدین کہتے ہیں کہ کوئی بھی مخصوص اے سی خریدنے سے پہلے اسے استعمال کرنے والوں کا تجزیہ جاننا بھی ضروری ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جو لوگ استطاعت رکھتے ہیں، وہ فُل انورٹر سسٹم خریدیں۔ ان میں ٹی تھری کمپریسر نصب ہوتا ہے جو زیادہ گرمی میں بھی اچھی پرفارمنس دیتے ہیں اور ان کی ای ای آر ریٹنگ بہتر ہے‘ یعنی ان میں بجلی کی کم کھپت ہوتی ہے۔

ایئر کنڈیشنرز بنانے والی کمپنیوں نے ان میں نصب کیے جانے والے کمپریسرز کی بھی درجہ بندی کر رکھی ہے۔ ان میں ٹی ون، ٹی ٹو اور ٹی تھری کمپریسرز شامل ہیں۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ٹی ون کمپریسر والے اے سی 43 ڈگری سیلیئس کے درجہ حرارت تک موثر طریقے سے چلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ ٹی تھری کمپریسر 50 ڈگری سیلئیس کے درجہ حرارت میں بھی کام کر سکتے ہیں۔

کیا اے سی کو 26 ڈگری سیلسیئس پر چلانے سے بچت ہوتی ہے؟

پاکستان اور انڈیا سمیت کئی ممالک میں حکام کی جانب سے یہ تجویز دی جاتی ہے کہ ایئر کنڈشنر کو 26 ڈگری سیلیئس پر چلائیں تاکہ آپ کا بجلی کا بل کم آئے۔

امریکی حکومت کے حمایت یافتہ پروگرام انرجی سٹار کے مطابق آپ کو دن کے مختلف اوقات کے تحت اے سی کا درجہ حرارت 25 سے 29 کے بیچ رکھنا چاہیے جس سے آپ سالانہ ’180 ڈالر بچا سکتے ہیں۔‘

دریں اثنا وجیہہ الدین کہتے ہیں کہ گھریلو صارفین کو سال میں دو بار اے سی کی سروس کرانی چاہیے۔

وہ کراچی کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ فضائی آلودگی کے باعث گرد و غبار سے اے سی کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔

ان کے مطابق ’اگر اے سی کی بروقت صفائی نہ کی جائے تو اسے کمرے کو ٹھنڈا کرنے میں زیادہ وقت لگتا ہے، یعنی بجلی کی کھپت بڑھ جاتی ہے۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33095 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments